پاکستان میں کورونا ویکسین کی پہلی انسانی آزمائش جلد شروع ہوگی

پاکستان جلد ان چند ممالک میں شامل ہوجائے گا جہاں نئی کورونا ویکسین انسانوں پر آزمائی جائے گی۔ اس طرح ایک جانب تو پاکستان میں ویکسین سازی کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور دوسری جانب ملک کے ماہرین کے تجربے میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان میں ویکسین کا فیز تھری کلینکل ٹرائل جلد شروع ہوگا جس کی اجازت قومی ادارہ برائے صحت اور نیشنل ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کوآرڈنیشن، کئی نجی اور سرکاری ادارے اور بین الاقوامی کمپنیاں شرکت کررہی ہیں۔

اس ضمن میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) سے باقاعدہ اجازت مل گئی ہے۔ اس کاوش میں چین کی کین سائنو بائیو اور بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بایوٹیکنالوجی کی مشترکہ طور پر تیارکردہ ویکسین کی آزمائش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ فیز تھری کلینکل ٹرائلز میں کم سے کم ہزاروں مریضوں پر کسی ویکسین کی آزمائش کی جاتی ہے۔

اس طرح یہ پاکستان میں کی جانے والی کثیر القومی طبی آزمائش ہے اور واضح رہے کہ کین سائنو بائیو اس سے قبل چین، روس، چلی، ارجنٹائن میں شروع کرواچکی ہے اور جلد ہی اس کا آغاز سعودی عرب سے بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں آغا خان ہسپتال، انڈس ہسپتال، شوکت خانم ہسپتال، شفا انٹرنیشنل اور یو ایچ ایس لاہور جیسے ادارے اس ویکسین کی آزمائش کریں گے۔

پاکستان میں فیز 3 کلینیکل ٹرائل جیسے اقدام سے نہ صرف پاکستان میں مقامی طور پر ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور نجی و سرکاری شراکت داری کی راہیں ہموار ہوں گی. بلکہ اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر ہو گا اور یہ پاکستان میں ویکسین کی ترجیحی فراہمی اور مناسب قیمتوں کو بھی یقینی بنائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو