مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم جاری، مزید 3 کشمیری نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور وادی میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو ایک برس بھی ہوچکا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں گھر گھر تلاشی کے دوران 2 نوجوانوں کو شہید کیا جب کہ ضلع کپواڑہ میں ایک نوجوان کو شہید کیا۔

اس کے علاوہ جموں کے علاقے پونچھ اور رمبان میں گھر گھر تلاشی کے دوران دو نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست 2019 کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل آرٹیکل 370 کو ختم کردیا اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کر دیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جب کہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر الیے۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا تھا۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو