متحدہ عرب امارات سے اپنا سفیر واپس بلا سکتے ہیں، طیب اردوان

ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ کے یو اے ای اور اسرائیل کے مابین معاہدے کے بعد امارات سے سفارتی تعلقات معطل کرنے اور سفیر واپس بلانے پر غور کررہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرسکتے ہیں اور سفیر کو بھی واپس بلایا جاسکتا ہے۔

تُرک وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تاریخ فلسطین سے متعلق ’’منافقانہ رویے‘‘ اختیار کرنے پر عرب امارات کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ خلیجی ریاست نے ایک ایسا معاہد تسلیم کیا ہے جو مشرقی وسطی کو مسخ کردے گا۔

دوسری جانب جمعے کو اپنے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ فلسطین کے خلاف یو اے ای کے اقدام کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب فلسطین وہاں اپنا سفارت خانہ ختم یا بند کررہا ہے اور ہم بھی اپنے لیے اسی اقدام کو درست سمجھتے ہیں۔ وزیر خارجہ سے عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے اور اپنا سفیر واپس بلانے کے امکانات کے بارے میں بات کرچکا ہوں۔

واضح رہے کہ 13 اگست کو یو اے ای اور اسرائیل کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔ امارات 1979ء میں مصر اور 1994ء میں لبنان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو