امریکا کی نائب صدارتی امیدوار کشمیر پالیسی پر گیم چینجر ہوسکتی ہیں

امریکا کے صدارتی الیکشن میں نائب صدر کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار کاملہ ہیرس کشمیریوں کی حامی نکلیں۔

امریکا کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں جوبائیڈن کو باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد کردیا ہے جب کہ کاملا ہیرس نائب صدر کے عہدے کی امیدوار ہیں۔

کاملہ ہیرس مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی بھی ناقد رہی ہیں۔

اب نائب صدارتی امیدوار نامزد ہوتے ہی انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیریوں کو یہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ دنیا میں اکیلے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کی صورت حال کو مسلسل دیکھ رہے ہیں ،اگر حالات تقاضہ کرتے ہیں تو ہمیں اس معاملے میں مداخلت کرنا ہوگی۔

خیال رہے کہ کاملہ ہیرس کے نائب صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کو جنوبی ایشیا کے ذرائع ابلاغ میں نمایاں جگہ ملی تھی جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی والدہ کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے ہے اور وہ امریکا میں بھارتی کمیونٹی میں کافی مقبول ہیں۔

امریکی سینیٹ میں کیلیفورنیا کی نمائندگی کرنے والی کاملہ ہیرس نائب صدارتی امیدوار کے لیے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔

کاملہ ہیرس کی نائب صدر کے لیے نامزدگی پر بھارتی دفاعی ویب سائٹ انڈین ڈیفینس ریسرچ ونگ نے مودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے سخت نظریات رکھتی ہیں جس پر حکومت کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ کے ساتھ تعاون کی پینگیں بڑھانے والے مودی کاملہ ہیرس کے کشمیریوں سے متعلق خیالات سے آگاہ ہیں لیکن خاموش ہیں کیونکہ انتخابات کے نتائج امریکا کشمیر پر پالیسی پر واضح اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو