شیریں مزاری کا بیان اپنی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا اعتراف ہے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر نہ کرنا صرف وزارت خارجہ کی نہیں بلکہ وزیراعظم کی بھی ناکامی ہے۔

اپنے بیان میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنی ہی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا اعتراف کرلیا ہے، شیریں مزاری کے بیان سے واضح ہوگیا کہ کشمیر پر حکومتی پالیسی تقریروں اور بیانات تک ہی محدود ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر نہ کرنا صرف وزارت خارجہ کی نہیں وزیراعظم کی بھی ناکامی ہے، قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے جذباتی تقریریں اور غلط بیانیاں کی جارہی ہیں۔

ترجمان بلاول بھٹو کے مطابق مسئلہ کشمیر تقریروں اور بیانات سے نہیں مؤثر اور مدبرانہ سفارتکاری سے اجاگر ہوسکتا ہے لیکن اس حکومت کو سفارتکاری کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تو سفارتکاری کرتے کیسے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب کشمیریوں کو ہمارے وزیر خارجہ کی ضرورت تھی تب وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن پر چڑھائی کرتے رہے، قوم اور اپوزیشن تو جانتے ہی تھے کہ یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے، اب حکومت کی صفوں سے بھی ہر شعبے میں ناکامی کی آوازیں آنے لگی ہیں، عمران خان حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی نے کشمیر کاز کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وزیراعظم نے اپنی تقاریر اور بیانات سے تنِ تنہا کشمیر کا بیانیہ بدل کر دکھایا مگر دفتر خارجہ اور دیگر اداروں نے وزیراعظم کی کوششوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کو ناکام بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارا دفتر خارجہ وزیراعظم کے بیانیے کو لے کر چلتا تو حالات مختلف ہوتے، چاہے عالمی سیاست جو بھی ہو دفتر خارجہ کام کرتا تو دنیا کشمیر پر ہماری بات ضرور سنتی، مگر ہمارے سفارت کار آرام، تھری پیس سوٹس اور کلف لگے کپڑے پہننے اور ٹیلی فون کرنے کے سوا کچھ کرنے پر تیار نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو