عالمی ریٹنگ ایجنسی کی پاکستانی معیشت اور شرح نمو میں بہتری کی پیش گوئی

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی “فچ ریٹنگز” نے پاکستان کی فارن کرنسی کریڈٹ ایشوئنس ریٹنگ “بی” منفی جبکہ آوٹ لک مستحکم قرار دی ہے۔

فچ نے پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں پاکستان کے معاشی مستقبل میں بہتری اور جاری سال میں جی ڈی پی نمو میں 1.2فیصد کے اضافے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون 2021ء تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 16ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جبکہ مالی سال 2022ء میں پاکستان کے واجبات برائے جی ڈی پی کا تناسب گھٹ کر 85 فیصد رہ جائے گی۔

فچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کورونا وباء سے قبل پاکستان کی داخلی و بیرونی مالیاتی حالات بہتری کی جانب گامزن تھے لیکن کورونا وباء کی وجہ پاکستان کو مالیاتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے لیکن زرمبادلہ کےذخائر میں اضافہ حاصل کردہ قرضوں کی بدولت ہوا لہذا فچ نے ان قرضوں کی واپسی کے دباؤ کے تناظر میں پاکستان کی فارن کرنسی کریڈٹ ایشوئنس ریٹنگ منفی ’بی‘ کی ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کی پالیسی سازی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شرح سود میں کمی بیشی کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے میکنزم کی تعریف کی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند ماہ میں آئی ایم ایف کا دوسرا جائزہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف تیسری قسط جاری کردے گا۔

ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ کہ سعودی عرب قرضوں کی مد میں 1 ارب ڈالر کی وصولی کے بعد باقی ماندہ 2 ارب ڈالر کے قرضے معاہدے کے مطابق مقررہ مدت میں ہی واپس لے گا۔ فچ کے مطابق پاکستان رواں سال کے دوران 10.3 ارب ڈالر جبکہ مالی سال 2022ء میں 8.9 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو