این ایچ اے کو زمین کاروبار یا دھندے کے لیے نہیں ملی : سپریم کورٹ

سرکاری اراضی پر پیٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سرکاری زمین کوڑیوں کے بھاؤ دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

سپریم کورٹ میں سرکاری اراضی پر پیٹرول پمپس لیز کرنے کے کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

وکیل قلب حسن نے عدالت کو بتایا کہ این ایچ اے نے سرکاری زمین پمپس کو لیز پر دے رکھی ہے، جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ این ایچ اے قانون سے بالاتر نہیں، این ایچ اے کو زمین کاروبار یا دھندے کے لیے نہیں ملی۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اس ملک میں لوگوں کے بھی کچھ حقوق رہنے دیں، سرکار کی زمین کےساتھ مذاق ختم ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ 30 ہزار سالانہ کرایہ پر این ایچ اے نے گرین بیلٹ پر پمپس بنوا دیے، گرین بیلٹ کی زمین پیڑول پمپ کے لیے کیسے الاٹ ہو گئی؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری زمین کو کوڑیوں کے بھاؤ دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ گرین بیلٹس پر بنے تمام پمپس ہٹیں گے، اس طرح تو سارے باغ بھی لیز کر دیں۔

سپریم کورٹ کا فیصل آباد میں سرکاری اراضی پر 2 پیٹرول پمپس سے قبضہ واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے حکومت پنجاب سے 4 ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو