گھر پر بچے کی پیدائش، برتھ سرٹیفیکٹ کیلیے ڈی این اے ٹیسٹ لازم

گھر میں بچے کی ولادت پر برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے متعلقہ ادارے نے سعودی والدین سے ڈی این اے رپورٹ مانگ لی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں بچے کا پیدائشی سرٹیفیکٹ بنانے کے خواہش مند والدین کو اُس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب متعلقہ ادارے نے اصرار کیا کہ اسپتال میں پیدائش نہ ہونے کی وجہ سے بچے کے برتھ سرٹیفیکٹ کے لیے والدین اور بچے کا ڈی این اے میچ ہونا ضروری ہے۔

نومولود کی والدہ نے مقامی جریدے الیوم سے گفتگو میں بتایا کہ زچگی سے قبل اسپتال کا ریکارڈ اور ابتدائی ویکسینشن کا کارڈ بھی موجود ہے مگر ادارہ قومی شہریت کی جانب سے پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جارہا اور نہ ہی فیملی کارڈ میں اندراج کیا گیا۔

بچے کے والد کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش کے لیے اسپتال میں اندراج کیا گیا تھا، لیکن زچگی کے وقت کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسپتال جانا ممکن نہیں رہا، قریبی اسپتال لے کر گئے تاہم انہوں نے کیس لینے سے منع کردیا جس کی وجہ سے بچے کی ولادت گھر ہی میں کرانا پڑی۔

اس حوالے سے قومی ادارہ برائے شہریت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتال کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی کو قومی پیدائشی سرٹیفیکٹ جاری نہیں کر سکتا۔ اگر بچے کی ولادت گھر میں ہوئی ہے تو والدین اور بچے کے ڈی این اے میچ ہونے کے بعد ہی سند جاری کی جا سکتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو