پپو یار تنگ نہ کر

سیاسی تجزیے اپنے عروج پر ہیں۔ کچھ حکومت کی نااہلی کے راگ الاپ رہے ہیں، کچھ مافیاز کے طاقتور ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ ہمارا نام نہاد دانشور طبقہ زادِ راہ کی کمی کی وجہ سے ابھی تک خاموش بیٹھا تھا، اب زادِ راہ ملنے سے یہی کہہ رہا ہے کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

ووٹ کی عزت اور جمہوریت کو زیر دست رکھنے والے دکاندار بھی اپنی دکانوں کے آدھے شٹر اٹھائے، کچھ اندر تو کچھ باہر اسٹول لگائے کبھی راولپنڈی تو کبھی اسلام آباد کی طرف امید بھری نظروں سے امداد غیبی کی امید لگائے دل میں یہی ارمان لیے اٹھک بیٹھک کر رہے ہیں کہ کوئی تو بولے کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

ملکی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک آدھ مذہبی سیاسی جماعت، دو سیاسی جماعتیں کچھ لولے لنگڑوں کے تال میل سے وقت گزارا جارہا تھا۔ ملک کی ایک بڑی آبادی بھی بھوک، افلاس، جہالت، بیماری، غنڈی گردی، بھتہ خوری، قتل و غارت، چور بازاری اور ہلکے پھلکے جرائم کا سامنے کرتے ہوئے ہنسی خوشی وقت گزار رہی تھی۔ اب وہ بھی کہہ رہی ہے کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

اب بھلا جس معاشرے میں عام ریڑھی والا بھی فٹ پاتھ پر قبضہ کرکے بیٹھا ہے، عام سے دکانداروں نے بھی اپنی دکان کا نصف مال بیچ سڑک تک سجایا ہے، وہاں اگر دو چار سیاسی جماعتوں کے لڑکے بالے خالی جگہ دیکھ کر کوئی کمرشل پلازہ بنا ڈالتے ہیں، چار دیواری لگا کر گیٹ لگا دیتے ہیں تو یہ تو نیکی کا کام ہے۔ لوگوں کو روزگار بھی تو ملتا ہے۔ مزدور مستری مفت میں تو کام نہیں کرتے۔ پھر کچھ سرکاری کارندوں کے پیٹ میں بھی جاتا ہے اور وہ مزید دل و جاں سے ایسے پلاٹس کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں سے روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اب بھلا ایسے مشکل حالات میں اگر سیاستدانوں کے بچے آگے بڑھ کر کچھ اپنے اور کچھ سرکاری سرمائے سے سرکاری وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کاروبار کر ہی لیتے ہیں تو کون سی بری بات ہے؟

ایک طرف تو حکومت خود لوگوں کو کاروبار کرنے کے مشورے دیتی ہے، اب اگر سیاستدانوں کے معصوم شہزادے، شہزادیاں ہلکی پھلکی ڈنڈی مار بھی لیتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ ہاں اب جس کا جتنا بڑا نام اور نسل ہوگی وہ واردات بھی تو اسی حساب سے ڈالے گا ناں۔ اب تو مار دھاڑ کرنے والوں کے ڈیڈیز بھی کہہ رہے ہیں کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

کرپشن کہاں اور کس سطح پر نہیں ہے؟ یہاں تو سبزی یا فروٹ لینے بھی جاؤ تو ریڑھی والے نے سامنے تازہ سبزیاں اور فروٹ سجائے ہوتے ہیں تاکہ گاہک کھنچا چلا آئے۔ یہ الگ بات ہے کہ پچھلی قطاروں میں گلے سڑے پھل ملے جلے ہوتے ہیں۔ اب عید پر اگر ٹماٹر، لہسن اور ادرک کچھ مہنگا بیچ بھی لیتے ہیں تو اس میں ان لوگوں کا کیا قصور؟ ایک تو پہلے آڑھتی سے پوچھا جائے جو ان بیچاروں کو مہنگے داموں زبردستی بیچ جاتا ہے۔ اب اگر وہ اس میں سو پچاس کا مزید اضافہ کر ہی لیتے ہیں تو کیا جاتا ہے۔ اب وہ بھی منمنا رہے ہیں کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

چینی سے شوگر جیسی مہلک بیماری جنم لیتی ہے، جو کئی بیماریوں کی نانی دادی ہے تو اس آئٹم کو تو ویسے بھی غریب رعایا سے دور ہی ہونا چاہیے۔ کیا ہوگیا اگر چند کارخانہ دار اس کو محفوظ کرلیتے ہیں؟ اب گندم کی کیا بات کرنا، ارے اسے کھا کر تو حضرت آدم اور اماں ہوا جنت سے نکالے گئے تھے۔ اب اس کی اولاد کو سستی گندم مہیا کرنا تو بذات خود ایک گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اب اگر چند بڑے نیک حضرات رعایا کو گناہوں سے دور رکھنے کےلیے گندم ان کی پہنچ سے دور بنا دیتے ہیں تو حکومت کو تو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ آپ ان کے صبر کی انتہا تو دیکھیے کہ اتنی بڑی خدمت سرانجام دینے کے باعث انہیں ہلکا پھلکا ستایا جارہا ہے، فقط چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے، اور وہ معصوم پھر بھی مسکراتے ہوئے اتنا ہی تو کہہ رہے ہیں کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

سبسڈی صرف امرا اور اشرافیہ کا حق ہے اور ان کے حق پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں۔ عوام کے پاس سبسڈی نہیں، بس ٹڈی (ٹڈی دل) جانی چاہیے۔ ایک طرف تو انوسٹمنٹ کرنے کی بات کی جاتی ہے اور حکومت وقت طرح طرح کی سہولیات دینے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف کاروباری افراد اور صنعتکاروں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ انہیں ٹیکس نیٹ (جال) میں لانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ کوئی آج کے زمانے میں انصاف کی بات ہے بھلا؟ جال تو چھوٹی موٹی مچھلیوں کے لیے ہوتا ہے۔ اب چور بازاری، ذخیرہ اندوزی یوں مفت میں ہوجاتی ہے؟ اس پر بھی تو مال مڈی خرچ ہوتی ہے۔ پھر ٹیکس بچانے کےلیے اور پکڑے جانے کی صورت میں مہنگے ترین وکلا بھلا مفت میں مل جاتے ہیں؟ وہ تو بھلا ہو کہ نیب کو کچھ لگام ڈالی گئی، ورنہ ایسے میں تو ساری رات بے سکونی سے گزرتی تھی کہ کاروبار اور پیسے کو کہاں اور کس طرح محفوظ رکھنا ہے اور دن بھر بھی اسی طرح کی پریشانیوں میں گزرتا تھا۔ اب تو یہ والے اشرافیہ اور امرا بھی کہہ رہے ہیں کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

اپنے علاقے کے ایک صوبائی ممبر سے حال احوال لیا تو اس نے پنجابی کے مخصوص انداز بیاں سے بیس منٹ تک جو کچھ کہا سنسر شپ کے بعد ایک سطر ہی نکلی کہ ’’سانوں کی پتہ سی ساڈے نال وی اے کجھ ہووے گا‘‘ (ہمیں کیا پتہ تھا ہمارے ساتھ بھی یہ کچھ ہوگا)۔ اس کی باتوں سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ بھی یہی کہنا چاہ رہا ہے کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

اور تو اور پب جی گیم بھی بند کردی ہے۔ پارک بند ہیں، کوئی تفریح ہی نہیں۔ میاں بیوی بھی کچھ شروع کے مہینے لاک ڈاؤن کو ہضم نہیں کر پارہے تھے۔ میاں جی کو تو دن گھر میں گزارنا سزا سے کم نہیں لگتا تھا۔ گھروں میں لڑائی جھگڑے بڑھنا شروع ہوئے مگر اب اللہ کا شکر ہے، لڑائی جھگڑے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ کھانے سے پہلے چخ چخ نہ ہو تو کھانا ہضم نہیں ہوتا اور سونے سے پہلے اگر بک بک نہ ہو تو سکون سے نیند ہی نہیں آتی۔ انہیں اب یہی نئی پریشانی کھائے جارہی ہے کہ کہیں واٹس ایپ اور فیس بک پر پابندی لگ گئی تو کیا ہوگا؟ یوٹیوب یا ویب پر کچھ فلٹرز لگ گئے تو کیا ہوگا؟ دل دھک دھک دھک کرنے لگتا ہے، کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگتی ہیں۔ اب تو حکمران جماعت کے اتحادی بھی، بچے بڑے سب اب مل کر یہی کہہ رہے ہیں کہ پپو یار تنگ نہ کر۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو