جنگلی حیات کو بچانے والی باہمت مسلح خواتین

زمبابوے کے بعض علاقوں میں جانوروں کے غیرقانونی شکار میں تیزی سے کمی آرہی ہے جس کی وجہ یہ 100 فیصد خواتین رینجزر کا ایک گروہ ہے جو مسلح ہوکر جنگلی حیات کو بچارہا ہے۔

اس گروہ کو آکاشنگا کا نام دیا گیا ہے جس میں شامل باہمت خواتین قیمتی جانوروں کو بچاتی ہیں اور ان کے شکاریوں سے مسلح لڑائی بھی کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف تین سال کی مدت میں جانوروں کو بچانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

2017ء میں صرف خواتین پر مشتمل جنگلی حیات کے نگرانوں (رینجرز) کی ایک ٹیم بنائی گئی اور اس کے نتیجے میں زمبابوے میں اب ہاتھیوں کے شکار اور اموات میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس گروہ کو آکاشنگا کا نام دیا گیا جو مقامی شونا زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ’بہادر‘ ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی اینٹی پوچنگ فاؤنڈیشن ( آئی اے پی ایف) کی ایما پر بنائی گئی ہے۔

12 اگست کو ہاتھیوں کے عالمی دن پر نیشنل جیوگرافک چینل نے اس موضوع پر ایک مختصر فلم بنائی ہے جس میں خواتین کو دورانِ تربیت کہا جارہا ہے کہ اس مشن میں ان کی جان بھی جاسکتی ہے کیونکہ غیرقانونی شکاری پیشہ ور مجرم ہوتے ہیں اور ان کے اور جانور کے درمیان جو بھی آتا ہے اسے بھی نشانہ بننا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ اس گروہ میں شامل تمام خواتین خودمختار ہیں اور وہ خود اس پروگرام کو آگے بڑھاتی ہیں۔ وہ روز گشت پر جاتی ہیں اور اس احوال کی فلم بندی بھی کرتی ہے۔ واضح رہے کہ خواتین کی تربیت آسٹریلیا کے فوجیوں نے کی ہے۔

اس گروہ میں شامل خواتین کی اکثریت گھریلو تشدد اور جنسی ہراسانی کی شکار رہ چکی ہے۔ اب خواتین کا گروہ 115 مربع کلومیٹر جنگل کا جائزہ لیتا ہے ۔ اس علاقے میں وائلڈ لائف کے علاوہ شیر اور گینڈے بھی موجود ہیں۔ تاہم ہاتھیوں کی تعداد 85 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

شکاری بہت چالاکی سے کھانے میں زہر ملاتے ہیں اور جگہ جگہ پھندے لگاتے ہیں جن میں چھوٹے جاندار بھی زخمی یا موت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ منصوبے کےتحت 2025ء تک 1000 خواتین کو اس فورس کا حصہ بنایا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو