امریکی اشرافیہ موساد کے شکنجے میں

’’میں مظلوم کی ہر ممکن مدد کروں گا چاہے وہ میرا دشمن ہو۔ مگر میں غدار کو کبھی معاف نہیں کر سکتا چاہے وہ میرا بھائی ہی ہو‘‘. ارطغرل، بانی سلطنت عثمانیہ

پچھلے دنوں انکشاف ہوا کہ کراچی کا جرائم پیشہ رہنما، عذیر بلوچ غدار بھی تھا۔ اس نے پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی کو پاکستانی عسکری تنصیبات کی تفصیل بھی فراہم کی تھیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی، را سے بھی رابطے میں رہا ہو۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے غدار پائے جاتے ہیں جو خصوصاً دشمنوں کا ساتھ دے کر پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں۔انہی بدبختوں کے متعلق شاعر مشرقؒ نے فرمایا تھا:

جعفراز بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن

(بنگال میں نواب سراج الدولہؒ سے غداری کرنے والے میر جعفر اور دکن میں سلطان ٹیپوؒ کے غدار میر صادق کا وجود انسانیت، دین اور وطن تینوں کے لیے باعث عار اور شرمناک ہے)

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک میں لوگوں کو غدار بنانے کی خاطر بہت پاپڑ بیلتی ہیں۔ کبھی زر کا جال پھینکا جاتا ہے تو کبھی زن و زمین کا۔ لالچی اور خواہش پرست انسان آخر اس جال میں پھنس کا ملک و قوم سے غداری کرنے کا ناقابل معافی جرم کر بیٹھتے ہیں۔ اس خرابی سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں چاہے وہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکا ہی ہو۔ یہ کھیل بہت پرانا ہے اور لالچ نے بہت سے ممالک اور آنے والی نسلوں کو برباد تک کردیا۔

حال ہی میں انکشاف ہوا کہ امریکا کا بدنام زمانہ متوفی کھرب پتی، جیفرے اپستین (Jeffrey Epstein) اسرائیلی خفیہ ایجنسی، موساد کا ایجنٹ تھا۔ موساد اس کے ذریعے دنیا بھر خصوصاً امریکا کے ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں کو جنس کے ہتھیار کی مدد سے جال میں پھانستی اور پھر انہیں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر استعمال کرتی ۔

جیفرے کی کہانی ڈرامائی اور حیرت انگیز ہے۔ یہ عیاں کرتی ہے کہ خفیہ ایجنسیاں کیونکر ہر ملک میں جاسوسی کے جال بچھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں اور یہ بھی کہ بظاہر قانون پسند اور انسانی حقوق کے چیمپئن بنے بیٹھے ملکوں میں بھی اقتدار کے ایوانوں میں اخلاقیات، قانون اور اصولوں کو پیروں تلے روند کر بڑے گھناؤنے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔

امریکی اور مغربی میڈیا میں مگر یہ انکشاف چھپالیا گیا کہ جیفرے موساد کا ایجنٹ تھا۔ وجہ ظاہر ہے۔ امریکی مغربی میڈیا کے بیشتر مالکان یہودی یا ان کے آلہ کار ہیں۔ اسی لیے وہ موساد کو بدنام کرنے والی خبریں زیادہ نمایاں نہیں ہونے دیتے۔ چنانچہ عام امریکی اس تلخ سچائی سے ناواقف ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی اپنے ایجنٹوں (اور امریکا کے غداروں) کی مدد سے سرزمین امریکا پر نہایت خوفناک کھیل کھیلنے میں مصروف رہی۔ اس کھیل کا واحد مقصد جنس کی فطری ضرورت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر امریکی ایلیٹ طبقے کو اپنے قابو میں لانا تھا۔

امریکا میں جیفرے اپستین کے طریق واردات پر روشنی ڈالتی پندرہ سے زائد کتب شائع ہوچکیں۔ ان میں

Filthy Rich: The Shocking True Story of Jeffrey Epstein،

Epstein: Dead Men Tell No Tales، TrafficKing: The Jeffrey Epstein case اور Relentless Pursuit: My Fight for the Victims of Jeffrey Epstein

قابل ذکر ہیں۔ یہ منکشف کرتی ہیں کہ کیسے ایک غریب گھرانے میں جنم لینے والا ناجائز بچہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا آلہ کار بنا۔ جو آشکارا کرتی ہے کہ مغربی ممالک کے معاشرے میں موساد نے گہرائی میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور وہ خصوصاً امریکی ایلیٹ طبقے میں نفوذ کرکے انہیں مختلف حیلے بہانوں اور ہتھکنڈوں سے اپنے قابو میں کرتی ہے تاکہ ان کے ذریعے مملکت اسرائیل کے مفادات کی تکمیل ہوسکے۔

مثال کے طور پر امریکی پارلیمنٹ (کانگریس)، فوج اور افسر شاہی کے بہت کم ارکان مسلم ممالک بالخصوص فلسطین میں جاری اسرائیلی حکومت کے ظلم و ستم پر احتجاج کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے، امریکی ایلیٹ طبقے کے بیشتر ارکان کے ضمیر خوابیدہ ہیں؟ وہ اسرائیلی حکمران طبقے کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی کیوں خاموش رہتے ہیں؟ ایک اہم وجہ یہ ہے کہ موساد ان کی نجی زندگی کے بارے میں چشم کشا راز اپنے قبضے میں رکھتی ہے۔ یہ راز منظر عام پر آجائیں تو امریکی عوام میں ان کی عزت دو کوڑی کی نہ رہے۔ لہٰذایہ راز پوشیدہ رکھنے کی خاطر امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان موساد کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ پھر آزادی سے اہم معاملات پر رائے نہیں دے پاتے۔ جیفرے کی داستان یہی خوفناک سچائی بڑی بے باکی سے سامنے لاتی ہے۔

یہود کی سرپرستی

جیفرے اپستین 1952ء میں نیویارک میں پیدا ہوا۔ اس کا یہودی دادا انیسویں صدی میں روس سے امریکا آیا تھا۔ باپ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجی رہا۔ جنگ کے بعد بلدیہ نیویارک میں اسے بطور مالی ملازمت مل گئی۔ اس کا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ بیسی نامی لڑکی کو کئی سال داشتہ بنائے رکھا۔ جب وہ حاملہ ہوگئی تو مجبوراً اس سے شادی کرنا پڑی۔ چند ماہ بعد جیفرے پیدا ہوا۔ اس نے مقامی سکولوں میں تعلیم پائی۔ وہ ایک عام طالب علم تھا۔ تاہم ایک عمل ترقی کرنے کی وجہ بن گیا۔ وہ یہ کہ امریکا میں سبھی یہودی ایک دوسرے سے تعلق رکھتے اور آگے بڑھنے میں مدد کرتے ہیں. چاہے انہیں غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرنا پڑیں۔ جیفرے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ وہ نیویارک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا کہ 1973ء میں مشہور ڈالٹن سکول کے پرنسپل، ڈونالڈ بر نے اسے بطور ریاضی استاد ملازمت دے دی۔

ڈونالڈ بر دوسری جنگ عظیم میں امریکی خفیہ ایجنسی، او ایس ایس کا افسر رہا تھا۔ اسی ادارے کے بطن سے نئی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے جنم لیا۔ ڈونالڈبر اس سے بھی منسلک رہا۔ وہ پھر شعبہ تعلیم کی سمت آگیا۔ امریکی محقق لکھتے ہیں کہ ڈونالڈ بر نے جیفرے کا جعلی سی وی تیار کیا۔ اس میں اسے گریجویٹ دکھایا گیا حالانکہ وہ ابھی زیر تعلیم تھا۔ ڈونالڈ بر نے یہ فراڈ انجام دے کر بہ حیثیت پرنسپل جیفرے کو بھرتی کرلیا۔ یاد رہے ڈونالڈ بھی یہودی تھا۔ گو ترقی کرنے کی خاطر وہ نوجوانی میں عیسائی بن گیا، مگر اس نے یہودی کمیونٹی سے تعلقات برقرار رکھے۔ اسی لیے وہ جیفرے کو جانتا تھا۔

1973ء میں ڈونالڈبر نے ایک ناول’’ Space Relations‘‘ لکھا تھا۔ اس میں ایک سیارے کا تذکرہ ہے جہاں ایلیٹ طبقے نے خواہشات کی تکمیل کے لیے بچوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ تعجب خیز بات یہ کہ کئی سال بعد جیفرے نے اسی کریہہ انگیز تصّور کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔

ڈالٹن سکول میں نیویارک کے طبقہ ایلیٹ سے تعلق رکھنے والے لڑکے لڑکیاں پڑھتے تھے۔ انہیں پڑھاتے پڑھاتے جیفرے لڑکیوں سے عشق لڑانے لگا۔ یہی وجہ ہے، سکول انتظامیہ نے اس کی ناشائستہ سرگرمیوں کی وجہ سے اسے نکال دیا۔ تب تک جیفرے کا مربی، ڈونالڈبر بھی سکول چھوڑ چکا تھا۔ آج کل اس کا بیٹا، ولیم بر امریکا میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہے۔ اس کی رگوں میں بھی یہود کا خون دوڑ رہا ہے۔ بظاہر یہ کیتھولک ہے۔ امریکا میں مسلم مہاجرین کی آمد کا سخت مخالف ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا، ڈالٹن سکول میں امرا کے بچے پڑھتے تھے۔ انہی میں ایلن گرین برگ کے بچے بھی شامل تھے۔ ایلن ایک سرمایہ کار کمپنی، بیئر سٹرنز (Bear Stearns) میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اس کا یہودی دادا روس سے آیا تھا۔ جیفرے نے موقع پا کر اس سے تعلقات قائم کرلیے اور ایلن گرین برگ کے بچوں کو پڑھانے لگا۔ یہ تعلقات رنگ لائے اور ایلن نے کہیں زیادہ تنخواہ پر جیفرے کو اپنی کمپنی میں ملازمت دلوادی۔ یہ 1976ء کی بات ہے۔

پہلا جرم

1978ء میں ایلن اپنی کمپنی کا سی ای او بن گیا۔ اب تو جیفرے کی گویا لاٹری نکل آئی۔ وہ کمپنی میں تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ 1980ء تک وہ کمپنی کا حصے دار بن چکا تھا۔ اس نے امریکا کے نامی گرامی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور تاجروں سے تعلقات بڑھالیے۔ 1981ء میں مگر اسے کمپنی سے نکال دیا گیا۔ دراصل جیفرے ’’ان سائیڈ ٹریڈنگ‘‘ کرتے ہوئے پکڑا گیا جو امریکا میں جرم ہے۔ تاہم ایلن گرین برگ سے تعلقات کے باعث جیفرے مقدمے میں پھنسنے سے بچنے میں کامیاب رہا۔ اس نے جلد ہی اپنی کمپنی کھول لی۔ وہ ان دولت مندوں کو اپنی خدمات پیش کرنے لگا جن کا سرمایہ فراڈیے بروکر یا وکیل ہڑپ کرجاتے تھے۔ جیفرے کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کوششوں سے ان کا سرمایہ بہ عوض فیس واپس کرا سکتا ہے۔ اس امر سے افشا ہوتا ہے کہ تب جیفرے سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا تھا۔ ظاہر ہے، خفیہ ایجنسی سے اپنے تعلقات کے بل بوتے پر ہی اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے گاہکوں کو جرائم پیشہ لوگوں سے رقم واپس دلوا دے گا۔

اس زمانے میں جیفرے کے پاس آسٹریا کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اس میں تصویر تو اسی کی تھی مگر نام جعلی تھا۔ پاسپورٹ میں اسے سعودی عرب کا سکونتی بتایا گیا۔ یہ جعلی پاسپورٹ 2019ء میں جیفرے کی گرفتاری کے بعد اس کے گھر میں موجود تجوری سے برآمد ہوا۔ اسی دور میں وہ اسلحہ بھی اپنے پاس رکھتا تھا۔ ان دونوں ثبوتوں سے عیاں ہے کہ جیفرے تب اپنے سرپرستوں کی مدد سے سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا تھا۔ جیفرے نے اس زمانے جن گاہکوں کے لیے اپنی خدمات انجام دیں، ان میں عدنان خشوگی کا نام بھی شامل ہے۔ تب یہ ایک بہت بڑا سعودی اسلحہ ڈیلر تھا۔ ممکن ہے کہ اسی سے تعلقات کی بنا پر جیفرے کے جعلی پاسپورٹ میں سعودی عرب کا پتا لکھ دیا گیا۔

1987ء میں ایک امریکی صیہونی عیسائی (صیہونیت سے رغبت رکھنے والے غیر یہودی) سٹیون ہوفن برگ نے جیفرے کی خدمات حاصل کرلیں۔ یہ شخص مہا فراڈیا تھا۔ اس نے ایک کمپنی، ٹاورز فنانشل کارپوریشن کھول رکھی تھی۔ یہ دراصل ’’پونزی اسکیم‘‘ (Ponzi scheme) تھی یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری کے نام پر رقم بٹورنے کا بہانہ تھا۔ جیفرے نے اسے مزید مالیاتی طریقے بتائے جن کی مدد سے سٹیون دھوکے بازی کے ذریعے عوام سے مزید سرمایہ چھین سکتا تھا۔ 1993ء میں کمپنی کا فراڈ طشت ازبام ہوگیا۔ مگر اس سے قبل 1989ء میں جیفرے کمپنی کو چھوڑ چکا تھا۔ بنیادی وجہ یہ کہ انہی دنوں اسرائیلی خفیہ ایجنسی، موساد نے بھی جیفرے کو اپنا ایجنٹ بنالیا تھا۔

موساد سے رابطہ

موساد اس لحاظ سے دنیا کی عجیب و غریب خفیہ ایجنسی ہے کہ وہ جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے دوست دشمن میں تمیز نہیں کرتی۔ وہ صرف اسرائیل کے مفادات مدنظر رکھتی اور ضرورت پڑنے پر اپنے سرپرست، امریکی حکمران طبقے کو بھی چونا لگا جاتی ہے۔ پچھلے اسّی برس میں ایسے کئی واقعات جنم لے چکے جب موساد کے ایجنٹ امریکا میں امریکیوں کی جاسوسی کرتے یا امریکی مفادات کونقصان پہنچاتے پکڑے گئے۔ ان ایجنٹوں کو سزائیں بھی ملیں مگر یہ سلسلہ رک نہیں سکا۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ امریکا میں یہودی امریکی حکمران طبقے میں اتنا زیادہ نفوذ کرچکے کہ وہ اپنے مفادات کو ایک حد سے زیادہ کبھی متاثر نہیں ہونے دیتے۔

یہ یقینی ہے کہ 1988ء کے آس پاس موساد نے امریکی یہودی، جیفرے اپستین کو اس لیے اپنا ایجنٹ بنایا تاکہ امریکا کے مالیاتی شعبے میں دخل ہوسکے۔ وہ اس کی وساطت سے امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، تاجروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈائریکٹروں وغیرہ کے پوشیدہ راز جاننا چاہتی تھی۔ بہرحال موساد کا ایجنٹ بن کر جیفرے کی حیثیت اور مرتبے میں زیادہ اضافہ ہوگیا۔ ظاہر ہے، اس کی چرب زبانی اور پُرکشش شخصیت دیکھ کر ہی موساد نے اسے اپنا ایجنٹ بنایا۔ موساد کو یقین تھا کہ وہ دیئے گئے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جیفرے کی داستان عجب سے عیاں ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک میں یہود ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ترقی کی سیڑھی چڑھنے میں ہم مذہبوں کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کی قومی سلامتی کا معاملہ ہو تو وہ دل کھول کر رقم لٹاتے ہیں۔ جیفرے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ وہ موساد کا ایجنٹ بنا، تو امریکا میں اسے ایک اور امیر کبیر یہودی مربی، لس ویکسنر مل گیا۔ وہ ایل برانڈز (L Brands) نامی کمپنی کا کھرب پتی مالک تھا۔

غلیسین کے ساتھ شراکت

لس ویکسنر نے جیفرے کو اپنا مالیاتی مشیر بنالیا۔ ساتھ ساتھ وہ اسے امریکا اور برطانیہ میں موساد کے ایسے خفیہ ایجنٹوں سے ملانے لگا جو ’’ہائی سوسائٹی‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بظاہر معززین میں شامل تھے مگر حقیقتاً امریکی و برطانوی معاشروں میں سرگرم بیشتر یہودی کسی نہ کسی طرح اسرائیل کو فائدہ پہنچارہے تھے۔ انہی میں رابرٹ میکسویل بھی شامل تھا، برطانیہ میں ایک بڑا میڈیا ٹائکون۔

رابرٹ میکسویل روسی یہودی تھا۔ 1948ء میں موساد کا ایجنٹ بن گیا۔ بعد ازاں یورپی ممالک میں سرگرم یہود کی مدد سے ترقی کرتا گیا۔ اس نے مختلف اخبارات و رسائل خرید لیے جن میں ڈیلی مرر نمایاں تھا۔ وہ ان کے ذریعے اسرائیلی مفادات کی تکمیل کرنے لگا۔ اس نے جیفرے کو بھی بتایا کہ میڈیا کو پروپیگنڈا ہتھیار کیسے بنایا جاتا ہے تاکہ یورپ اور امریکا میں عوام اسرائیلی مفادات سے ہمدردی اور قربت محسوس کرنے لگیں۔

جیفرے نے رابرٹ میکسویل کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اس کی بیٹی، غلیسین کے ساتھ تعلقات قائم کرلیے۔ وہ ایک سوسائٹی گرل تھی۔ جو مرد اسے بھاتا، اس کے ساتھ نتھی ہوجاتی۔ دونوں کا معاشقہ جاری تھا کہ 1991ء میں بظاہر کاروباری خسارے کے باعث رابرٹ نے خودکشی کرلی۔ لیکن اندرون خانہ کے رازوں سے شناسا امریکی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ رابرٹ نے اسرائیلی حکومت سے دس ملین ڈالر طلب کیے تھے تاکہ اپنے گرتے کاروبار کو سہارا دے سکے۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر رقم نہ ملی تو وہ برطانیہ اور امریکا میں موساد کی خفیہ سرگرمیوں سے پردہ اٹھا دے گا۔ اس دھمکی کے سبب اسرائیلی حکمرانوں کو رابرٹ سے خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے اس کا قصّہ تمام کرادیا۔

باپ کی موت کے بعد بھی غیسلین نے جیفرے سے ملنا جلنا رکھا۔ غیسلین کا برطانیہ اور امریکا کی ہائی سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا تھا۔ اس کی وساطت سے جیفرے اپستین بھی دونوں ممالک کی ہائی سوسائٹی کا حصہ بن گیا۔ یہ یقینی ہے کہ اسی دوران موساد نے غیسلین کو بھی اپنا ایجنٹ بنالیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ باپ کی زندگی ہی میں یہ مقام پاچکی ہو۔ بہرحال اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے دو طاقتور مغربی ملکوں کے ایلیٹ اور اعلیٰ ترین طبقے میں اپنے ایجنٹ چھوڑ دیئے۔ چند سال گزار کر جب جیفرے نئے انداز زندگی سے ہم آہنگ ہوگیا تو یہ منصوبے بننے لگے کہ امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان کو اپنی مٹھی میں کیونکر لیا جائے؟ موساد انہیں اپنے جال میں پھانس کر اسرائیل کے مفادات پورے کرنا چاہتی تھی۔ غوروفکر کے بعد جنس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یہ منصوبہ غیسلین اور جیفرے کے سپرد ہوا تاکہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔

منصوبے کے مطابق غیسلین امریکا اور برطانیہ میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بے سہارا کم عمر لڑکیوں کو تلاش کرنے لگی۔ جب کوئی ایسی معقول صورت لڑکی ملتی تو وہ اس سے دوستی کر لیتی۔اسے عمدہ کھانے کھلاتی، اچھے لباس فراہم کرتی اور رقم بھی دے ڈالتی۔ یوں وہ اسے اپنے دام میں گرفتار کرلیتی۔ رفتہ رفتہ وہ بہلا پھسلا کر لڑکی کو جسم فروشی پر آمادہ کرلیتی۔ اسی دوران جیفرے نے نیویارک، فلوریڈا، پیرس اور سٹینلے میں گھر خرید کر وہاں عیاشی کے اڈے قائم کردیئے۔ بعدازاں کریبین کے علاقے میں ایک پورا جزیرہ خریدا اور وہاں نیا اڈا بنادیا۔ ہر اڈے کے کمروں اور خواب گاہوں میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تاکہ وہاں انجام پائی ہر سرگرمی ریکارڈ کی جاسکے۔1994ء سے موساد کے وضع کردہ منصوبے پر عمل شروع ہوگیا۔ جیفرے اور غیسلین پہلے عالمی ہائی سوسائٹی کے کسی بااثر رکن کو ٹارگٹ کرتے۔ پھر وہ کسی لڑکی کے ساتھ تعلق بنانے کا لالچ دے کر اسے اپنے کسی عیاشی کے اڈے میں لے آتے۔ وہاں اس کی نازیبا ویڈیو بناکر اسے اپنے شکنجے میں کس لیا جاتا۔ وہ بااثر شخصیت پھر مجبوراً بظاہر جیفرے و غیسلین مگر حقیقتاً موساد کے اشاروں پر چلنے لگتا۔

ہائی پروفائل ناموں کی فہرست

جیفرے و غیسلین آہستہ آہستہ اپنے مکروہ دھندے کو وسعت دیتے چلے گئے۔ ساتھ ساتھ جیفرے سرمایہ کار بن گیا۔ پُراسرار طور پر سرمایہ کاری نے اسے کھرب پتی بنا دیا۔ یقنناً یہ ترقی موساد کی مرہون منت تھی۔ اس نے بوئنگ طیارہ خریدا اور اسے ’’لولیتا ایکسپریس‘‘ کا نام دیا۔ یہ جہاز ہائی پروفائل مہمانوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا۔ اس کے احباب میں بل کلنٹن (سابق امریکی صدر)، ڈونالڈ ٹرمپ، برطانوی شہزادہ اینڈریو، یہود باراک (سابق اسرائیلی وزیراعظم)، ٹونی بلیئر (سابق برطانوی وزیراعظم)، ہنری کسنجر (سابق وزیر خارجہ)، رپرٹ مردوخ (میڈیا ٹائکون) اور امریکا و برطانیہ کے نامی گرامی سیاست داں، صنعت کار، سرمایہ کار، سیلی برٹیز اور فلمی ستارے شامل تھے۔سوال یہ ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں کیا یہ دریافت نہیں کرسکیں کہ جیفرے اور غیسلین موساد کے ایجنٹ ہیں؟

ان کا نشانہ بنے کسی بھی شکار نے کیا اپنی قومی خفیہ ایجنسیوں کو مطلع نہیں کیا کہ دونوں موساد ایجنٹ لڑکیوں کے ذریعے ہائی پروفائل شخصیات کو اپنے دام میں پھنسا رہے ہیں تاکہ انہیں بلیک میل کرسکیں، جیفرے اور غیسلین کم ازکم دس بارہ سال تک اپنا مکروہ دھندہ چلاتے رہے مگر امریکا اور برطانیہ میں انہیں روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں تھا حالانکہ بظاہر ان ملکوں میں قانون بہت سخت سمجھا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے طاقتور ہیں اور ان کے ہاتھ بھی لمبے ہیں مگر دونوں موساد ایجنٹ کئی سال امریکی و برطانوی اداروں سے بچے رہے۔ آخر کیوں اور کیسے؟

ممکن ہے کہ جیفرے اور غیسلین نے اپنا دھندہ اتنی چالاکی سے چلایا کہ وہ قانون کی گرفت میں نہیں آسکے۔ یا پھر دونوں موساد ایجنٹ اپنے شکار سے جو اہم معلومات حاصل کرتے تھے، ان سے امریکی و برطانوی خفیہ ایجنسیاں بھی مستفید ہوتی رہیں۔ اس نظریے کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ 2008ء میں آخر کار جیفرے قانون کی گرفت میں آ گیا مگر امریکی حکومت اسے سزا دیتے ہوئے لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ جیفرے نے ایلیٹ امریکی طبقے میں شامل اپنی گرفت میں آئے شکاروں سے حکومت پر دباؤ ڈلوا دیا کہ اسے ہرگز جیل نہ بھجوایا جائے۔ غریب اور بے سہارا کم عمر بچوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ظالم اور حیوانوں جیسی صفت رکھنے والے انسانوں کا کام ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے دونوں ایجنٹ بھی بے ضمیر اور وحشی تھے۔ ان بچیوں کے ذریعے نہ صرف جیفرے اور غیسلین نے اپنی نفسانی خواہشات پوری کیں بلکہ انہیں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر کھلونا بنالیا۔ یوں انہوں نے سینکڑوں معصوم لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر ڈالیں۔ اس جرم پر اپنا دین و امان کھو دینے والے دونوں حیوانوں کو جتنی سزا ملتی، کم تھی۔

قانون بھی کچھ نہ بگاڑ سکا

مارچ 2005ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پالم بیچ پولیس تھانے کو ایک خاتون کی کال موصول ہوئی۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس کی چودہ سالہ نابالغ سوتیلی بیٹی سے جیفرے اپستین نے تعلقات قائم کررکھے ہیں۔ یہ ایک جرم تھا، اس لیے پولیس جیفرے کے خلاف تفتیش کرنے لگی۔تھانے کا سربراہ مائیکل ریٹر نامی افسر تھا۔ وہ ایک ایماندار اور بااصول افسر تھا۔ کسی کی سفارش پر دھیان نہ دیتا اور قانون کے مطابق چلنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ جب اس نے جیفرے کے خلاف تحقیقات شروع کیں تو اسے بااثر شخصیات کے فون آنے لگے۔ وہ تفتیش رکوانا چاہتے تھے، اس امر نے مائیکل کو یقین دلا دیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

اس نے جیفرے کے مقامی گھر پر چھاپہ مارا۔ وہاں سے کئی بچیوں کی برہنہ تصاویر برآمد ہوئیں۔ خفیہ کیمرے بھی ملے۔ یوں تفتیش کا دائرہ کار پھیل گیا۔ گھر سے ملی دستاویزات سے آشکارا ہوا کہ جیفرے جنوبی امریکا، سابق روسی ریاستوں اور یورپی ممالک سے بھی لڑکیاں منگواتا ہے جو عموماً کم عمر ہوتی ہیں۔ مائیکل ریٹر مع ٹیم تیرہ ماہ تک جیفرے کے کیس پر تفتیش کرتا رہا۔ وہ جان گیا کہ یہ ظالم معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ وہ اسے کڑی سے کڑی سزا دلوانا چاہتا تھا۔ مگر اسے احساس نہ تھا کہ جیفرے امریکا کے قانون کو بھی اپنی باندی بنا چکا۔ طاقتور امریکی قانون بھی جیفرے جیسے بدقماش اور زہریلے انسان کے سامنے بے بس ثابت ہوا۔

ہوا یہ کہ اس وقت کے ریاستی وکلا جیفرے کو سزا دلوانے کے بجائے اسے رہا کرانے کی کوششیں کرتے رہے۔ یوں انہوں نے عدل و انصاف کا دن دیہاڑے خون کردیا۔ اخلاقیات اور قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اس مہم میں ریاستی اٹارنی جنرل، الیگزینڈر اکوسٹا پیش پیش تھا۔ ریاستی مشینری کی بھرپور سرگرمیوں کے باعث جیفرے کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی۔ مگر جیفرے نے یہ سزا نجی جیل میں اس طرح کاٹی کہ اسے روزانہ 12 گھنٹے ’’کاموں‘‘ کی خاطر باہر جانے کی آزادی تھی۔ اس کیس سے عیاں ہے کہ امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان نے اپنی چمڑی بچانے کی خاطر قانون کو توڑ مروڑ دیا تاکہ جیفرے اپستین کو گزند نہیں پہنچے۔

اگر وہ جیل جاتا تو ان کی عیاشیوں کی کچا چٹھا طشت ازبام کرکے انتقام لے سکتا تھا۔ یوں امریکی اشرافیہ کی سرپرستی کے باعث موساد کا ایجنٹ اور عیاش و بدکردار جیفرے آزاد پھرنے لگا۔ ریاستی اٹارنی جنرل الیگزینڈر اکوسٹا کو اپنی ’’خدمات‘‘ کا یہ انعام ملا کہ موساد اور امریکی اشرافیہ کے دباؤ پر اپریل 2017ء میں ٹرمپ نے اسے وزیر محنت بنادیا۔ جب جیفرے دوبارہ قانون کی گرفت میں آیا تو سابقہ کرتوتوں کی وجہ سے عوامی دباؤ پر اسے جولائی 2019ء میں استعفی دینا پڑا۔ پولیس کیس اور پھر مقدمے میں پھنس کر جیفرے کے خلاف پنڈورا کا پٹارا کھل گیا۔ آنے والے برسوں میں اس کے ہاتھوں برباد ہوئی لڑکیاں جیفرے پر مقدمات دائر کرنے لگیں۔ ان کی شہادتوں سے عیاں ہوا کہ جیفرے نے پورا ایک گروہ بنا رکھا تھا جو معصوم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے دام میں گرفتار کرلیتا۔ وہ پھر جیفرے کی وساطت سے موساد کی تخریبانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتیں۔ تاہم جیفرے اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے سہارے مقدمات میں سزاؤں سے بچتا رہا۔ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی؟

ہوا یہ کہ اکتوبر 2017ء میں انکشاف ہوا، امریکا میں ایک اور بااثر یہودی فلم پروڈیوسر ہاروے وینسٹین بھی جنسی درندہ ہے۔ وہ اداکاری کے لیے آنے والی لڑکیوں کو استعمال کرکے انہیں کردار دیتا تھا۔ کوئی ستم رسیدہ لڑکی وینٹین کے خلاف کارروائی کی ہمت نہ کرتی کیونکہ اسے علم تھا کہ کوئی فائدہ نہیں۔ طاقتور اور بااثر وینسٹین اس کا کیریئر تباہ کردیتا۔ مگر اکتوبر کے بعد سے کئی اداکارائیں اس کے خلاف بیان دینے لگیں۔ تب ’’می ٹو‘‘ تحریک چل پڑی جس کی لپیٹ میں جیفرے بھی آ گیا۔ یہ یقینی ہے کہ جب جیفرے اپستین اور وینسٹین بوڑھے ہوکر کسی کام کے نہیں رہے، تو موساد اور امریکی ایلیٹ طبقے پر مشتمل نیٹ ورک نے انہیں لاوارث چھوڑ دیا۔ جب انہوں نے شکایت کی یا ’’راز‘‘ افشا کرنے کی دھمکی دی تو نیٹ ورک نے میڈیا کے ذریعے ان کا ٹرائل شروع کردیا۔

پاکستانی چوکنا رہیں

6جولائی 2019ء کو امریکی پولیس نے جیفرے کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ ایک ماہ بعد 9 اگست کو وہ اپنے قید خانے میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری بیان یہ ہے کہ اس نے خودکشی کر لی۔ مگر جیفرے کے گھناؤنے کردار سے آگاہ امریکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے ایلیٹ حکمران طبقے نے اسے قتل کروا دیا۔ انھیں ڈر تھا کہ جیفرے انتقاماً ان کے تباہ کن غیر اخلاقی راز پولیس کے حوالے کر سکتا ہے۔ اسی طرح فروری 2020ء میں ہاروے وینسٹین کو بھی عدالت نے تئیس سال کی سزائے قید سنا دی۔ اب وحشی سور کہلانے والے اس گناہ گار کی زندگی جیل میں گذرے گی۔ واضح رہے،کتاب’’Epstein: Dead Men Tell No Tales‘‘ میں اسرائیل کے سابق جاسوس، آری بن مناشی (Ari Ben-Menashe) نے تصدیق کی ہے کہ جیفرے اور غیسلین، دونوں موساد کے ایجنٹ تھے۔ امریکی پولیس نے 2 جولائی کے دن م غیسلین کو بھی گرفتار کر لیا۔ وہ پچھلے ایک برس سے چھپتی پھر رہی تھی۔ اسے ایسے قید خانے میں رکھا گیا ہے جہاں ایسی کوئی شے نہیں کو خودکشی کرنے میں کام آ سکے۔حتی کہ اسے کاغذ سے بنا لباس پہنایا جاتا ہے۔ دیکھیے کہ غیسلین سے تفتیش کے ذریعے پولیس کیا انکشافات دریافت کرتی ہے۔

جیفرے اور غیسلینکی خوفناک اور عبرت ناک داستان میں پاکستانی حکمران طبقے اور عوام، دونوں کے لیے سبق موجود ہیں۔ یہ عیاں کرتی ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کو غیرملکی خفیہ ایجنسیوں، خاص طور پر را، موساد، سی آئی اے اور افغان این ڈی ایس کی چالوں سے خبردار رہنا چاہیے۔ وہ اس طرح کے طریقوں کے ذریعے انھیں پھانسنے کی سعی کرسکتی ہیں۔ جبکہ پاکستانی قوم ہر شعبے میں سرگرم ایسے لوگوں سے چوکنا رہے جو ریاست، ریاستی اداروں اور ہماری اقدار و روایات کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ یہ لوگ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ہو سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو