زیر التوا مقدمات کا کیا کیا جائے؟

ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مارشل لا سے متعلق ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،مارشل لا سے بہتر ہے دوبارہ حکومت انگریزوں کو دیدی جائے۔ یہ بات مجھ ایسے صحافی نے کہی ہوتی تو اسے خوئے غلامی کا طعنہ دیا جاتا مگر اعلیٰ عدلیہ کے ایک معزز جج نے یہ فرمایا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔

تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے بزرگوں سے بات چیت ہو تو وہ بھی سرد آہ بھرتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ انگریزحاکم اور ہم محکوم ضرور تھے مگر ایسی لاقانونیت، بدمعاشی، مہنگائی اور بےروزگاری کا اس دور میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن آج ہم جس تنزلی اور زبوں حالی کا شکار ہیں اس کا ذمہ دار بھی انگریزوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ آج اس کا ذمہ دار نظام حکومت ہے جو انگریزوں نے ترتیب دیا اور ہم بارہا آئین مرتب کرنے کے باوجود اس نظام کی اصل روح کو خارج نہ کر سکے اور پوری قوم اس کے اثرات بھگت رہی ہے.

غیرمعمولی اور باصلاحیت افراد کے پیدائش کے حوالے سے سماج کے بانجھ پن کی بات ہو تو ہم سوچنے کا تکلف کئے بغیر لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ انگریزی نے ہمارے باشعور اور باصلاحیت طبقے کو بھی ان پڑھ بنا دیا ہے.

سستے اور فوری انصاف کی عدم دستیابی پر مرثیہ خوانی کی جا رہی ہو تو ہم تدبر کا تردد کرنے کے بجائے فوراً انگریز کے بنائے عدالتی نظام پر تبریٰ کرکے جان چھڑا لیتے ہیں۔ گویا یہ فرسودہ اور بیہودہ نظام ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے جسے گورے یہاں سے رخصت ہوتے وقت ہم پر مسلط کرکے چلے گئے۔ لیکن نظام میں ارباب اختیار و اقتدار بہتری نہیں لائیں گے.

عدالتی نظام کے حوالے سے ایک تنقید یہ کی جاتی ہے کہ موجودہ عدالتیں کورٹ آف لا ہیں، کورٹ آف جسٹس نہیں۔ یعنی ان کا کام قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے ناں کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنا۔ اگر کسی جج کے سامنے بھی قتل کی واردات ہو جائے تو اسے ثبوتوں اور گواہوں کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی ۔

بظاہر یہ دلیل بہت زوردار محسوس ہوتی ہے لیکن دراصل یہی کمزوری ہی اس عدالتی نظام کی طاقت ہے۔ چند روز قبل ایک عدالت میں جج کے سامنے ایک شخص کو قتل کردیا گیا مگر وہ جج جس نے قتل ہوتے دیکھا، محض اس بنیاد پر کہ اس نے قتل ہوتے دیکھا، ملزم کو سزا نہیں سنا سکتا اگر جج قانون کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلے کرنے لگیں تو پھر ہر ایک کے ضمیر کی آواز مختلف ہوگی اور ناحق کو بھی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ نظام اس سوچ کے تحت مرتب کیا گیا ہے کہ انصاف کی کرسی پر کوئی غلط شخص بھی براجمان ہو جائے تو من مانی نہ کر سکے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اسی عدالتی نظام کے تحت انگریزوں کے دورِ حکومت میں برقت فیصلے ہو رہے تھے تو اب سستا اور فوری انصاف مہیا کیوں نہیں ہو رہا؟ بعض افراد کا خیال تھا کہ وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے، جج صاحبان کی تنخواہیں اور مراعات کم ہیں جس سے رشوت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 2008ء میں ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان کی تنخواہوں میں بیک جنبش قلم تین گنا اضافہ کردیا گیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ماہانہ تنخواہ 2008ء میں تقریباً دو لاکھ روپے تھی مگر پے درپے اضافے کے بعد اب کم وبیش 12 لاکھ روپے ہے۔

سپریم کورٹ کا بجٹ جو 2007-08ء میں 315 ملین تھا، 300 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کے نتیجے میں 1966 ملین روپے ہو چکا ہے مگر زیرالتوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت پاکستان کے جسٹس کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد جو گزشتہ برس 19 لاکھ تھی۔

اب بڑھ کر 20 لاکھ 41 ہزار ہو چکی ہے۔ ماتحت عدالتوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 30 ہزار مقدمات نمٹائے گئے مگر اس دوران ایک لاکھ 65 ہزار نئے مقدمات کا اضافہ ہو گیا۔ سپریم کورٹ میں یکم جون سے 15جون 2020ء تک 260 مقدمات کا فیصلہ ہوا مگر اس دوران 446 نئی درخواستیں داخل کی گئیں یوں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 45125 ہوچکی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو