شیر شاہ سوری کا دور حکومت

کرپٹ نظام کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اسے درست کرنا کوئی ناممکن بات ہے۔

حکومتی نظام کی اصلاح کرنے والے حکمرانوں میں ایک نمایاں نام شیرشاہ سوری کا ہے جو بہترین انتظام حکومت یا گڈگورننس انجام دینے کے ماہر تھے۔ انہوں نے صرف پانچ سال کی قلیل مدت میں حکومت کوعوام کا خدمت گزار بنادیا۔ دور حاضر میں بھی وزیراعظم یا صدر کو اپنی صلاحتیں ظاہر کرنے کی خاطر پانچ سال ملتے ہیں۔ شیرشاہ سوری (متوفی 1545ء) کی مثال سے عیاں ہے کہ اگر کوئی حکمران اپنی مملکت میں گڈگورننس لانا چاہے تو پانچ سال کی مدت کافی ہے۔

حکمرانوں کی عالمی تاریخ میں شیرشاہ ممتاز ہیں۔کٹر دشمن، مغل بادشاہ ہمایوں انہیں ’’استاد ِبادشاہاں‘‘ کہہ کر پکار اٹھا۔ وہ بہادر، دانش مند اور سب سے بڑھ کر عوام کے خیرخواہ حکمران تھے۔ انہوں نے رنگ، نسل اور مذہب سے ماورا ہوکر اپنے لوگوں کی خدمت کی اور انہیں متحد کرنے کی سعی کرتے رہے۔ شیرشاہ سوری کی داستان اس لحاظ سے بھی سبق آموز ہے کہ وہ عام سردار کے بیٹے تھے مگر انہوں نے اپنی خداداد قابلیت کے بل بوتے پر تخت دہلی پایا۔

اگر وہ حادثے کا شکار نہ ہوتے، تو ہندوستان کو ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے بام عروج پر پہنچا دیتے۔ ان کی داستان سے عیاں ہے کہ جس قوم کو باصلاحیت، اہل اور ایمان دار حکمران مل جائے تو وہ پستی سے اٹھ کرترقی پاتی ہے۔ حکمران طبقہ کرپٹ ہو تو پھر وہ پوری قوم کا بھی بیڑا غرق کرسکتا ہے۔ شیر شاہ کو کامیابیاںاس لیے ملیں کہ وہ عوام کے دکھ درد سے واقف تھے۔ حکمران بن کر بھی انھوں نے عام آدمی سے رابطہ رکھا اور اس کے مسائل حل کرنے کی جستجو میں رہے۔

شیرشاہ سوری کے پشتون اجداد 1470ء میں افغانستان سے ہندوستان آئے اور ہریانہ میں ایک پٹھان سردار کی جاگیر میں کام کرنے لگے۔ وہیں 1486ء میں شیرشاہ حصار یا بجواڑہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام فرید خان تھا۔ والد نے ترقی کی اور انھیں جاگیریں مل گئیں۔ ان کی چار بیویاں تھیں۔چوتھی بیوی کے باعث باپ بیٹے میں کشیدگی ہو گئی۔ شیر شاہ پھر والد کے دوست کے پاس مشہور علمی شہر، جون پور چلے گئے۔ وہیں انہوں نے تعلیم پائی اور دینی و تاریخی کتب کا مطالعہ کیا، جلد نوجوان کو مطالعے کی چاٹ لگ گئی اور انہوں نے سینکڑوں کتب پڑھ ڈالیں۔ مطالعے سے ان کا ذہنی کینوس وسیع ہوا اور عقل و دانش بڑھی۔ فرید خان کو فاتحین کی آپ بیتیاں پڑھنے کا شوق تھا۔ مطالعے نے ان کی شخصیت اور کردار نکھارنے میں مدد دی۔

چند سال بعد بزرگوں نے باپ بیٹے میں صلح کرادی۔ حسن خان نے بیٹے کو سسرام اور خواص پور (ریاست بہار) کی جاگیروں کا انتظام سونپ دیا۔شیرشاہ جاگیروں کا مکمل کنٹرول چاہتے تھے۔ انہوں نے والد کو لکھا :’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہاں ہمارے کچھ رشتے داروں اور فوجیوں کی زمینیں ہیں۔ ان زمینوں پر کچھ پٹواری کسانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ یہ انتہائی غلط عمل ہے۔ ہر علاقے میں عدل و انصاف ہی ترقی کی جڑ ہوتی ہے جبکہ ناانصافی نہایت خطرناک اور تباہ کن چیز ہے۔ یہ حکومت کی بنیادیں کمزور کرکے اسے برباد کردیتی ہے۔ آپ مجھے جاگیروں کا مکمل انتظام دیجیے تاکہ میں ظلم و ناانصافی کا خاتمہ کرکے وہاں عدل و انصاف قائم کرسکوں۔‘‘

حسن خان بیٹے کے عزم اور منصف مزاجی سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے اسے علاقوں کا مکمل کنٹرول دیا اور وعدہ کیا کہ وہ ان کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔ یوں انہوں نے بیٹے کو موقع دیا کہ وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کو آزادی سے آزما سکے۔ شیرشاہ نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا اور پرگنوں میں بہترین نظام حکومت قائم کردیا۔ ظالم عزیز و اقارب کو سزائیں دیں۔ یوں انہیں زندگی میں حکومت کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔شیر شاہ پھر ترقی کرتے چلے گئے۔ مئی 1540ء میں قنوج کے مقام پر ہمایوں کو شکست دی۔ اس طرح ہندوستان کے نئے بادشاہ بن گئے۔ انہوں نے دہلی کو اپنا دارالحکومت بنایا۔

حکومت تقریباً آدھے ہندوستان (بنگال و بہار سے لے کر اترپردیش، پنجاب اور سندھ تک) پھیلی ہوئی تھی۔ اب وہ اسے مستحکم اور نظام حکومت درست کرنے کی کوششیں کرنے لگے۔ گڈ گورننس کی خاطر وہ حکومت میں بیک وقت کئی اصلاحات عمل میں لائے جو انقلابی نوعیت کی تھیں۔تب مملکت میں دو متوازی انتظامی نظام موجود تھے۔ ایک تو افسر شاہی یا بیورو کریسی اور دوسرا سرداری نظام۔ سردار عموماً فوجی ہوتے۔ انہیں اپنے عہدے کے مطابق کم یا زیادہ زمینیں دی جاتیں ۔بیورو کریسی میں قاضی، عامل (ریونیو افسر)، کوتوال، مکھیا اور پٹواری شامل تھے۔ ان سبھی کو حکومت سے اپنا کام انجام دینے پر تنخواہ ملتی۔

اس زمانے میں حکومتی ڈھانچے میں فوجی سردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔ بادشاہ وقت انہیں زمینیں دیتے تاکہ وہ حکومت کے لیے ٹیکس اکٹھا کرسکیں اور اپنے اخراجات بھی نکال لیں۔ جنگ کے وقت یہ سردار اپنے علاقوں میں لشکر بھی تیار کرتے۔ ہوتا یہ تھا کہ اکثر فوجی سردار اپنی زمینوں پر حاکم بن بیٹھتے۔ پھر جو جنگجو اور ہوشیار ہوتا، وہ دیگر سرداروں کی زمینوں پر قبضہ کرکے طاقتور ہوجاتا۔ اکثر ایسے طاقتور سردار حکومت کے خلاف بغاوت کردیتے۔ ان کی وجہ سے حکومت میں شورش رہتی اور امن و امان قائم نہ ہوپاتا جس سے معیشت کو نقصان پہنچتا۔ حکومت بھی مستحکم نہ ہو پاتی۔ شیرشاہ نے اقتدار سنبھال کر فوجی سرداروں کو زمینیں دینے کا نظام بحال رکھا کیونکہ اگر وہ اسے ختم کرتے تو ان کے خلاف کئی بغاوتیں ہوجاتیں۔ انہوں نے مگر سرداروں کی طاقت کمزور کرنے کی خاطر افسر شاہی میں اصلاحات متعارف کرائیں اور اسے پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط و منضبط بنا دیا۔

ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سردار اور بیوروکریسی، دونوں نیم خودمختار ہوگئے تھے۔ بادشاہ وقت تو عموماً درباری سازشوں، رنگ رلیوں اور اپنے مشاغل میں منہمک رہتے۔ انہیں بس غرض یہ تھی کہ ٹیکسوں کی رقم موصول ہوتی رہے تاکہ حکومتی و شاہی اخراجات پورے ہوسکیں۔ انہیں یہ پروا نہیں تھی کہ سردار و بیورو کریسی کیونکر عوام الناس سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔بادشاہوں کی عدم توجہ کے باعث ہی دونوں انتظامی ادارے کرپٹ ہوگئے۔انھوں نے اپنی ذمے داریوں کو کمائی کا ذریعہ بنالیا۔ وہ حکومتی آمدن میں سے بھی کچھ حصہ اپنے پاس رکھ کر بے ایمانی کرنے لگے۔ یہی نہیں، وہ مختلف طریقوں سے عوام پر ظلم و ستم کرتے تاکہ ٹیکسوں کی رقم میں اضافہ ہوسکے۔ اس روش نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی۔ شیرشاہ جاگیروں کا انتظام سنبھال چکے تھے۔ انہوں نے سرداری نظام اور بیورو کریسی کے کسانوں اور عوام پہ مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔

حکومت کی تشکیل نو
سرداری نظام اور بیوروکریسی کی آمریت اور من مانی ختم کرنے کی خاطر شیر شاہ نے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ بیشتر اختیارات اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔ شیر شاہ اپنے مشیروں اور وزرا سے مشورے ضرور کرتے مگر وہ کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے، شیرشاہ روزانہ سولہ گھنٹے کام کرتے تاکہ ہر شعبہ حکومت پر نظر رکھ سکیں۔

مقصد یہی تھا کہ گڈگورننس جنم لے اور عوام سکھ پاسکیں۔ انھوں نے حکومت چلانے کی خاطر صرف چھ محکمے تشکیل دیئے: (1) دیوان وزارت:۔ جس کا سربراہ ’’وزیر‘‘ کہلاتا۔ یہ دراصل وزیر خزانہ تھا جو حکومت کی آمدن و اخراجات کا حساب کتاب رکھتا۔صدر وزیر بھی تھا۔ (2) دیوان عرض:۔ جس کا سربراہ ارض الملک تھا۔ یہ وزیر دفاع تھا جو فوج سے متعلق انتظامی امور مثلاً بھرتی، تنخواہیں، سپلائی وغیرہ کے معاملات دیکھتا۔ (3) دیوان رسالت :۔جس کا سربراہ وزیر خارجہ تھا۔ وہ غیر ملکی سفرا کا استقبال کرتا اور بیرونی حکومتوں سے خط و کتابت کرتا۔ (4) دیوان انشا :۔جس کا سربراہ ’’دبیر خاص‘‘ کہلاتا۔ یہ وزیر اندرون ملک جاری خط کتابت کا انتظام سنبھالتا۔ شاہی فرمان ہر جگہ بھجواتا نیز بیوروکریسی سے پیغامات وصول کرتا۔ (5) دیوان قضا:۔ جس کا سربراہ قاضی القضا تھا۔ یہ قانونی معاملات دیکھتا اور سلطنت میں انصاف بحال رکھتا۔ (6) دیوان برید:۔ جس کا سربراہ برید الملک کہلاتا۔ یہ محکمہ انٹیلی جنس تھا۔ حکومتی جاسوس اس کے ماتحت تھے جو سلطنت کے ہر اہم علاقے میں تعینات تھے۔ ان سے خط کتابت کا انتظام بھی سنبھالتا۔قبل ازیں بڑی ہندوستانی حکومتیں صوبے میں تقسیم ہوتی تھیں۔ شیرشاہ سوری نے ایک انقلابی کام یہ کیا کہ سلطنت کو زیادہ چھوٹے انتظامی علاقوں میں بانٹ دیا تاکہ انتظام حکومت سہل بنایا جاسکے۔ پہلا انتظامی یونٹ ’’سرکار‘‘ تھا جو آج کے ضلع جیسا ہے۔ ان کی کل تعداد 48 تھی۔

ہر سرکار میں ’’پرگنہ‘‘ ہوتے جنہیں تحصیل سمجھیے۔ ہر پرگنہ کئی ’’موضع‘‘ (ذیلی تحصیل) رکھتا ۔ موضع پھر دیہات اور گائوں پر مشتمل ہوتے۔ایک پرگنے میں بیوروکریسی یہ تشکیل پائی. امن و امان قائم کرنے کا ذمے دار ’’شقدار‘‘ کو بنایا۔ گویا وہ دور جدید کا ضلعی پولیس افسر تھا۔ کسانوں، تاجروں اور دیگر شہریوں سے مختلف ٹیکس جمع کرنے کے نظام کا سربراہ ’’امین‘‘ تھا۔ مقدمات سننے اور سزائیں دینے کی ذمے داری ’’منصف‘‘ کو سونپی گئی۔ پرگنے میں سرکاری آمدن و خرچ کا حساب رکھنے والا ’’خزانچی‘‘ تھا جبکہ سرکاری خط کتابت کے لیے دو ’’محرر‘‘ تقرر کیے گئے۔

ایک فارسی اور دوسرا ہندی میں طاق ہوتا۔ ایک ’’سرکار‘‘ میں بیوروکریسی کے تین رہنما اہم تھے۔ شقدار شقداران، امین الامین اور منصف المنصفین۔ یہ تمام پرگنوں میں سرکاری ملازمین کے انچارج تھے۔ اس انتظامی تقسیم کی سب سے چھوٹی اکائی گاؤں میں مکھیا (مقدم)، پٹواری اور چوکی دار سرکاری نمائندے تھے۔ چوکی دار گاؤں کی رکھوالی کرتے۔ گاؤں میں پنجایت بھی نیم خودمختار تھی تاکہ لوگوں کی فلاح و بہبود انجام دے سکے۔ یہ پوری بیوروکریسی امن و امان قائم رکھنے اور ٹیکس جمع کرنے میں حکومت کی مدد کرتی۔ شیرشاہ نے پہلی مرتبہ یہ عمل متعارف کرایا کہ وہ ہر دو سال بعد سرکار اور پرگنے کے افسروں کا تبادلہ کردیتے۔ یوں انہوں نے ہر قسم کی بے ایمانی کو پنپنے سے روک دیا۔

ذرائع آمدن
اس زمانے میں حکومت کی آمدن کے بنیادی ذرائع یہ تھے: زرعی ٹیکس، وقف جائیدادیں، تجارتی ٹیکس، نمک ٹیکس، لڑائیوں سے حاصل ہونے والا مال و زر، جزیہ اور ماتحت والیوں، وزراء، درباریوں، سفرا، تاجروں وغیرہ سے ملنے والے تحائف اور بنیادی اخراجات یہ تھے: فوج کی تخواہیں، اسلحہ خریدنا، بیوروکریسی کی تنخواہیں اور شاہی محل کا خرچ۔ماضی کی حکومتیں فوجی سرداروں اور درباریوں میں زمینیں بانٹ دیتی تھیں تاکہ وہاں وہ نظم و نسق بحال رکھیں اور زرعی ٹیکس بھی وصول کریں۔انہی کو ’’جاگیردار‘‘ اور ’’زمین دار‘‘ کہا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ مسئلہ یہ سامنے آیا کہ مکھیا اور پٹواری نے ایکا کرلیا اور جاگیرداروں اور کسانوں، دونوں کو لوٹنے لگے۔

مکھیا و پٹواری کا طریق واردات یہ تھا کہ وہ جاگیردار کو بے خبر رکھتے کہ اس کی زمینیں کتنی ہیں، ان سے کتنی پیداوار ملتی اور کتنا ٹیکس کٹتا ہے۔ یہ باتیں جاگیردار سے چھپالی جاتیں۔ چونکہ جاگیرداروں کو اپنے آرام و آسائش اور اپنی آمدن سے غرض تھی، تقریباً سبھی حساب کتاب کے چکر میں نہ پڑتے اور زمینوں کا انتظام مکھیاؤں اور پٹواریوں کے سپرد کردیتے۔ یہ مکھیا و پٹواری کسانوں پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر ان سے 70 تا 75 فیصد پیداوار یا اس کے مترادف رقم حاصل کرلیتے۔ مگر جاگیردار کو یہی بتاتے کہ 50 فیصد پیداوار ہوئی ہے۔ بقیہ پیداوار یا آمدن وہ خود چٹ کرجاتے۔ جاگیردار تو اپنا اور حکومت کا حصّہ مل جانے پر مطمئن رہتا، اُدھر بیچارے کسان نت نئے ٹیکسوں کے باعث ادھ موئے ہوجاتے۔ وہ سارا سال محنت کرتے مگر بدلے میں انہیں چند نوالے ہی ملتے تاکہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رہ سکے۔

زرعی ٹیکسوں کا نیا نظام
شیرشاہ سوری اپنی جاگیروں کا نظام سنبھالتے ہوئے کسانوں کی حالت زار دیکھ چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ظالم بیوروکریسی ان کا استحصال کرتی ہے۔ اسی لیے اپنی سلطنت میں زرعی ٹیکسوں کا نیا نظام نافذ کیا جو ’’رعیت داری‘‘ کہلایا۔ اس نظام کے ذریعے ریاست اور کاشتکاروں کا براہ راست رابطہ قائم ہوا اور درمیان سے مکھیا، پٹواری وغیرہ کا تعلق بہت کم رہ گیا۔ رعیت داری کے تحت زرعی رقبہ دو بنیادی حصوں میں بانٹ دیا گیا: اول وہ جہاں فصل اچھی ہوتی۔ دوم وہ زرعی رقبہ جو بارانی تھا اور جہاں فصلیں کسی وجہ سے اچھی نہیں ہوتیں۔ جس علاقے میں فصلیں اچھی ہوتی تھیں، وہاں کے کسان اپنی پیداوار کا تیسرا حصہ (33.33 فیصد) حکومت کو بطور ٹیکس دینے لگے۔ جس علاقے میں فصل اچھی نہ ہوتی، وہاں کے کسانوں سے پیداوار کا چوتھا حصہ (25 فیصد) بطور ٹیکس لیا جاتا۔ حکومت نے ’’جریبانہ‘‘ اور ’’محصلانہ‘‘ کے نام سے دو نئے زرعی ٹیکس متعارف کرائے۔

یہ بالترتیب کل پیداوار کا ڈھائی فیصد اور پانچ فیصد تھے اور بیوروکریسی کی تنخواہوں کے سلسلے میں لیے جاتے۔ تیسرا کام یہ کیا گیا کہ ہر کسان کو ایک سرکاری دستاویز دی گئی جس پر درج تھا کہ اس کی کتنی زمین ہے، کیسی ہے اور اسے کتنا زرعی ٹیکس دینا ہے۔ یہ دستاویز ’’پٹہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ایک اور دستاویز بھی بنائی گئی۔

اس پر درج ہوتا کہ حکومت نے اتنی زمین کسان کو دی ہے اور یہ کہ وہ سبھی زرعی ٹیکس ادا کرے گا۔ یہ دستاویز ’’قبولیت‘‘ کہلائی۔ کاشتکاروں کی سہولت کے لیے چوتھا اقدام یہ ہوا کہ وہ زرعی ٹیکس پیداوار (جنس) یا نقد کی صورت ادا کرسکتے تھے۔ نیز انہیں یہ سہولت دی گئی کہ دو اقساط میں ٹیکس ادا کردیں۔ سلطنت کے تمام کاشتکاروں نے نئے زرعی ٹیکس نظام کا خیرمقدم کیا۔ ’’پٹہ‘‘ اور ’’قبولیت‘‘ کی دستاویز سے مکھیا و پٹواری ٹولے کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ اپنی طرف سے ٹیکس عائد کرکے کسانوں کو لوٹ سکیں جبکہ دیگر سہولیات سے بھی کاشتکاروں کو فائدہ پہنچا۔ سب سے بڑھ کر اب نصف سے زائد پیداوار ان کی ملکیت ہوگئی۔ پہلے استحصالی زرعی ٹیکس نظام کے باعث وہ اپنی 75 فیصد پیداوار سے محروم ہوجاتے تھے۔

مشہور ہندو مورخ، ڈاکٹر کالیکارانجن قانون گو (متوفی 1972ء) نے شیرشاہ سوری کی حیات و خدمات پر ایک کتاب لکھی ہے۔ وہ لکھتا ہے:’’ اگر شیرشاہ سوری مزید پانچ سال حکمران رہتے تو ہندوستان سے جاگیرداری نظام مٹ جاتا۔ تب پورے ہندوستان میں چپے چپے پر کھیت و باغ دکھائی دیتے جن کی دیکھ بھال بڑے جوش و ولولے سے کسان اور باغبان کرتے۔‘‘شیرشاہ زراعت کو قومی معاشی نظام کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان ہی ملک کی خوشحالی کا سرچشمہ ہیں۔ لہٰذا وہ خوشحال ہوں گے تو زرعی پیداوار بھی زیادہ ہوگی۔

ان کا خود کہنا تھا ’’افسوس ،مجھے حکومت تب ملی جب مجھ پہ بڑھاپا طاری ہو چکا۔‘‘

تجارت
پہلے تاجروں پر مختلف اقسام کے ٹیکس عائد تھے۔ شیرشاہ نے دو نئے ٹیکس متعارف کرائے اور بقیہ ختم کردیئے۔ ایک ٹیکس اس وقت لیا جاتا جب تاجر مال لے کر سلطنت میں داخل ہوتا اور دوسرا ٹیکس اس وقت جب تاجر منزل پر پہنچ کر اپنا مال فروخت کرتا۔ ٹیکسوں کے خاتمے سے سلطنت میں صنعت و تجارت نے فروغ پایا۔ پڑوسی علاقوں سے کثیر تعداد میں تاجر سلطنت آئے اور اپنا مال سستے داموں فروخت کرنے لگے۔ یوں شہریوں کو عمدہ اشیا سستی ملنے لگیں اور مہنگائی ختم ہوئی۔ سرکاری ملازم بازار کے بھائو ہی سے اشیا خریدتے، انہیں کوئی رعایت حاصل نہ تھی۔

عدل و انصاف
شیرشاہ کا قول تھا کہ عدل اعلیٰ ترین اصول ہے۔ اسی لیے وہ روزانہ معین وقت پر مصیبت زدہ لوگوں کی فریاد سنتے اور موقع پر انصاف کرتے۔ ہر سرکار اور پرگنہ میں قاضی، شقدار اور منصف بھی فریادیوں کی داد رسی کے لیے تیار رہتے۔ بادشاہ کو کرپشن سے سخت نفرت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے حکمرانوں کے وزیر مشیر بے ایمان تھے، اسی لیے وہ کمزور ہوگئے اور میں انہیں شکست دے سکا۔ ہر حکمران کا فرض ہے کہ وہ اطمینان کرلے، اس کے وزیر کرپٹ نہیں۔ رشوت لینے والے افسر اس قابل نہیں کہ بادشاہ کی ملازمت میں رہیں۔ وہ کہتا ’’مجھے رشوت لینے والے شخص سے نفرت ہے۔ ایسا شخص کبھی ملک و قوم اور اپنے آقا کا وفادار نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے۔‘‘شیرشاہ عدل و انصاف کرتے ہوئے عزیز و اقارب حتیٰ کہ بیٹوں کا بھی خیال نہ کرتے۔ اگر جرم ثابت ہوجاتا تو ان کے ساتھ بھی مجرموں کی طرح سلوک ہوتا۔ بادشاہ ظالم کو موقع پر ہی کڑی سزا دیتے اور یوں مظلوم تک فوری انصاف پہنچاتے۔

شاہراہیں اور سرائیں
شیرشاہ سوری کا ایک عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پوری سلطنت میں نئی شاہراہیں تعمیر کرائیں نیز پرانی شاہراؤں کو ازسرنو بنوایا۔ ان کی بنائی چار بڑی شاہراہیں یہ ہیں: (1) سونار گاؤں (نزد ڈھاکہ) تا پشاور بذریعہ آگرہ، دہلی اور لاہور) (2) آگرہ تا قلعہ چتوڑ (3) آگرہ تا برہان پور اور (4) لاہور تا ملتان۔بادشاہ نے تمام شاہرائوں پر ہر دوکوس (چارمیل) بعد سرائیں تعمیر کرائیں۔ مقصد یہ تھا کہ مسافروں کو دوران سفر قیام و طعام کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ ان سراؤں میں مسلمان اور ہندو مسافروں کے لیے الگ بندوبست تھا۔ انہیں کھانا مفت ملتا۔ سراؤں کا خرچ وقف زمینوں کی آمدن سے پورا ہوتا۔

مورخین لکھتے ہیں کہ شیرشاہ سوری نے ایسی سترہ سو سرائیں تعمیر کرائیں۔ شاہراؤں پر اہم مقامات پہ ’’کوس مینار‘‘ بنائے گئے جو دوران سفر مسافروں کو راستہ بتاتے۔ نیز کنوئیں اورل باؤلیاں بنائی گئیں جہاں مسافر اپنی پیاس بجھالیتے۔ شاہراؤں کے کناروں پر ہزارہا درخت لگائے گئے تاکہ مسافر ان کے نیچے بیٹھے کر سستا سکیں۔ غرض شیرشاہ نے ان تعمیرات کے ذریعے اپنے عوام کی آرام و سہولت کا ہر ممکن خیال رکھا۔ شاہراؤں اور سراؤں کی تعمیر سے سلطنت کو بھی گوناگوں فوائد حاصل ہوئے۔ ملکی دفاع پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا۔ شیرشاہ سوری کو سلطنت کے کونے کونے سے خبریں جلد ملنے لگیں۔ تجارت کو فروغ حاصل ہوا۔

ان شاہراؤں کی حفاظت کا بھی بہترین بندوبست تھا۔ شقدار کو حکم تھا کہ اگر کسی علاقے میں ڈاکو، چور یا قاتل کا سراغ نہ ملے تو وہاں کے مکھیا کو گرفتار کرلو۔ مکھیا مجرم کو گرفتار کرا دیتا، تو اسے انعام ملتا۔ گرفتار نہ کرا پاتا تو مجرم کودی جانے والی سزا اسے ملتی جو سزائے موت بھی ہوسکتی تھی۔ شیر شاہ کا کہنا تھا کہ ایک گاؤں میں ہر مجرم کا پتا مکھیا کے تعاون سے مل سکتا ہے۔ ایک بار تفتیش کے باوجود قاتل کا سراغ نہیں ملا۔ شیرشاہ نے اپنے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ وہ موقع واردات پر پہنچ کر درخت کاٹنے لگے۔ مکھیا کو خبر ملی تو وہ درخت کی کٹائی روکنے آپہنچا۔ شاہ کے حکم کی روشنی میں فوراً اسے گرفتار کرکے کہا گیا کہ تمہیں درخت کی کٹائی کا تو فوراً علم ہوگیا مگر یہ نہیں جانتے کے قاتل کہاں ہے۔ فوراً اس کا پتا بتائو ورنہ تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ مکھیا نے دو دن بعد ہی قاتل کا سراغ لگالیا جسے قتل کردیا گیا۔

محکمہ انٹیلی جنس
شیرشاہ سوری نے حکومت مستحکم کرنے اور ہر واقعے سے باخبر رہنے کے لیے جاسوسی کا بہترین نظام قائم کیا۔ تمام شہروں اور قصبات میں جاسوس مقرر کیے۔ یہ جاسوس وزیروں، مشیروں اور بیوروکریسی کے تمام افسروں پر نظر رکھتے ۔ ہر جاسوس روزانہ اپنی رپورٹ براہ راست شیرشاہ کو ارسال کرتا ۔ یوں بادشاہ باخبر رہتے کہ ہر وزیر مشیر کیا کررہا ہے اورعوام الناس کس حال میں ہیں۔ وہ غافل اور کرپٹ وزیر کو برطرف کرنے میں دیر نہ لگاتے ۔شاہرائوں پر ہر سرائے میں دو گھوڑے ہر وقت تیار رہتے ۔ مقصد یہ کہ جو ہرکارے جاسوسی کی رپورٹیں لیے جارہے ہیں، وہ تازہ دم گھوڑوں پر سوار ہوکر جلد دربار پہنچ سکیں۔ یہ جاسوس علاقے میں ہونے والے جرائم کی تفتیش میں شقداروں کی مدد کرتے ۔ سلطنت میں پولیس نہیں تھی۔ شقدار ہی دیگر حکومتی عملے کے تعاون سے امن و امان قائم کرنے کا ذمے دار تھا۔ اگر وہ کوئی کوتاہی برتتا، تو اسے سخت سزا ملتی۔ شیرشاہ نے بعض شقداروں کو سستی برتنے پر قتل کرادیا تھا۔ اسی لیے ہر شقدار اپنے فرائض تندہی سے انجام دیتا۔ انگریز مورخ ، سرہنری ایلیٹ اپنی کتاب ’’ The History of India, as Told by Its Own Historians‘‘ میں لکھتا ہے: ’’شیرشاہ سوری کے دور میں تنہا عورت زیورات کی پوٹلی لیے شاہراہ پہ سفر کرتی اور کسی کی مجال نہ تھی کہ اسے انگلی تک لگا سکے۔‘‘

نئی کرنسی
اقتدار سنبھالتے ہی شیرشاہ سوری نے سلطنت میں نئی کرنسی بھی متعارف کرائی اور پرانے سکے منسوخ کردیئے۔ انہوں نے تین سکے بطور کرنسی سلطنت میں جاری کیے: (1) طلائی سکہ جس کا وزن 10.95 گرام تھا۔ اس کو ’’مہر‘‘ کا نام ملا۔’’اشرفی‘‘ بھی کہا گیا۔ (2) چاندی کا سکہ جو 11.53 گرام وزن رکھتا تھا۔ یہ ’’روپیہ‘‘ کہلایا۔ (3) تانبے کا سکہ جو تقریباً 19.50 گرام وزن رکھتا ۔ اس کو ’’دام‘‘ کا نام ملا۔ عوام الناس میں یہ ’’پیسا‘‘ بھی کہلایا۔ ایک مہر کی مالیت پندرہ روپے تھی جبکہ ایک روپیہ چونسٹھ دام رکھتا۔ نئی کرنسی کو عوام الناس نے بہت پسند کیا کیونکہ نئے سکوں کی بدولت سامان خریدنا آسان ہوگیا۔ کرنسی کا یہ شاندار نظام مغلوں نے بھی بحال رکھا. البتہ انگریزوں نے کاغذی کرنسی کو فروغ دینے اور سونا چاندی لوٹنے کے دوران اپنے دور کے اختتام تک سکوں کا نظام ختم کر دیا۔ آج بھی ڈیڑھ ارب انسانوں کے ممالک (بھارت، انڈونیشیا، پاکستان، سری لنکا، نیپال) کی قومی کرنسی روپیہ کہلاتی ہے۔

عمارتیں
شیرشاہ سوری نے مختصر دور حکومت میں مختلف عمارتیں بھی تعمیر کرائیں۔ ان میں قلعہ روہتاس قابل ذکر ہے جو جہلم کے نزدیک تعمیر کرایا تاکہ وہاں 30 ہزار تک فوجی قیام کرسکیں۔ دہلی میں ’’پرانا قلعہ‘‘ بنوایا جسے ہمایوں نے مزید ترقی دی۔انھوں نے اپنی زندگی میں اپنا مقبرہ بنوالیا تھا۔ یہ اسلامی ہندوستانی فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ انگریزوں نے اسے ’’تاج محل ثانی‘‘ کا خطاب دیا۔ یہ مقبرہ انسان ساختہ جھیل کے وسط میں بنایا گیا۔

فوجی تنظیم
شیرشاہ سوری نے ایک فوج بھی تیار کی جو لڑائی کے لیے ہر وقت مستعد رہتی۔ فوج ڈیڑھ لاکھ گھڑ سواروں، پچیس ہزار پیدل فوجیوں اور پانچ ہزار ہاتھیوں پر مشتمل تھی۔ اس فوج کے ذریعے مضبوط دفاع قائم کیا گیا نیز باغیوں کی سرکوبی کی گئی۔

ذاتی کردار
اکثر حکمرانوں کے برعکس شیرشاہ مطالعہ ِکتب کے شوقین تھے، اس باعث ان کی شخصیت و کردار میں شائستگی و تہذیب ملتی ہے۔ لیکن عملی زندگی جنگ و جدل میں بسر ہوئی اسی لیے انہیں جنگی چالیں بھی چلنا پڑیں۔ تاہم وہ امن کو جنگ پر ترجیح دیتے ۔ اسی لیے ہمایوں سے مفاہمت کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔

ہمایوں کٹر دشمن تھا مگر جب وہ جنگ چوسہ میں اپنی خواتین چھوڑ کر فرار ہوگیا تو شیرشاہ شاہی حرم سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آئے۔ سبھی خواتین کو کڑے پہرے میں آگرہ بھجوا یا۔ اس دور کا کوئی اور فاتح ہوتا تو وہ شاید شاہی حرم کے ساتھ ایسا رحم دلانہ سلوک نہ کرتا۔حکمران ہوتے ہوئے بھی شیرشاہ سادہ مزاج تھے۔ ایک بار ہمایوں کا سفیر ملنے آیا تو دیکھا کہ تپتی دھوپ میں وہ گڑھا کھودتے ہیں۔ شیرشاہ نے اسے وہیں بٹھالیا اور باتیں کرنے لگے۔ بعد ازاں ہمایوں کے سفیر نے کہا ’’حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ مگر کدال ہاتھ میں لے کر غیر معمولی بادشاہ ہی کام کرسکتے ہیں۔‘‘ فیاضی شیر شاہ کی نمایاں خصوصیت تھی۔ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ اسی خاصیت کے باعث کئی دشمن اپنے دوست بنالیے۔ ان ساتھیوں نے پھر انہیں حکمران بننے میں مدد دی۔ بادشاہ بن کر سلطنت میں جابجا باورچی خانے (مطبخ) قائم کیے جہاں سے غریبوں، محتاجوں اور سپاہیوں کو مفت کھانا ملتا۔ ایسے ہر باورچی خانے کا روزانہ خرچ پانچ سو اشرفیاں تھا۔

غیر مسلم دانشوروں کا خراج تحسین
شیرشاہ کے عوام دوست اقدامات اور زبردست گڈگورننس کی وجہ سے ہندو اور انگریز مورخین بھی اس مسلم حکمران کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، ملاحظہ فرمائیے:
٭ ’’ہندوستان میں اس پٹھان نے سب سے بہترین نظام حکومت قائم کیا۔ انگریز بھی اس حد تک نہیں پہنچ سکے۔‘‘ ہنری جارج کین از A Sketch of the History of Hindustán۔
٭ ’’یہ شیرشاہ سوری ہے جس کی قائم کردہ انتظامی مشینری کے ذریعے مغل تین سو سال تک حکومت کرتے رہے۔ وہ ایسی مشینری شاید خود نہ بنا پاتے۔‘‘ رشبروک ولیمز از An Empire Builder of the Sixteenth Century
٭ ’’ شیرشاہ سوری ہندوستان کا پہلا حکمران ہے جس نے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حکومت قائم کی۔‘‘ ولیم کروک از The tribes and castes of the North-western Provinces and Oudh
٭ ’’میں شیرشاہ سوری کو ہندوستان کا عظیم ترین حکمران سمجھتا ہوں۔‘‘ سروولزلے ہیگ از The Cambridge history of India Vol. III Turks and Afghans
٭ ’’شیرشاہ سوری ملک و قوم کا تعمیر کنندہ تھا۔ (مرہٹہ سلطنت کے بانی) شیوا جی اور شیر شاہ سوری میں بہت سی خوبیاں مشترکہ ہیں۔‘‘ جادو ناتھ سرکار از Shivaji and his Times
٭ ’’میں اکبر کے بعد شیرشاہ سوری کو ہندوستان کا عظیم ترین مسلم حکمران سمجھتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر اے ایل سری واستوا از Sher Shah Suri and His Successors

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو