لبنانی پارلیمنٹ نے ایمرجنسی نافذ کرکے فوج کو وسیع اختیارات دے دیے

بیروت: لبنانی پارلیمنٹ نے ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ اور فوج کے لیے وسیع اختیارات کی منظوری دے دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کو پارلیمنٹ نے بیروت میں ہونے والے قیامت خیز دھماکے کے بعد ملک میں پھوٹنے والے مظاہروں کے بعد پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات میں ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ اور فوج کے لیے وسیع انتظامی اختیارات کی منظوری دی۔

بیروت دھماکے کے بعد لبنان کی کابینہ نے ملک میں دو ہفتے کے لیے ایمرجینسی نافذ کی تھی جب کہ پارلیمنٹ نے اس میں 8 روز کی توسیع کرکے اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔ ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد فوج تقریر و تحریر، اجتماع اور سیکیورٹی سے متعلق شبہات کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کرنے کی مجاز ہوگی۔ علاوہ ازیں عدالتی نظام کی جگہ فوجی عدالتیں لے لیں گی۔

پارلیمنٹ کے نو ارکان کے مستعفی ہونے کے بعد 119 اراکین میں سےصرف ایک نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ اس موقعے پر اسپیکر نبیہ بیری نے کہا کہ فوج نے ابھی تک آزادی اظہار پر قدغن نہیں لگائی ہے یہ احتجاج کی گنجائش باقی رکھے گی۔

دوسری جانب مظاہرین اور مقامی فورسز کے مابین تصادم کے واقعات میں 728 افراد زخمی ہوچکے ہیں اور 12 صحافیوں پر حملے ہوچکے ہیں جن میں سے 4 صحافیوں پر فوجی اہل کاروں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ بیروت میں ہونے والے تباہ کُن دھماکے بعد لبنان میں عوامی احتجاج اور سیاسی بے چینی عروج پر پہنچ چکی ہے اور 10 اگست کو وزیراعظم حسن دیاب اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوچکے ہیں۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے نافذ کی گئی ایمرجینسی 21 اگست تک برقرار رہے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو