نزلہ، زکام اور کھانسی کے علاج میں شہد نے اینٹی بائیوٹکس کو پیچھے چھوڑ دیا

نزلہ، زکام اور کھانسی کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس دوائیاں نہیں بلکہ قدرتی شہد زیادہ مؤثر ہے اور آکسفورڈ یونیورسٹی ماہرین نے متاثرہ افراد کو شہد استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

برطانوی طبی جریدے میں شائع نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے شہد میں قدرتی طور پر ایک ایسا مرکب موجود ہوتا ہے جو کھانسی، گلے کی خراش اور سینے کی جکڑن میں دیگر دوائیوں کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قدرتی مرکب کھانسی کے دورانیے کو 36 فیصد اور کھانسی کی شدت کو 44 فیصد تک کم کر دیتا ہے اور شہد کے استعمال سے سینے کی جکڑن میں دو دن اکے اندر افاقہ ہو جاتا ہے.

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد کے استعمال کا کوئی نقصان بھی نہیں ہے اور یہ سستا و آسانی سے دستیاب علاج ہے جب کہ اطباء بھی شہد سے علاج کو متبادل کے طور پر تجویز کرتے آئے ہیں.

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھانسی اور زکام میں کسی بھی دوسری دوا کے مقابلے میں شہد زیادہ مفید ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ماہرین کی اس تحقیق کے نتائج ’’بی ایم جے ایویڈنس بیسڈ میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ مشرقی ممالک، بالخصوص مسلمان ملکوں میں شہد کو سیکڑوں سال سے مختلف امراض کے علاج میں عام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حالیہ برسوں کے دوران مختلف سائنسی تحقیقات سے شہد کی طبّی افادیت بھی ثابت شدہ ہے۔

ان طبّی تحقیقات کی تفصیل تحقیقی مجلے ’’فارماکوگنوسی ریسرچ‘‘ کے ایک شمارے میں شائع شدہ ’’ریویو آرٹیکل‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں جو 2017ء میں آن لائن اشاعت پذیر ہوا تھا۔

البتہ نزلہ، زکام اور کھانسی میں ’’شہد چٹانے‘‘ کا گھریلو ٹوٹکا صدیوں، بلکہ شاید ہزاروں سال پرانا ہے۔ کچھ تحقیقات میں یہاں تک دعوی کیا گیا ہے کہ یہ گھریلو ٹوٹکا، دیگر تمام ادویہ (بشمول اینٹی بایوٹکس) سے بھی زیادہ مؤثر، محفوظ اور مفید ہے۔

تازہ تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے طبّی ماہرین نے بطورِ خاص نزلے، زکام اور کھانسی وغیرہ میں شہد کی مبینہ افادیت کے بارے میں کی گئی 14 سابقہ تحقیقات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جن میں مجموعی طور پر 1,761 افراد شریک تھے۔

اگرچہ اس تجزیئے کے نتیجے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ نزلہ، زکام اور کھانسی میں اینٹی بایوٹکس کے مقابلے میں شہد واقعتاً زیادہ مفید ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ ماضی میں کی گئی تحقیقات کا معیار بہت اچھا نہیں تھا اور ایسے ہر مطالعے میں کچھ نہ کچھ تکنیکی خامیاں ضرور تھیں۔

ان نکات کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر شہد کی طبّی افادیت ایک طے شدہ امر ہے جبکہ حالیہ چند عشروں کے دوران کی گئی سائنسی تحقیقات کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس بحث کو حتمی طور پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے ایک وسیع تر اور محتاط سائنسی مطالعے کی ضرورت ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو