’کالا پانی‘ کہاں کہاں ہے…؟

کالا پانی بہت مشہور نام اور اصطلاح ہے، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اُس کالا پانی سے ہٹ کر بھی، کچھ مقامات کے لیے یہی نام استعمال کیا جارہا ہے۔ تو کیا کالا پانی نامی کچھ اور مقامات بھی کُرہ ارض پر موجود ہیں؟… خطہ ہند کی تاریخ ِ آزادی میں ’کالا پانی‘ کی بڑی اہمیت ہے۔

بحرہند میں واقع جزائر انڈیمان [Andaman and Nicobar Islands, India] اور وہاں قایم کیے جانے والے زنداں / قید خانے یا جیل کو اُس دور میں ’کالا پانی‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، جب فرنگیوں نے آزادی کے متوالوں کو اُن کے چاہنے والوں سے الگ کرکے اس جگہ قید کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اُس زمانے کو جب کسی کو آزادی مانگنے کے جُرم میں قید کی سزا سنائی جاتی تو کہا جاتا تھا کہ فُلاں کو ’’حبس ِدَوام بہ عبور دریائے شور‘‘۔یا۔’’عبورِ دریائے شور‘‘ کی سزا دی گئی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ذرا اپنی محبوب و مرغوب لغت، فرہنگ آصفیہ سے خوشہ چینی کرلیں: کالا پانی (ہ) اسم مذکر: ۱۔ جزائر انڈیمن، جہاں ہندوستان کے عمر قیدی بھیجے جاتے ہیں.

اب آئیے اصلی اور قدیم ’کالا پانی‘ کے متعلق کچھ بات کرتے ہیں۔ انڈمان کے جزائر کی تعداد دوسو (200) ہے، جبکہ اس کے جنوب میں 90 میل کے فاصلے پر واقع نکوبار کے انیس (19)جزائر بھی اس میں شامل اور اَب ہندوستان کے جدید نقشے میں ایک ہی ریاست (یعنی صوبے) کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس کا دارالحکومت پورٹ بلئیر(Port Blair) ، کلکتہ سے 780 میل دور ہے۔

اس خطے کو ’کالا پانی‘ کا نام کیوں دیا گیا، اس بابت ایک رائے تو وہی ہے جو اوپر فرہنگ آصفیہ کے حوالے سے نقل کی گئی، دوسری یہ ملاحظہ فرمائیں۔ ان جزائر میں سیاہ کیچڑ سے بھری دلدل، بچھو کے برابر مچھر، خطرناک سانپ، اژدہے، بچھو، چھپکلیاں اور بے شمار دیگر مُہلک حشرات الارض کی موجودگی کسی بھی قیدی کی زندگی لمحوں میں ختم کرنے کو کافی تھی۔ چونکہ لفظ کالا دراصل سنسکِرِت لفظ ’کال‘ (بمعنی وقت، موت) سے مشتق ہے، لہٰذا اسے ’کالا پانی‘ کہا جانے لگا۔

قیاس ہے کہ سیاہ کیچڑ سے بھری دلدل کے باعث، یہاں سمندر کا پانی سیاہ ہی نظر آتا ہوگا۔ ایک جگہ یہ عبارت بھی نظر سے گزری کہ ان جزائر کے جنگلوں میں آج بھی تہذیب سے ناآشنا، قدیم طرزحیات سے جُڑے ہوئے جنگلی انسان بستے ہیں، البتہ قیدخانے کا خاص علاقہ قومی یادگار میں تبدیل ہوچکا ہے۔

جنگ ِآزادی ِہند 1857ء میں انگریز کے خلاف فتویٰ دینے، اس کی تائید کرنے اور اس معرکے میں کسی نہ کسی شکل میں، شامل ہونے، نیز سرپرستی کرنے کی پاداش میں ’کالا پانی‘ یا کالے پانی بھیجے جانے والے علمائے کرام میں علامہ مفتی محمد فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ (1797ء تا 19 اگست 1861ء مطابق 1212ھ تا 12صفر المظفر 1278ھ) سرفہرست تھے۔

وہ نامور عالم دین، صدرالصدورمفتی فضل امام فاروقی خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ (متعدد دینی کتب کے علاوہ خلاصۃ التواریخ یعنی تاریخ ہندوستان کے مؤلف)، کے فرزند اور ممتاز عالم مولاناشاہ عبدالقادردہلوی کے شاگرد تھے۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی صاحب نہ صرف اپنے وقت کے جَیّد عالم دین تھے، بلکہ اُنھیں اردو، فارسی اور عربی شعروادب میں بھی خوب دخل تھا۔ وہ عہدساز سخنور میرزا اسد اللہ خان غالبؔ کے بے تکلف دوست، (نیز مومنؔ، صہبائی، شیفتہؔ اور منیر شکوہ آبادی کے دوست اور آزردہؔ کے استاد)، اُن کے کلام کے اولین ناقد اور اُن کے اولین دیوان کے مُرتِب تھے۔ غالبؔ اُن کی تنقیدی بصیرت کے اس قدر قائل تھے کہ اُنھوں نے علامہ صاحب کے مشورے پر اپنا ایک تہائی کلام ضائع کردیا تھا۔

علامہ فضل حق کا گھر علمی وادبی محافل کا مرکز ومحور ہوا کرتا تھا۔ اُن کی تصانیف میں جنگ ِآزادی ِہند 1857-ء سے متعلق کتاب ’ثورۃالہندیہ‘، (اردوترجمہ ’باغی ہندوستان‘)، حاشیہ شرح مسلم از قاضی مبارک، حاشیہ افق المبین، رسالہ تحقیق العلم والمعلوم اور تاریخ ہندوستان، نیز چار ہزار سے زاید عربی اشعار شامل ہیں۔ اُن کی ایک عربی نعت، مشہور ادبی جریدے نقوش کے ’رسول (ﷺ)نمبر‘، جلد دہم میں مع ترجمہ شامل ہے۔ جنگ آزادی میں جب جرنیل بخت خان کی سرکردگی میں عارضی طور پر بہادرشاہ ظفر کی شاہی بحال کرتے ہوئے نظم ونسق قایم کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسے میں بادشاہ نے ایک مجلس (Council) تشکیل دی جس میں بخت خان کے ساتھ علامہ فضل حق شامل تھے جنھوں نے کمپنی بہادر کی لُولی لنگڑی بادشاہت کی بجائے باقاعدہ حکومت کے لیے ایک دستوری نظام مرتب کرکے آخری تاجدار کے حضور پیش کیا تھا۔

علامہ فضل حق کو عام معافی کے اعلان کے باوجود، اُن کے گھر سے بھوکا پیاسا گرفتار کرکے ’کالاپانی ‘ بھیجا گیا۔ انھوں نے قیدوبند کی صعوبتوں میں بھی اپنا علمی کام جاری رکھا اور جب ایک مدت کے بعد، اُن کے فرزند علامہ عبدالحق خیر آبادی، اُن کا پروانہ رہائی لے کر انڈیمان پہنچے تو دیکھا کہ حضرت کا جنازہ جارہا ہے۔ (شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں ان کا سن پیدائش سہواً 1211ھ مطابق 1796/97ء اور سن وفات 1862ء درج ہے)۔

علامہ فضل حق کا مرثیہ، اُنھی کے ہمراہ ’کالا پانی‘ میں قیدوبند کی صعوبت برداشت کرنے والے معروف شاعر منیرؔ شِکوہ آبادی نے لکھا۔ اُن کے یہ اشعار علامہ کی شخصیت کے آئینہ دار ہیں: مولوی ٔ بے نظیر، فضل حق اسم ِشریف+ دہلی سے تا لکھنؤ مشتہر و موتمن۔ نصف قصیدہ کیا سامنے اُن کے رقم+ختم ہوا جب تھے وہ ہمدم ِ گوروکفن۔ علامہ فضل حق کے فرزند علامہ عبدالحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ بھی اُنھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالم دین بنے، مگر اُن کے نواسے سید افتخارحسین رضوی نے مضطر ؔخیرآبادی کے تخلص سے اقلیم سخن میں نام روشن کیا۔ یہ وہی شاعر ہیں جن کی ایک مشہور غزل، بہادرشاہ ظفر سے منسوب ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ مضطر ؔخیرآبادی کے بیٹے جانثار اختر بھی مشہور شاعر ہوئے اور اُن کے پوتے جاوید اختر نے فلمی شاعری میں شہرت پائی (جبکہ جاوید اختر کے بیٹے فرحان اختر اور بیٹی زویا نے فلمی اداکاری و فلم سازی کی راہ اپنائی)۔ اس خانوادے کا ایک چشم وچراغ ڈاکٹر شہزاد رضوی امریکا میں بطور اردو اور انگریزی ادیب وشاعر، اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ وہ بھی مضطر ؔخیرآبادی کے پوتے ہیں، جبکہ اُن کے والد یادگارحسین نشترخیرآبادی، والدہ سیدہ سرفراز فاطمہ نشتر اور ہمشیرہ سیدہ سہیلہ خیرآبادی بھی اسی میدان کی شہسوار ہوگزری ہیں۔ ڈاکٹر شہزاد کے چھوٹے بھائی ضیاء خیرآبادی اور بہنیں ڈاکٹر عمرانہ نشتر، ناہید نشتر اور رخسانہ وسیم خیرآبادی بھی بطور شاعر ممتاز ہیں۔ ڈاکٹر شہزاد رضوی سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دورحکومت میں سرکاری مترجم بھی رہ چکے ہیں۔

’کالاپانی‘ کو بطور قیدخانہ استعمال کرنے کا سلسلہ تو جنگ ِآزادی ِہند 1857ء کے اختتام پر، 1858ء سے شروع ہوگیا تھا ، مگر وہاں باقاعدہ کوٹھریوں پر مشتمل ایک قیدخانے ۔یا۔ جیل کی تعمیر انھی قیدیوں سے بیگار لیتے ہوئے 1896ء میں شروع کرائی گئی جو دس سال بعد 1906ء میں مکمل ہوئی۔ اس قیدخانے کی تعمیر کے لیے برما سے اینٹیں منگوائی گئی تھیں۔ ایک دوسرے سے الگ تھلگ بنائی جانے والی ان کوٹھریوں پر مشتمل قیدخانے کو Cellular Jailکا نام دیا گیا۔

خاندان مغلیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد جو اِسی معرکے میں گرفتار ہوئی (نیز کسی سبب سے زندہ رہ گئی)، اور ہر وہ شخص جس پر یہ شبہ تھا کہ یہ شریک جرم ہے، ’کالاپانی‘ بھیجا گیا۔ ابتداء میں کوئی دو سو (200) افراد وہاں بھیجے گئے، جبکہ اپریل اٹھارہ سو اڑسٹھ (April, 1868) میں کراچی سے بھی سات سو تینتیس ( 733) افراد کو وہاں لایا گیا تھا۔ یہ قیدخانہ 1939ء میں خالی کیا گیا، 1942ء میں ان جزائر پر جاپان کا قبضہ ہوا، پھر یہاں نیتا جی سُبھاش چندر بوس نے پرچم آزادی لہرایا اور یہ علاقہ باقاعدہ تقسیم و آزادی ہند سے بھی پہلے، آزاد قرار پایا۔ ’کالا پانی‘ کی سزا بھگتنے والے متعدد مشاہیر میں وہابی تحریک کے راہنما مولوی جعفر تھانیسری بھی نمایاں ہیں، جن کی کتاب ’تواریخ ِ عجیب‘ عرف ’کالاپانی‘ اسی موضوع پر بہت مشہور ہے۔

وہ سترہ سال دس ماہ تک وہاں قید رہنے کے بعد، ایک بیوی، آٹھ بچوں اور مُبلغ آٹھ ہزار روپے نقد کے ہمراہ اپنے وطن تھانیسر، انبالہ (ہندوستان) واپس پہنچے تھے۔ ’کالا پانی‘ میں قید کی صعوبت برداشت کرنے والے، آزادی کے غیر مسلم متوالوں میں یوگیندر شُکلا، بَٹوکیشوَردَت، بابا راؤ سوارکر، وِنائک دَمودر سوارکر (بھائی)، سچندر ناتھ سنیال، بھائی پرمانند، سوہن سنگھ ، سو بُدھ رائے اور ٹریلو کیاناتھ چکرَوَرتی شامل تھے۔ 8 فروری 1872ء کو شیرعلی آفریدی نامی ایک قیدی نے پورٹ بلئیر (مونٹ ہیریٹ)، کالے پانی کے دورے پر آنے والے انگریز وائسرائے لارڈ میو (Lord Mayo)کو قتل کردیا تھا۔ اُسے 11مارچ 1872ء کو پھانسی دے دی گئی۔

اب بات کرتے ہیں دوسرے اور جدید ’کالاپانی‘ کی جو اِن دنوں ہمارے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا محور ہے۔ ضلع پتھورا گڑھ (اُتّر اکھنڈ) میں واقع پینتیس(35) مربع کلومیٹر پر مُحیط، یہ ’کالاپانی‘ ہندوستان اور نیپال کے مابین سرحدی تنازُع کا سبب ہے۔ (تنازَع یا تنازِعہ غلط ہے)۔ یہاں ہندوستان اور تبت کی سرحدی پولیس کی عمل داری ہے، مگر نیپال کے دعوے کے مطابق یہ علاقہ اُس کے ضلع دارچُولا (Darchula district, Sudurpashchim Pradesh) میں شامل ہے۔ یہ کالاپانی، سلسلہ کوہ ہمالیہ کے دریائے کالا کے طاس (Basin)کا علاقہ ہے جو تقریباً پانچ ہزار میٹر (3600-5200 meters) بلند دریائے کالی (مہاکالی) کا حصہ ہے۔

یہ علاقہ کالاپانی۔ لِمپیادُھورا۔لی پُو لیکھ کے مثلث (Kalapani-Limpiadhura-Lipulekh trijunction) پر مشتمل اور نیپال، ہندوستان اور تبت (چین) کے سنگم پر واقع ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ نیپال نے1998ء سے اس ’کالاپانی‘ پر قبضے کا دعویٰ کرنا شروع کیا ہے، جبکہ نیپال کا یہ مؤقف ہے کہ یہ علاقہ تو شروع ہی سے ہمارا ہے، ہندوستان یہاں سے نکل جائے۔ دریائے کالاپانی کا نام، قریبی واقع اسی نام کے گاؤ ں سے منسوب ہے۔ (بحوالہ الموڑا گزٹ: Almora District Gazetteer-1911)۔ دیوسائی (گلگت۔بلتستان) میں بہنے والے ایک دریا کا نام ’چھوٹا پانی‘ اور دوسرے کا ’بڑا پانی‘ ہے۔ یہی ’بڑا پانی‘ اکثر ’کالاپانی‘ بھی کہلاتا ہے۔ گزشتہ دنوں انٹرنیٹ اور واٹس ایپ پر یہ پیغام عام ہوا کہ چونکہ یہ دونوں دریا ہندوستان میں جاکر بہتے ہیں تو ہمسایہ ملک کی ’’آبی دہشت گردی‘‘ کا مؤثر جواب دیتے ہوئے انھیں کاٹ کر ان کا رُخ موڑا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے ضلع بھوپال (مدھیہ پردیش) کی تحصیل حضور کے ایک گاؤں کا نام بھی ’کالا پانی‘ ہے۔

پاکستان کے ضلع ایبٹ آباد (خیبرپختون خوا) کے ایک خوبصورت پہاڑی گاؤں کو ’کالا پانی‘ کہا جاتا ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی میں ہندوستان سے سمندر پار جا کر انگلستان میں مقیم ہونے والے لوگ بھی ’کالا پانی‘ کہلاتے تھے۔ ہندو روایات کے تناظر میں دور دراز سمندری سفر کرکے کہیں اور جا بسنے کو بھی معیوب سمجھتے ہوئے ’کالاپانی‘ جانا قرار دیا جاتا تھا۔

’کالا پانی‘ کے عنوان سے ہندوستان میں دو مشہور فلمیں بنیں۔ پہلی فلم 1958ء میں دیوآنند نے بنائی اور دوسری فلم 1996ء میں اسی تاریخی موضوع پر ملیالم زبان میں بنائی گئی، پھر اس کا اردو زبان میں ’سزائے کالا پانی‘ اور تَمِل اور تلیگو زبانوں میں بھی ترجمہ کرکے نمائش کے لیے پیش کیا گیا. پاکستان میں کبھی کوئی فلم بنی ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو