زندگی کے راز چھپائے شہابیہ

23 اپریل 2019ء کو آسمان سے زمین پر گرنے والے نایاب ترین شہابئے پر اب ایک سال بعد تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس خوبصورت شہابئے کو جس درجے میں شامل کیا گیا ہے وہ کاربونیشیئس کونڈرائٹس کہلاتے ہیں اور اپنے اندر زندگی کے بہت سے راز چھپائے ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ شہابیہ سونے چاندی سے بھی قیمتی ہے اور سائنسدانوں کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔

واشنگ مشین کی جسامت کا شہابِ ثاقب ہماری زمینی فضا میں داخل ہوا اور عین کوسٹا ریکا کے اوپر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ اس کا ایک ٹکڑا سائنسدانوں کے ہاتھ لگا ہے اور گزشتہ ایک برس سے اس کا مطالعہ جاری تھا۔ خیال ہے کہ کچھ ساڑھے چار ارب سال قبل ایسا ہی کوئی پتھر زمین پر گرا اور شاید اس سے زندگی کا اولین ظہور ہوا ہوگا۔

ابتدائی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس میں کیلشیئم اور ایلمونیئم کی بڑی مقدار موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نظامِ شمسی کی گرم طشتری جب ٹھنڈی ہورہی تھی تو یہ دونوں عناصر پیدا ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر اس وقت نومولود سورج کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب شہابئے میں کیلسائٹ کی معمولی مقدار بھی موجود ہے۔ اس میں بعض نامیاتی مرکبات، گارا اور نظامِ شمسی سے پہلے کے کسی اور ستارے کی باقیات بھی موجود ہیں۔ یہ ایک غیرمعمولی دریافت ہے جس میں مزید حقائق پوشیدہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو