فیصل آباد میں رفاعی پلاٹس اور گرین بیلٹس پر قائم تمام تجاوزات ختم کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں رفاعی پلاٹس اور گرین بیلٹس پر قائم تمام پٹرول پمپس اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

فیصل آباد میں گرین بیلٹس پر قائم غیر قانونی پیٹرول پمپس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی۔

سپریم کورٹ نے دوران سماعت فیصل میں گرین بیلٹس اور رفاعی پلاٹس پر تمام غیر قانونی سرگرمیاں ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ گرین بیلٹس اور رفاعی پلاٹس کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

چیف جسٹس کا کمشنر فیصل آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر صاحب پورے شہر کے چپے چپے کا سروے کریں، زمین جس مقصد کے لیے مختص ہوئی اس پر صرف وہی کام ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا شہر میں گرین بیلٹس اور پارکس میں بنے پیٹرول پمپس ہٹ گئے؟ جس پر کمشنر فیصل آباد نے بتایا کہ دونوں جگہوں سے پیٹرول پمپس ختم کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گرین بیلٹس کی زمین پر پمپ کیسے بن گیا؟ جس پر کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ یہ زمین 30 سال پہلے لیز کی گئی تھی۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ معاملے کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں۔

کمشنر فیصل آباد نے کہا کہ عدالت کے حکم سے ہمیں طاقت ملی ہے، شہر میں گرین بیلٹس پر مزید ایسی تجاوزات ہیں، سب کے خلاف ایکشن ہو گا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حکومت پنجاب صوبے بھر میں رفاعی، گرین بیلٹس پر ایسی تجاوزات کے خلاف ایکشن لے گی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ گرین بیلٹس شہر کے پھیپھڑے ہوتے ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شہروں کا چلانا اراکین پارلیمنٹ یا ججز کا کام نہیں، ایسی جگہوں پر کمرشل سرگرمیاں انتظامیہ کی ناکامی ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے فیصل آباد کے گرین بیلٹس پر قائم پیٹرول پمپس فوری طور پر گرانے کا حکم دیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو