ہماری طرح کئی عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والے ہیں، یو اے ای

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ دیگر کئی عرب ممالک بھی اسرائیل سے سفارتی قائم کرنے کے مختلف مراحل میں ہیں۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے ویڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متعدد عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے مختلف مراحل میں ہیں۔ خطے کو اس سلسلے میں پیش رفت کی ضرورت ہے۔

انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات گرم جوشی کے ساتھ آگے بڑھیں گے کیوں کہ اردن اور مصرف کی طرح ہم نے کبھی اسرائیل سے کوئی جنگ نہیں لڑی۔

اماراتی وزیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں سفارت خانہ یروشلم کے بجائے تل ابیب میں قائم کیا جائے گا۔ واضح رہے 2018 میں امریکا یروشلم پر اسرئیلی قبضے اور دعوے کو تسلیم کرکے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ہمیشہ یہودی آباد کاری کے مقابلے میں ہماری جانب مدد کے لیے دیکھتے تھے ہم نے اسرائیل کے اس اقدام کو روکنے کے لیے امریکی ثالثی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو قیمتی موقعہ سمجھا۔ دونوں ممالک کے مابین ہونے والا یہ ایک مفید معاہدہ ہے۔

واضح رہے 13 اگست کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معمول کے سفارتی قیام کا معاہدہ طے پاچکا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کی براہ راست فون کنیکشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سفارتی تعلقات سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق رائے ہوچکا ہے۔

اس معادے پر مسلم دنیا میں ملا جلا ردعمل سامنے آٰیا ہے۔ ترکی ، ایران اور فلسطین نے اس کی کھل کر مخالفت کی ہے جب کہ سعودی عرب نے فلسطنیوں کے ساتھ کسی معاہدے کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مسترد کردیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو