خواتین صحافیوں نے ہراساں کرنے کی شکایات کے انبار لگا دیے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں خواتین صحافیوں نے ہراساں کرنے کی شکایات کے انبار لگا دیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں خواتین صحافیوں سے سوشل میڈیا پر ہراسانی کا معاملہ زیر غور آیا. جہاں خواتین صحافیوں نے ہراساں کرنے کی شکایات کے انبار لگا دیے۔

اجلاس میں اینکرز غریدہ فاروقی، عاصمہ شیرازی، امبر شمسی، ریما عمر، بینظیر شاہ، منیزے جہانگیر، تنزیلا مظہر، آئمہ کھوسہ، رمشہ جہانگیر اور زیب النساء برکی نے اپنی شکایات کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کرائے۔

خواتین صحافیوں کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے پر خواتین صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور آن لائن ہراسگی ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔

عاصمہ شیرازی نے کہا کہ مجھے ہراساں کرنے کے لیے 2 بار گھر میں لوگ گھسے جب کہ غریدہ فاروقی بولیں کہ پی ٹی آئی سمیت اکثر گروپوں نے خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کےلیے ’ان آفیشل‘ اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔

صحافی بینظیر شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد اور پنجاب حکومت کے اظہر مشوانی انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔

خاتون اینکر ریما عمر نے اپنے ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا کہ خواتین کی آن لائن ہراسانی ایک ناقابل تردید حساس حقیقت ہے، کسی خاتون کی ترقی کی وجہ اہلیت کی بجائے ان کی جنسی خصوصیت کو قرار دیا جاتا ہے، جب کہ میرے شوہر کے ساتھ میری تصویر کی جگہ کلبھوشن جادھو کی تصویر لگا دی گئی۔

اس دوران پی ٹی آئی کے رکن عطاء اللہ نے بات کرنے کی کوشش کی تو چیئرمین کمیٹی بلاول بھٹو زرداری نے روک دیا اور کہا کہ خواتین صحافی آئی ہیں، انہیں سننا ضروری ہے، آپس کی بات کے لیے دو دن مزید بیٹھ سکتے ہیں۔

ہراسانی کے معاملے کو دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی زیر بحث لایا جائے گا، بلاول

اجلاس سے خطاب میں بلاول کا کہنا تھا کہ خواتین صحافیوں سے ہراسانی کے معاملے کو دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی زیر بحث لایا جائے گا اور خواتین صحافیوں کے قائمہ کمیٹی کو ریکارڈ کرائے گئے بیانات کے مسئلے کے منطقی حل تک پیروی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں محکمہ اطلاعات اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے افراد کو بھی بلایا جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سے پی پی پی ہراسانی کا شکار خواتین صحافیوں کو انصاف نہ دلا سکی تو ہم انصاف کے لیے عدالت جائیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں آن لائن ہراساں کیے جانے کے خلاف خواتین صحافیوں نے مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت پہ تنقید کرنے پر تحریک انصاف کے حامی ہراساں کررہے ہیں، لہٰذا حکومت فوری کارروائی کرے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو