بحیثیت ایک اکائی ہمارا ہر عمل معاشرے میں اچھائی یا برائی کا سبب بن رہا ہے۔ امیر تنظیم الاخوان

جس طرح کسی قسم کا تعفن کہیں بھی ہو تو جب تک اس کو جڑ سے ختم نہ کریں وہ پھیلتا چلا جاتا ہے بلکل اسی طرح معاشروں میں کوئی بھی خرابی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو معاشروں میں مجموعی طور پر ایسا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو ظاہری تدبیروں سے حل نہیں ہوتا جب تک اپنے اندر سے انانیت اور تکبر کو ختم کرکے قرب الٰہی کو حاصل نہ کریں اللہ کریم نے انسان کی تخلیق کر کے اس میں روح پھونکی اورملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔ اس طرح انسانی زندگی عمومی نہیں ہے بلکہ اسے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔

اللہ کریم نے انبیاء و رسل کے ذریعے مخلوق کو تعلیم فرمائی کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے زندگی کن حدود میں رہ کر گزارنی ہے کون سے کام کرنے درست ہیں اور کون سے ایسے اعمال ہیں جو اللہ کریم کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ ہماری زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت مختصر ہے ہم اپنے ہاتھوں سے عزیز و اقارب کو دفن کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ کل میری بھی انتہا ہونی ہے، مجھے بھی موت آنی ہے جب تک اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی کو نہ گزارا جائے اعمال درست نہیں رہ سکتے۔

آج ہم اسلام سے اس قدر دور ہو گئے ہیں کہ ہماری پسند اور نا پسند صرف دنیاکی حد تک رہ گئی ہے۔ ہم نبی کریم ﷺ کی ذات سے لے کر صحابہ کرام ؓ اور خانوادہ رسول ﷺ کو سوشل میڈیا میں زیر بحث لاتے ہیں۔ کئی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں جن کو دیکھنا اور سننا بس میں نہیں ہوتا۔ غیر مسلم ہماری غیر ت ایمانی کو پکارتے ہیں۔ کیا ہم 50 سے زائد اسلامی ممالک اپنا ایک اتحاد نہیں بنا سکتے۔ ہمارا اپنا سوشل میڈیا ہو جس پر کسی کی جرات نہ ہو کہ اسلام کے خلاف بات کر سکے۔

اللہ کریم تمام امت مسلمہ کو اتفاق اور اتحاد نصیب فرمائے اور اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر ایک نقطہ اتحاد پر جمع فرمائے جو نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آمین

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
امیر تنظیم الاخوان پاکستان

دارالعرفان، منارہ، ضلع چکوال

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو