گوریلا جنگجو نیستور ماخنو

انقلابی گوریلا جنگجو’’ نیستور ماخنو‘‘ نے چار سال کے مختصر عرصہ میں اپنی کم تعداد میں بلا تنخواہ رضاکارانہ طور پر قائم کی گئی کسان فوج (بلیک آرمی) کو اس دور کی سپر پاورز ’’آسٹرو۔ہنگری فوج‘‘ ،’’سوویت یونین کی ناقابل شکست ریڈ آرمی‘‘، زار روس کی حمایت میں سرگرم ’’وائیٹ آرمی‘‘ اور یوکرین کی انتہائی طاقتور ’’فیڈرل آرمی‘‘ سے لڑایا اور ان کو بری طرح سے شکست دی۔

نیستور ماخنو 7 نومبر 1888ء میں یوکرین میں پیدا ہوئے۔ جب وہ دس روز کے تھے تو ان کے والد انتقال کرگئے۔ وہ غریب کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ شدید غربت کی وجہ سے اسے سات سال کی عمر میں باورچی کے ساتھ کھانا پکانے کی نوکری کرنی پڑی۔ 11 سال کی عمر میں بیل گاڑی چلانے کا کام کیا۔ غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے وہ 20 سال کی عمر میں اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جس کے بعد وہ ایک خوشحال کسان کی زمین پر اجرتی ملازم بن گئے۔ اسی دوران وہ ایک انارکسٹ گروپ میں شامل ہوگئے۔

پھر فنڈنگ کے لیے ڈاکہ ڈالنے گئے تو ایک پولیس افسر مارا گیا اور یوں نیستور ماخنو 1910ء میں گرفتار ہوگئے۔ عدالت نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا۔ بعد ازاں نو عمری کی وجہ سے حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور اسے ماسکو جیل منتقل کیا گیا۔ 5 فروری 1914ء میں زار روس کے خلاف روس میں برپا ہونے والے ’’ فروری انقلاب ‘‘ کے بعد قیدیوں کو عام معافی دی گئی تو نیستور ماخنو بھی جیل سے رہا کردیے گئے۔ جیل میں ان کی ملاقاتیں دیگر سرگرم اور معروف انارکسٹ کامریڈوں سے ہوئیں، جو جیل میں بند تھے۔ انھوں نے انارکسٹ کامریڈوں سے بہت کچھ سیکھا۔1917ء میں انقلاب روس کے بعد کامریڈ نیستور ماخنو نے یوکرین میں انڈیپینڈنٹ انارکسٹ ٹیری ٹوری یعنی ’’ یوکرین کا خود مختار انارکسٹ خطہ ‘‘ تشکیل دیا اور کامریڈ ماخنو اس خود مختار کسان آرمی جسے بلیک آرمی بھی کہا جاتا تھا اس کے کمانڈر بن گئے۔ 1918ء میں آسٹرو۔ہنگری کی فوج کے حملے کو پسپا کیا۔ پھر پروشین فوج (جس میں جرمن فوج بھی شامل تھی) کو شکست دیکر ان کے حملے کو بھی ناکام بنا دیا۔کامریڈ نیستور ماخنو کے بھائی جو ان کے زبردست حامی تھے، وہ پروشین فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے جنھیں ڈیتھ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولی مار دی گئی۔ 1919ء میں جب سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے یوکرین پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کی تو اسے بھی منہ کی کھانی پڑی۔انقلاب کے بعد ابھی روس مکمل آزاد نہیں ہوا تھا۔ 1919ء میں ہی زار شاہی کی سفید فوج نے ماسکو کے قریب جنرل ڈینکن کی سرکردگی میں دو شہروں پر قبضہ کرلیا تھا اور ماسکو کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔ اس موقع پر لینن نے کامریڈ نیستور ماخنو سے اپیل کی کہ سفید فوج (وائیٹ آرمی) سے لڑنے میں آپ ہمارا ساتھ دیں۔ جس پر کامریڈ نیستور ماخنو نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب بھی جنگ ختم ہوئی اور آپ طاقتور ہوگئے تو آپ ہم پر ہی حملہ کریں گے۔بحر حال نیستور ماخنو نے لینن کا ساتھ دیا اور جنرل ڈینکن کی سفید فوج کو ماسکو کے قریب شکست دے دی۔ جس پر بالشویکوں نے اسے ’’ماسکو کا محافظ ‘‘ کا خطاب دیا۔ ٹراٹسکی جو کہ ریڈ آرمی کے سربراہ تھے، انھوں نے کامریڈ نیستور ماخنو کو کسان فوج کو ریڈ آرمی میں شمولیت کے بدلے جنرل کے عہدے کی پیشکش کی مگر اسے انھوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ہم انارکسٹ عہدوں کے خلاف ہیں۔1919ء کے اواخر میں ٹراٹسکی کے حکم پر ریڈ آرمی نے جنوبی یوکرین کے انارکسٹ خطے کے دارالحکومت ’’ ہولائی پول ‘‘ پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کردیا مگر نیستور ماخنو کی زیر سرپرستی کسان آرمی نے ریڈ آرمی کی استونیا ڈویژن کے 20 ہزار فوجیوں کو نرغے میں لیکر ان سے اسلحہ چھین کر انھیں گرفتار کرلیا۔ اس واقع کے بعد لیوئن ٹراٹسکی نے کامریڈ ماخنو سے ایک تحریری معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی رو سے ماخنو نے ریڈ آرمی کے گرفتار 20 ہزار جوانوں کو رہا کرنا تھا اور اس کے بدلے میں سوویت یونین میں قید تمام انارکسٹوں کو رہائی ملنی تھی۔ ماخنو نے معاہدے کے مطابق ریڈ آرمی کے گرفتار تمام جوانوں کو رہا کردیا مگر بالشویکوں نے معاہدے پر عمل نہیں اور جیلوں میں بند انارکسٹوں کو رہا نہیں کیا۔1920ء میں جنرل رینگلز کی قیادت میں سفید آرمی جنوبی یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے پہنچی تو ماخنو کی زیر قیادت کسان آرمی (بلیک آرمی) نے سفید آرمی پر اچانک دھاوا بول دیا اور ان کے چار ہزار فوجی گرفتار کرلیے ، اسلحہ کا ڈپو لوٹ لیا اور سپلائی لائن کاٹ دی۔ ان کے باقی فوجی زخمی ہوئے یا راہ فرار اختیار کرلی۔ جنوبی یوکرین میں جاگیرداری تھی تو کامریڈ نیستور ماخنو نے جاگیرداری ختم کرکے زمینیں کسانوں میں بانٹ دی تھیں۔ یوکرین میں سفید فوج کو شکست دیکر واپس آنے والی کسان آرمی کو روسی فوج کے کمانڈنٹ نے دعوت دی کہ جنرل رینگلز اور ان کی سفید آرمی کو مکمل طور پر صفایا کرنے کی خوشی میں ایک جشن کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں آپ کو اور آپ کے دیگر ساتھی کمانڈرز کو شرکت کرنی ہے۔نیستر ماخنو نے یہ دعوت قبول کرلی اور اپنی کسان فوج کو ہلائی پول روانہ کرکے خود جشن فتح میں شرکت کرنے کے لیے چلے گئے۔ یہ جشن فتح دراصل ایک سازش تھی جس میں اہم کردار بذات خود لینن کا تھا۔ ماخنو اور ان کے ساتھی انارکسٹ کمانڈرز جیسے ہی تقریب میں پہنچے تو ریڈ آرمی نے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ نیستر ماخنو جو کہ ایک گوریلا جنگجو تھے وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہوکر اپنے دارالحکومت ہولائی پول زخمی حالت میں پہنچے جب کہ ان کے بقیہ ساتھی کمانڈرز مارے گئے۔ اب ریڈ آرمی کے لیے کامریڈ ماخنو کو شکست سے دوچار کرنا آسان ہوگیا۔ہوا یہ کہ لینن نے یوکرین میں موجود ریڈ آرمی کے سربراہ کرسچن راکوفسکی کو براہ راست دو خفیہ خطوط لکھے۔ ایک خط میں حکم دیا گیا تھا کہ نیستور ماخنو کے سر کی قیمت مقرر کی جائے اور اسے قتل کیا جائے۔ دوسرے خط میں کہا گیا تھا کہ ماخنو کے تمام انارکسٹ ساتھیوں کو گرفتار کیا جائے ، انھیں جلاوطن کیا جائے یا جیلوں ڈالا جائے۔ ان خطوط میں دیے گئے احکامات پر عمل کرنے کے لیے ریڈ آرمی نے جنوری 1921ء میں ہولائی پول پر حملہ کردیا۔ زخمی ماخنو نے زبردست مقابلہ کیا مگر وہ اپنے کمانڈر ساتھیوں کی غیر موجودگی میں زیادہ دنوں تک مقابلہ نہ کرسکا اور شدید زخمی ہوگیا۔زخمی حالت میں اپنے 77 ساتھیوں کے ساتھ رومانیہ فرار ہوگیا۔ مگر رومانیہ پر سوویت یونین کا اثر تھا، لہٰذا کامریڈ ماخنو کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم وہ وہاں سے فرار ہوکر پولینڈ چلا گیا، جہاں پر اسے دو بار گرفتار کیا گیا۔ پہلی بار گرفتار ہوا تو مقدمہ چلا اور اسے بے قصور قرار دیکر رہا کردیا گیا۔ دوسری بار گرفتار ہوا تو کامریڈ الیگزینڈر برک مین کی مداخلت پر رہائی ملی۔ اس کے بعد وہ وہاں سے برلن پہنچا اور بعد ازاں لندن پہنچا۔ مگر یہاں بھی اس کے لیے پریشانیاں تھیں، جس کی وجہ سے وہ فرانس چلے گئے اور اپنی بقیہ زندگی پیرس میں گزاری۔ پیرس میں انھوں نے بڑھئی (کارپینٹر ) کا کام کیا۔ بعد میں کاریں بنانے والی ’’ رینالٹ ‘‘ کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ کامریڈ ماخنو نے فلموں اور تھیٹر میں بھی کام کیا۔ فرانس میں ان پر جو فلم بنائی گئی اس میں انھوں نے اپنا کردار خود ادا کیا۔ دنیا کے سب سے بڑے گوریلا لیڈر نیستور ماخنو دمہ (T.B)کے مرض میں مبتلا ہوا اور 25 جولائی 1934ء کو 45 سال کی عمر میں پیرس میں انتقال کرگئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو