کشمیر، سیاہ چین اور خیبر پختونخواہ کا نیا نقشہ

وفاقی کابینہ نے سیاسی نقشے کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے. پورے ملک کے تعلیمی اداروں کے نصاب سمیت ہر جگہ نئے جاری کردہ نقشے کا استعمال کیا جائے گا۔

اس نقشے کو پاکستانی کی سیاسی جماعتوں اور کشمیری قیادت کی تائید حاصل ہے، مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

نیا نقشہ پاکستان کا نقشہ ہوگا، پاکستان نے اپنی جغرافیائی حدود کا تعین کردیا ہے، نیا سرکاری نقشہ پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا ہے، نئے نقشے میں سیاچن کو پاکستان کا علاقہ دکھایا گیا ہے، سیاچن کل بھی ہمارا تھا اور آج بھی ہمارا ہے، بھارت نے 5 اگست کے بعد غیر قانونی نقشہ جاری کیا اسے مسترد کیا گیا ہے۔ پوری قوم پاکستان کے سیاسی نقشے پر متفق ہے۔ اس نقشے کے اجرا سے بھارت کے کشمیر میں 5 اگست کو کیے گئے اقدام کی نفی کر دی گئی ہے۔

نئے سیاسی نقشے میں سابقہ فاٹا کے علاقوں کو باضابطہ طور پر خیبر پختونخوا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ بھارت سرکریک پر غیر قانونی دعوے کے ذریعے ہمارے صنعتی زون کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ نئے نقشے میں بھارتی سرکریک پر بھارتی دعوے کی نفی کی گئی ہے۔

مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے۔ ہم سیاسی جدوجہد کریں گے، فوجی جدوجہد کو نہیں مانتے، پاکستانی قوم کشمیر کے لیے جدوجہد کرے گی۔ پاکستان کے تمام سیاستدانوں نے نئے نقشے کی تائید کی، یہی نقشہ اب پاکستان کا سیاسی نقشہ ہوگا۔

5 اگست، یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کی مناسبت سے ایک کتابچہ بھی تیار کیا گیا ہے جو دنیا بھر کے ارکان پارلیمنٹ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھجوایا جائے گا۔ ارکان سینیٹ نے شاہراہ دستور پر ہونے والے خصوصی واک میں بھی شرکت کی۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے مودی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں شہری، سیاسی اور معاشی حقوق کے مسلسل معطلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال نے خطے میں عدم استحکام کیا ہے جس کے پیش نظر علاقائی اور عالمی رہنما جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے انسانی حقوق کی حمایت کریں اور پاکستانی و بھارتی حکومتیں مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں، ایسے مذاکرات جس میں کشمیریوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

ادھر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے پورے مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کی کال دی ہے۔

بھارتی حکومت نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے متنازع علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، ایک سال میں بھارت نے کشمیر کو مکمل بند اور اس کی معیشت کو تباہ کردیا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے ملک کے سیکولر تشخص کو بگاڑنے کا ذمے دار ہے، بھارت آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ نظریہ کے زیر تسلط ہے، آج بھارت کے مسلمانوں کو ویسے ہی حالات کا سامنا ہے جو نازی جرمنی میں یہودیوں کو درپیش تھے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے تمام ممکنہ پر امن راستے بروئے کار لائے ہیں۔

تاہم بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کی ہر کسی قسم کی پْرامن کوشش کو رد کیا ہے۔

دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت 5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس بھی ہوا ہے. جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، معاون خصوصی قومی سلامتی معید یوسف، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، وفاقی سیکریٹری اطلاعات اکبر حسین درانی اور اعلی عسکری حکام نے شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے اپنے دورہ لائن آف کنٹرول چری کوٹ سیکٹر اور مظفر آباد کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سمیت کشمیر کی سیاسی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی بتایا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نہتے اور معصوم شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے، پوری کشمیری قوم بھارت کے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرچکی ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو