کیلی فورنیا میں 3 روز کے دوران بجلی گرنے کے 10 ہزار واقعات

امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے شمالی علاقے میں تین روز کے دوران بجلی گرنے کے دس ہزار واقعات کے سبب آگ پچاس ہزار ایکڑ تک پھیل گئی ہے.

درجنوں مکانات نذر آتش ہوگئے جبکہ ہزاروں دیگر آگ کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے جس کے سبب بڑی تعداد میں مکینوں کو انخلا کی ہدایت کردی گئی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق آگ نے سب سے زیادہ ناپا، سونوما اور سولانو کاؤنٹیز کو متاثر کیا ہے۔ چار سو کے قریب ایسے مقامات ہیں جہاں آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ جھلسنے سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام نے سیکرامینٹو کے نواحی شہر ویکا وئل میں لوگوں کو علاقہ جزوی طور پر خالی کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ بجلی گرنے اور درجہ حرارت گرم ہونے کے سبب آگ مسلسل پھیل رہی ہے اور ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کے باوجود آگ پر قابو پانے میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔

بیس لاکھ افراد کو بجلی کے تعطل کا سامنا ہے۔ ڈولن علاقے میں آگ لگانے کے الزام میں تیس برس کے شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

آگ کولراڈو میں بھی لگی ہوئی ہے جہاں ایک لاکھ پچیس ہزار ایکٹر رقبہ لپیٹ میں آچکا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلی فورنیا کے جنگلات میں 300 سے زائد مقامات پر لگی آگ بے قابو ہو گئی ہے جسے بجھانے کے لیے ہیلی کاپٹرز سے پانی اور کیمیکلز کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپوٹس کے مطابق کیلی فورنیا میں تیزی سے پھیلنے والی آگ نے 3 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق شدید نوعیت کی آگ سے 50 مکانات تباہ جب کہ ہزاروں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کیلی فورنیا کے جنگلات کی لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کے دوران ایک پائلٹ ہلاک بھی ہوا جب کہ 23 مقامات پر لگی شدید نوعیت کی آگ بجھانے کے لیے ہزاروں فائر فائٹرز سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب گورنر کیلی فورنیا کا کہنا ہے کہ ریاست کے جنگلات میں آگ ہزاروں آسمانی بجلیاں گرنے سے لگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا میں 72 گھنٹوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے 10 ہزار 849 واقعات رپورٹ ہوئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو