نوازشریف کی درخواست پیر کو سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔

نواز شریف کی درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا ہے اور رجسٹرار ہائی کورٹ نے نواز شریف کی درخواست مقرر کرنے کی کاز لسٹ جاری کردی۔

خصوصی بینچ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کے علاوہ جسٹس عامر فاروق شامل ہوں گے۔

نواز شریف نے وارنٹ گرفتاری کے اجراء اور اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کو چیلنج کیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتساب عدالت کی کارروائی، اشتہار جاری کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب اپوزیشن کو ٹارگٹ کرکے آواز دبانا چاہتا ہے، یورپی یونین، ہیومن رائٹس واچ نے نیب کی کاروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جب کہ چیف جسٹس پاکستان نے احتساب کے نظام سے متعلق کیسز کی سماعت کے دوران آبزرویشنز دیں، عدالتی آبزرویشنز تقاضہ کرتی ہیں کہ نیب کے اختیارات اور کام پر چیک ہو۔

درخواست کے مطابق نواز شریف مفرور نہیں بلکہ ضمانت منظوری پر بیرون ملک گئے، بیرون ملک علاج جاری ہے لہٰذا نمائندے کے ذریعے ٹرائل کا سامنا کرنے کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ احتساب عدالت نے 29 مئی کو قابل ضمانت اور 11جون کو ناقابل ضمانت وارنت گرفتاری جاری کیے جب کہ احتساب عدالت نے 30 جون کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کردی لہٰذا احتساب عدالت کے 29 مئی، 11 جون اور 30 جون کےاحکامات کالعدم قرار دیےجائیں۔

خیال رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے 11 جون کو نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

7 جولائی کو نواز شریف کی احتساب عدالت میں طلبی کے لیے کارروائی کا آغاز ہوا اور پھر 13 جولائی کو جاتی عمرہ میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر طلبی کا نوٹس چسپاں کیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو