ملزم جج کا 8 ماہ بعد بھی ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہوسکا

سیہون میں سلمیٰ بروہی زیادتی کیس میں معطل جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو کا 8 ماہ بعد بھی ڈی این اےٹیسٹ نہیں کرایا جاسکا۔

ایڈیشنل سیشن جج کوٹری کی عدالت میں پولیس کی جانب سے ڈی این اے ٹیسٹ کرانےکے لیے معطل جج کی ضمانت منسوخ کرانے پر کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر معطل جج امتیاز بھٹو اور انکوائری افسر حاجی مسعود اقبال پیش ہوئے۔

ملزم معطل جج کا کہنا تھا کہ ان کا وکیل دستیاب نہیں ہے جب کہ متاثرہ مدعی خاتون عدالت میں 164 کے بیان میں پولیس کی جانب سےجھوٹی ایف آئی آر کابیان بھی دے چکی ہے، جس کے بعد ڈی این اے کی ضرورت ہی نہیں۔

انکوائری افسر کا کہنا تھا کہ ملزم نے 8 ماہ بعد بھی ڈی این اے نہیں کرایا، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں زیادتی کیس میں ملزم کا ڈی این اے کرانا ضروری ہے، عدالت ملزم کی ضمانت منسوخ کرے تاکہ ڈی این اے کروایا جاسکے۔

معطل جج کی درخواست پرسماعت 18 اگست تک کے لیےملتوی کردی گئی۔

واقعے کا پس منظر

شہداد کوٹ میں سلمیٰ بروہی اور نثار بروہی پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہوکر سیہون کے ایک گیسٹ ہاؤس میں رہائش پذیر تھے جہاں 13 جنوری 2020ء کو لڑکی کے اہل خانہ سیہون پہنچے اور دونوں کو پکڑ لیا۔

معاملہ پولیس تک جا پہنچا تو پولیس لڑکی کو بیان ریکارڈ کرنے کے لیے سینیئر جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز بھٹو کے چیمبر میں لے گئی۔

ذرائع کے مطابق لیڈی پولیس اور عملے کو یہ کہہ کر عدالت سے باہر نکال دیا گیا کہ لڑکی کا بیان لینا ہے، جج نے لڑکی سے استفسار کیا کہ کیا وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا شوہر کے ساتھ؟ جس پر لڑکی نے شوہر کے ساتھ جانے پر حامی بھری۔

رپورٹ کے مطابق جج نے خوف میں مبتلا لڑکی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے چیمبر میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی۔

میڈیکل ٹیسٹ میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق

متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سیہون پولیس نے لڑکی کا عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ میں میڈیکل کرایا جہاں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی۔

بعد ازاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی شیخ نے جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو کو معطل کر دیا اور انہیں سندھ ہائی کورٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

8 ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ملزم کا ڈی این اے نہیں ہوسکا ہے جب کہ متاثرہ خاتون بھی اپنے بیان سے منحرف ہوچکی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو