یو اے ای، اسرائیل معاہدے پہ سعودی عرب کا ردِعمل

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یک طرفہ رویہ امن کے امکانات کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے، سعودی عرب امن معاہدے پر کار بند ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے بعد سعودی عرب کا ردِ عمل سامنے آگیا ہے۔
جرمنی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی یہودی آباد کاریوں کی یک طرفہ کارروائیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعوی عرب، عرب امن معاہدے کی بنیاد پر ہونے والے امن کے لیے پُر عزم ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ امن فلسطینوں کے ساتھ عالمی معاہدوں کے تحت ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، ایک بار امن قائم ہوجائے تو سب کچھ ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کی پیروی نہیں کریں گے، جب تک کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ہوئے بین الاقوامی امن معاہدوں کو تسلیم نہیں کر لیتا۔

فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات کی راہ ہموار کرنے کے لیے 2002ء میں عرب امن معاہدے کی شروعات کی تھی لیکن اب فلسطینیوں سے امن معاہدہ ہونے تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا کوئی راستہ نہیں ہوسکتا، ہم عرب امن منصوبے کے تحت ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

عرب امن منصوبہ کیا ہے؟

خیال رہے کہ 2002ء میں اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے بیروت میں ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جس کے مطابق عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے, تاہم اس کے لیے شرط یہ تھی کہ اسرائیل اپنی سرحد 1967ء میں ہونے والی جنگ سے پہلے والی حدود تک واپس لے جائے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کے لیے امن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ضم نہیں کرے گا اور دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر روڈ میپ بنائیں گے.

معاہدے کے مطابق امریکا اور متحدہ عرب امارات، اسرائیل سے دیگر مسلم ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، اسرائیل سے امن کرنے والے ممالک کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ سکیں گے۔

پاکستان نے بھی فلسطینیوں کو ان کا جائز حق ملنے تک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا امکان رد کردیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو