کیا ترکی خلافت کی طرف جا رہا ہے؟

ترکی میں چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے حالیہ عدالتی حکم نامے کے بعد یہ سوال مزید شدت اختیار کرچکا ہے کہ کیا ترکی خلافت کے احیاء کی طرف جا رہا ہے؟

سلطنت عثمانیہ تین براعظموں پر پھیلی عظیم الشان سلطنت تھی جس کا احیاء بطور خلافت اگرچہ نہیں ہوا لیکن بعد میں آنے والے سلاطین نے خلیفہ کا لقب اختیار کیا، اپنے نام سے خطبہ جاری کروایا اور یہ سلطنت ساڑھے چھ سو سال قائم رہنے کے بعد قدرت کے عروج و زوال کے کھیل کا حصہ بنی۔ اگر ہم سلطنت عثمانیہ کی تاریخ غور سے پڑھیں اور سوال کریں کہ کیا یہ ترک نسل پرستی کا زعم لیے ہوئی تھی؟ تو تاریخ اس کا جواب ’’نہ‘‘ میں دے گی۔ عثمانی سلاطین کی سلطنت کثیر ثقافتی سلطنت تھی جس میں بیسیوں غیر مسلم اور دوسری چھوٹی ریاستی اکائیاں وجود رکھتی تھیں۔

اپنے آخری ادوار میں ترکوں نے جب نسلی تعصب اپنایا اور اپنی مہمات میں عربوں کی بے چینی کے سبب ان کو شریک کرنا قابل بھروسہ نہ سمجھا تو یہ بات عربوں کو ریاست سے متنفر کرنے کی ایک بنیادی وجہ بھی بنی (جس میں جلتی پر تیل کا کام ٹی آر لارنس نے کیا جس نے عربوں کو الگ ریاست کے نام پر ترکوں سے مزید متنفر کیا)۔ لیکن اس سے قبل سلطنت کے تمام کثیر ثقافتی اور مذہبی یونٹس سلطنت کےلیے اہم رہے۔ (اس سلسلے میں ’’ترک تنظیمات‘‘ یا صرف ’’تنظیمات‘‘ لکھ کر انٹرنیٹ پر سرچ کیا جاسکتا ہے؛ جس میں ترکی کی کثیر ثقافتی اکائیوں کے علاوہ یورپ اور افریقہ کے مسیحی اور یہودی علاقوں کو اپنی مذہبی آزادی کی بنا پر زندگی گزارنے کے اختیارات دیئے گئے تھے۔) عثمانی ترک سلاطین نے اس بات کا خاص خیال رکھا، یہاں تک کہ وزرا، امیر، فوجی سالار اور ینی چری سے لے کر سفراء تک غیر مسلم عیسائی اور یہودی کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔ یہاں میں بطور خاص ان غیر مسلم بیوروکریٹس کا حوالہ دینا چاہوں گا جو سلطنت کے اہم امور سر انجام دیتے تھے لیکن غیر مسلم تھے۔

ترکی جنگ عظیم اول سے قبل ہی یورپ کا مرد بیمار بن چکا تھا۔ آرمینیا سمیت کئی یورپی علاقے ترکی کے ہاتھوں سے جا چکے تھے اور روس کے ہاتھوں متعدد بار شکست نے ترکی کے زوال میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن جرمنی سے اتحاد اور اتحادیوں سے شکست کے بعد ترکی نے اپنی بقا کےلیے کئی فیصلے کیے جن میں خلافت کے ادارے ہی کو (جو اپنے ہی بوجھ تلے دب چکا تھا) ختم کرنا؛ بلادِ شام اور فلسطین و عرب سے دستبرداری، جس میں برطانیہ اور فرانس نے عرب علاقوں اور شام و گرد و نواح کے علاقوں پر بالترتیب حق جتایا؛ معاہدہ لوازن کی شرمناک شرائط؛ اور مقبوضہ عثمانی سلطنت کی کئی علاقوں سے دستبرداری جیسے فیصلے بھی شامل تھے۔

لیکن اتاترک کی موجودہ ترکی کو بچانے کی جدوجہد، خاص طور پر گیلی پولی کے محاذ پر انگریز فوج کو شکست فاش دینا اور کسی حد تک پر وقار طریقے سے جنگ بندی اور صلح کے معاہدے کرنا، جدید ترکی کی بنیاد بنا جس پر متنازعہ یا وقت کی ضرورت سیکولر ترکی کا نفاذ بھی شامل رہا۔

ترکی نے کئی عشروں تک غربت، جدوجہد اور کرپشن و مارشل لاء بھی بھگتا۔ جب طیب رجب میئر استنبول منتخب ہوئے اور استنبول کے دیرینہ مسائل حل کرنے سے ابتدا کرتے (جن میں ٹرانسپورٹ، کچی آبادیوں کی بہتری، رہائش کی فراہمی اور امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا شامل ہیں) اور جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھتے ہوئے، وزارتِ عظمی سے صدارت تک کا سیاسی سفر… بالخصوص اسلام پسندی کا رحجان، سخت سیکولر سے لبرل مسلم معاشرے کی ترویج اور اسے سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا، آئی ایم ایف سے نجات اور ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر لے جانا کہ آج ترکی دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں شامل ہے اور علاقائی و بین الاقوامی طور پر دوبارہ سے ایک بااثر ملک ہے۔

تو کیا ایسے میں ترکی دوبارہ خلافت کی جانب جا رہا ہے؟

اس سوال کا جواب تو شاید وقت ہی دے لیکن اگر ہم حقائق کی بات کریں تو فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آرہا جس میں چند رکاوٹیں حائل ہیں، جیسے…

معاشی رکاوٹ: ترکی اس وقت دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں شامل ہے۔ ترکی کی جی ڈی پی میں زراعت 7 فیصد، انڈسٹری 27 فیصد اور 64 فیصد سروسز شامل ہیں۔ انڈسٹری میں ترکی ٹیکسٹائل، سیمنٹ، اسٹیل و المونیم، کیمیکلز اور کچھ آٹو موبائلز بنا کر زرمبادلہ کماتا ہے۔ اسی طرح سروسز میں پروڈکشن، لیبر اور پروڈکٹس تیار کرکے اہم حصہ ڈالتا ہے۔ تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ ترکی کی تجارت کا محور بڑی تعداد میں یورپی اور امریکی ممالک ہیں۔ خلافت کے احیاء کے بعد ترکی کو موجودہ معاشی نظام چلانے میں خاصی رکاوٹ پیش آئے گی لہذا اردوان گورنمنٹ یہ سارے معاملات زیادہ بہتری سے سوچ سکتی ہے۔

ثقافت: ترکی گزشتہ صدی سے ایک کٹر سیکولر ملک رہا ہے جو ان کے سماج کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگرچہ اس سیکولر ازم نے ترکوں میں اسلام پسندی اور اسلام سے عقیدت ختم نہیں کی لیکن ان کا ثقافتی ڈھانچہ بہرحال اس قدر لبرل ہو گیا ہے کہ وہ خلافتی احکامات کے نفاذ پر اچھی خاصی مزاحمت ضرور دکھا سکتا ہے۔

سیاحت: ترکی سالانہ پچاس ارب ڈالر کے لگ بھگ سیاحت سے کماتا ہے۔ اگر ترکی انہی اقدامات کی بناء پر خلافت کی طرف پیش قدمی جاری رکھتا ہے تو ترکی میں اٹھنے والی حزب مخالف کی آوازیں، جنہیں فی الحال کامیابی سے دبایا جارہا ہے، روکنا مشکل ہوجائے گا اور ایسے غیر یقینی سیاسی حالات میں اس انڈسٹری کو ایک بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔

دفاعی: ترکی نیٹو کا اتحادی ہے جس کا مقصد ہے کہ اگر ترکی پر کوئی ملک جنگ مسلط کرتا ہے تو نیٹو مشترکہ افواج ترکی کا دفاع کریں گی۔ لیکن خلافت کی صورت میں کیا ترکی نیٹو اتحادی کے اسٹیٹس سے لطف اندوز ہونا جاری رکھے گا؟ میں نہیں سمجھتا کہ یورپ و امریکا، ترکی کے اس اقدام کی حمایت کریں گے۔ دوسرا روس سے ترکی کے صدیوں پرانے کشیدہ تعلقات ہیں جن میں سرِ دست فتح اللہ گولن، بغاوت اور امریکا سے تجارتی جنگ کے بعد روسی سفیر کے قتل اور روس کا طیارہ مار گرائے جانے کے باوجود بہت بہتری آئی ہے۔ اسی طرح اگر چین اور روس ترکی سے الحاق کے بعد مشترکہ دفاع اپنائیں، تب ہی ترکی نیٹو سے نکل سکتا ہے جو فی الوقت ممکن نظر نہیں آرہا۔ واضح رہے کہ ترکی کے پاس ساٹھ کے لگ بھگ نیٹو کے مشترکہ ملکیت وار ہیڈز موجود ہیں اور ترکی میں نیٹو کا ایک مضبوط دفاعی اڈا/ چھاؤنی بھی موجود ہے۔

اسلامی ممالک کی حمایت اور سعودی عرب کا کردار: اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی اہمیت مسلم ہے۔ جو بھی ہو، جیسے بھی ہو، سعودی عرب ایران و شام کے علاوہ تمام اسلامی دنیا پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ترکی میں سعودی سفارتخانے میں قتل کے بعد، اور کئی دیگر وجوہ کی بناء پر ترکی کے سعودی عرب سے تعلقات نہایت کشیدہ ہیں۔ سعودی اثر و رسوخ کی بات کریں تو حالیہ دور میں پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کے نئے اسلامی اتحاد میں وزیراعظم پاکستان کی سعودی دباؤ پر عدم شرکت اسلامی ممالک پر سعودی اثر و رسوخ کی مہر ثبت کرتی ہے۔ سو ایسے میں خلافت جیسے ادارے کےلیے اسلامی دنیا سے حمایت حاصل کرنا ترکی کےلیے ایک بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔

لہذا ان تمام حقائق سے آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کا عدالتی فیصلہ، جو یقیناً ترک صدر کی ایما پر آیا ہے، محض ایک سیاسی اسٹنٹ محسوس ہوتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے انڈیا میں بابری مسجد اور رام مندر تنازع، جبکہ پاکستان میں کئی ایک فیصلے شامل ہیں۔

ترکی میں خلافت کے احیاء کے بعد ترکی کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنا ہوگا۔ واضح رہے کہ ترکی، اسرائیل سے دوستانہ و سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ سو ایسے میں فلسطین و اسرائیل سابقہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ ہیں جن پر جلد یا بدیر ترکی کو حق جتانا ہوگا جو فی الحال مغربی دنیا کےلیے ناقابل قبول ہو سکتا ہے۔

ان سب باتوں سے قطع نظر، ترک ایک دلیر قوم ہیں۔ اگر وہ اپنی قوم پرستی اور ماضی کے درخشاں ہونے کی بنیاد پر اپنی قوم کی فکری بیداری کے خواہش مند ہیں تو میوزیم سے مسجد کا احیاء، ارطغرل و عثمان کی ثقافتی عکسبندی (جسے یورپ پہلے ہی مسلمانوں کا ’’سافٹ بم‘‘ قرار دے چکا ہے) اور کئی ایسے مقبول فیصلے فی الوقت اردوان کی سیاسی ضرورت ہیں جن میں خلافت کے احیاء کا فیصلہ بظاہر دور دور تک شامل نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو