موسم برسات میں جلدی امراض سے کیسے رہیں محفوظ؟

آلودہ ہوا خواہ گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے ہو یا صنعتوں کے فضلات کی وجہ سے ہو، ہوا میں مختلف اجزاء میں تبدیلی کے ساتھ کئی جراثیم کی افزائش کا سبب بھی بنتی ہیں۔

انسان کی جلد جہاں جراثیم کی وجہ سے بیمار ہوتی ہے وہاں مختلف کیمیائی ردِعمل سے بھی تغیر پذیر ہوتی ہے۔(مثلاً آکسیڈیشن یا ریڈکشن کا عمل)، جس طرح اگر کوئی شخص اپنے سر کے بالوں کو کنگھی کر کے آلودگی سے بھرے علاقے جاتا ہے ، تو اس کے بال خشکی کی وجہ سے نہایت عجیب شکل اختیار کرتے ہیں، اور چہرے کی رنگت بھی زردی مائل ہوتی ہے، ساتھ ہی جِلد کے کئی خلیات ہوا میں موجود دخانات (کاربن ڈائی آکسائیڈ) سے متاثر ہوتے ہیں۔

اسی طرح موسمِ برسات میں ہوا میں موجود نمی سے جِلد پر دانے ،خارش،کیل مہاسے وغیرہ نمودار ہوجاتے ہیں ۔جس طرح خشک ماحول میں جراثیم اُڑتے پھرتے ہیں ،اس کے برعکس موسم ِبرسات میں جراثیم کم اُڑتے ہیں، مگر جس جگہ بیٹھتے ہیں، وہاں اپنے سَمّی (زہریلے) مواد خارج کرتے ہیں، جب ان کا جلد کے ساتھ ردِعمل ہوتا ہے تو جلد بیمار ہوجاتی ہے خواہ یہ بیماری دانوں کی شکل میں ہو یا خارش کی صورت میں۔

پانی کسی بھی شے کو زندہ رکھنے کے لیے ایسی ضروری ہے کہ مٹی پر جاندار پودے نکل آتے ہیں، اسی طرح نمی چھوٹے چھوٹے جراثیم کی افزائش کے لیے عمدہ آثارِ حیات مہیا کرتی ہے، اکثر جراثیم پیرازائیٹ ہوتے ہیں یعنی جب خود افزائش پاتے ہیں تو اپنی میزبان (انسانی جلد) کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے علم طب کے مطابق خشکی پیدا کرنے سے ایسے اجسام مر جاتے ہیں۔

آلودہ ہوا میں موجود مختلف کیمیائی اجزاء پانی کے ساتھ ایک نیا تیزابی محلول بنا دیتے ہیں مثلاً اگر ہوا میں گندھک جیسے اجزاء ہیں تو بارش کا پانی ان کے ساتھ خاص محلول’ سلفیورک ایسڈ‘ بناتا ہے، جب یہ پانی انسان کے سر اور جلد پر گرتا ہے تو جلد وغیرہ کو جلا دیتا ہے حتی کے کئی عمارات کے رنگ کو خراب کردیتا ہے۔

اگر ہوا میں ’نائیٹروجن ‘محلول ہے تو ’نائیٹروجن آکسائیڈ ‘ کی بارش ہوتی ہے، الغرض یہ سب زہریلے تیزاب ہیں ، یہ گنجاپن کے علاوہ جلد پر شدید خارش پیدا کرتے ہیں۔ دھواں جو گاڑیوں سے خارج ہوتا ہے ، اس میں جلے ہوئے ایندھن کے اجزاء ہوتے ہیں جو ہوا میں جمع ہو جاتے ہیں سادہ پیٹرول کو تو کوئی ہاتھ میں لگانا پسند نہیں کرتا، مگر بارش کے ہمراہ ایک خاص محلول کی شکل میں یہ پیٹرول ہماری آنکھوں ، بال اور جلد تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے برسات کے موسم میں جلد پر نت نئے امراض نمودار ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہوا میں موجود چھوٹے چھوٹے ذرات بھی بارش کے ساتھ ہماری جلد پر گرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں جلد کے مسامات بند ہوجاتے ہیں ،اب پسینہ اور دیگر زہریلیا مواد جو جسم پسینے کی راہ خارج کرتا ہے، رُک جاتے ہیں اور خارش، جلد پر دھبے،چکتے وغیرہ کا سبب بنتے ہیں۔جِلد کی راہ خون کی گرمائی بھی خارج ہوتی ہے، اور مسامات کے بند ہونے سے یہ گرمائی اندرونِ خلیات گُھٹ جاتی ہے،جس سے جلد پر جلن کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

مثال ایسی ہے کہ ناک میں جب زیادہ دیر مخاط (ریٹھ) ٹھہر جاتی ہے تو پھنسیاں رونما ہوجاتی ہے اور ناک میں چبھن کی تکلیف سے دوچارہونا پڑتا ہے، ان کی وجہ بھی یہی ہے کہ ریٹھ ناک کے اندر کے مسامات کو عارضی طور پر بند کر دیتی ہے،جس کے نتیجے میں پھتسیاں نکلتی ہیں۔ نیز دانے، پھوڑے، خون بہنا، چکتّے، سرخ پھنسیاں وغیرہ سب اپنے اندر رطوبت لیے ہوتے ہیں۔

ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے جومرہم لگایا جاتا ہے، وہ کیمیائی طور پر انہیں خشک کردیتا ہے، یہاں تک کے کھرنڈ جم جاتی ہیں، البتہ برسات کے موسم میں کھرنڈ اس لیے دیر سے بنتی ہے کہ موسم میں موجود نمی کی وجہ سے جلد کے زہریلے مواد دیر سے خشک ہوتے ہیں۔

معالج جب مشاہدہ کرلیتا ہے کہ یہ خارش مسامات میں کچھ پھنسنے کی وجہ سے ہوتی ہے تو تیل کی مالش کی ہدایت اس لیے کرتے ہیں کہ ذرہ پھسل جائے یوں مریض کو اس خارش سے نجات مل جاتی ہے مگر نم مواد کی وجہ سے اکثر دانے یا پیپ والے دانے کے علاج میں سفوف کے چھڑکنے کی ہدایت کی جاتی ہے جو زہریلی رطوبت کو خشک کرے۔ طب میں کہا جاتا ہے کہ ورزش سے جلد نکھرتی ہے، اس کی یہی وجہ ہے کہ تیز پسینہ مسامات کو کھول دیتا ہے۔

موسمِ برسات میں جلدی امراض سے کیسے بچیں:

1 ۔ جلد پر ’ٹالکم پاوڈر ‘ یا سفوف سنگ جراہت پھیلائے رکھیں۔

2 ۔ بارش کے پانی میں نہ بھیگیں ، اگر بھیگنا پڑے تو اچھے صابن سے نہا لیں۔

3 ۔ صبح کو غسل کے بعد جسم پر’ اینٹی سیپٹک‘ لوشن لگائیں۔

4 ۔ بارش میں بھیگنے کے بعد اگر جلد پر جلن ہو تو ’اینٹی ہسٹامن ‘دوائیں لیں۔

5 ۔ موسم برسات میں ٹھنڈی غذاؤں کا استعمال نہ کریںورنہ معدہ خراب ہوجاتا ہے۔

علاج

1 ۔ اگر جلد پر سرخ دانے نکلیں تو ’سفوف جدوار‘ چھڑکیں۔

2 ۔ اگر پھنسیاں رونما ہو ں تو روغنِ خشخاش کی مالش مفید ہے۔

3 ۔ اگر پیپ کے دانے جلد پر نکل آئیں تو مصفی ِخون قہوے کے علاوہ اسگندھ کے سفوف کو چھڑکیں۔

4 ۔گول چکتّوں کی صورت میں ’جل ایلوویرا‘ مفید ہے۔

ایلوپیتھی علاج

اینٹی الرجک دوا ء دیں اور دانوں ، چکتوں پر مرہم ’بیٹا میتھاسون ‘ اور’ سیلی سک ایسڈ‘ ملیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو