مذہبی عبادت گاہوں کی بحالی

آبنائے باسفورس کے کنارے، جہاں بحیرۂ مرمر اور بحیرۂ اسود ملتے ہیں اور اسے یورپ و ایشیا کی سرحد کہا جاتا ہے۔ اسی سرحد پہ استنبول شہر میں آیا صوفیا کی عظیم الشان عمارت واقع ہے۔

استنبول کا شمار یوریشیا کے اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے جس کی حدود دو براعظموں میں ہیں اور اس کی آبادی آج ڈیڑھ کروڑ ہوچکی ہے۔ 660 قبل مسیح میں یہ شہر ’’بازنطین‘‘ کے نام سے آباد ہوا اور 330ء میں جب رومی شہنشاہ قسطنطین نے اسے سلطنت روما کا پایۂ تخت بنایا تو اس کا نام قسطنطنیہ ہوگیا۔

آیا صوفیہ ڈیڑھ ہزار برس پرانی عمارت ہے اور 537ء میں مشرقی سلطنتِ روم کے شہنشاہ جسٹینین نے دارالحکومت قسطنطنیہ کے شایانِ شان بطور گرجا تعمیر کروایا۔  آیا صوفیہ کی عمارت مشرقی روم کے بڑے گرجا گھروں میں شمار ہوتی تھی۔ نو سو برس بعد عثمانی سلطان محمد دوم نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا تو دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کی چھتوں اور گیلریوں میں کی گئی مذہبی مصوری کو ڈھانک د یا اور اس عمارت میں نمازِ جمعہ کی امامت کی۔ اگلے پانچ سو برس تک یہاں اسلامی احکامات کے مطابق عبادات جاری رہیں۔

بعد ازاں معروف ترک ماہرِ تعمیرات سنان نے آیا صوفیہ پر اسلامی رنگ چڑھانے کے لیے عمارت میں میناروں کا اضافہ کروایا اور اسے باقاعدہ مسجد میں بدل دیا۔ آیا صوفیہ چرچ کے گنبد کا شکوہ اتنا متاثر کن تھا کہ جب 1616ء میں عظیم الشان نیلی مسجد مکمل ہوئی تو اس کے ڈیزائن پر آیا صوفیہ کا آرکیٹیکچر غالب تھا۔ بعد ازاں عثمانی طرزِ تعمیر نے اسے اپنی تعمیراتی شناخت کا مستقل حصہ بنا لیا۔ جدید استنبول پر ہزار سالہ تاریخ کے نقوش آج بھی باقی ہے۔

کمال اتاترک نے یک طرفہ طور پر سطحی سیکیولرازم کو ترکی پر نافذ کرکے ترک عوام کی روح میں پیوست اسلامی علامتوں کو ممنوع قرار دے دیا۔ بالخصوص ترکی کے دیہی علاقے جہاں روایتی لباس زیب تن کیا جاتا تھا اور خواتین سرڈھانپتی تھیں، ان ثقافتی علامتوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ عربی کی جگہ لاطینی رسم الخط رائج کیا گیا جس کے باعث آئندہ نسلوں کے لیے نہ صرف قرآن پڑھنا ناممکن ہوگیا بلکہ سلطنت عثمانیہ کے سقوط سے قبل لکھا اور چھپا ہوا کوئی ایک حرف بھی ان کے لیے ناقابل فہم بنادیا گیا۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد 1935ء میں مصطفی کمال اتاترک کی قائم کردہ جدید ترکی ریاست کے سیکولرازم کی علامت کے طور پر آیا صوفیہ کو عجائب گھر بنا دیا گیا۔ عمارت کے گنبد، دیواروں اور راہداریوں میں مذہبی مصوری کے جو شاہکار پلاسٹر تلے چھپا دیے گئے تھے انھیں بحال کیا گیا۔ میوزیم بنانے کا مطلب یہ تھا کہ اب کوئی بھی اس عمارت میں داخل ہو کر فنِ تعمیر کے اس تاریخی شاہکار کو سراہ سکتا ہے۔ 2020ء ترک عدالت نے جب اس عمارت کو عجائب گھر بنانے کے اتاترک کے فیصلے کو منسوخ کیا تو اس کے فوری بعد ہی ترکی کے صدر طیب اردوان نے آیا صوفیہ کو مسجد کے طور پر بحال کردیا۔ کمال اتاترک نے آیا صوفیہ کو عجائب گھر میں تبدیل کرکے خطا کی لیکن صدر طیب اردوان کے دور میں اس کا ازالہ ہوگیا۔ آیا صوفیہ کو نمازیوں کے لیے کھولنا اسی جبر سے نکلنے کی جانب ایک قدم ہے۔

اس عمارت کو یونیسکو نے عالمی ورثہ بھی قرار دے رکھا تھا۔ یونیسکو نے آیا صوفیہ کو بطور مسجد بحال کرنے پہ اعتراض کیا ہے اور دوسرے کئی حلقوں کی جانب سے بھی کڑی تنقید اور احتجاج کی صدائیں بلند ہوئی ہیں۔ روسی آرتھوڈوکس چرچ نے اس فیصلے کو ’’پوری مسیحی تہذیب‘‘ پر حملہ قرار دیا۔ یورپی یونین نے ترکی کے فیصلے پر ’’افسوس‘‘ کا اظہار کیا لیکن اس سے زیادہ کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم امریکہ اور یورپ کے نیوز چینلز نے ترکی کے خلاف باقاعدہ مہم بھی چلائی۔ امریکا، نیٹو، یورپی یونین اور پھر یونان کے معاملے پر صدر اردوان سے ہونے والے مسائل کی وجہ سے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف فضا پیدا کر رہے ہیں۔

اسباب جو بھی رہے ہوں، یورپی یونین نے ترکی کو یورپ میں شامل نہ کرنے کا موقع گنوا دیا ہے۔ کم و بیش نصف صدی سے زیادہ تک یورپ میں جگہ بنانے کی کوششوں میں ناکامی اور سرد جنگ کے دوران نیٹو کے لیے ڈھال بنے رہنے کے بعد صدر اردوان کی قیادت میں ترکی اپنی اصل کی طرف پلٹ رہا ہے اور موجودہ ترکی مغرب کے اثر و رسوخ سے باہر نکل چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ورلڈ آرڈر میں ایک صدی میں مسلمانوں کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا احیا کیا گیا۔

آیا صوفیہ کی حیثیت کے بارے میں چھڑنے والی بحث میں وقت کے ساتھ ساتھ اب مزید پرتوں کا بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام کے قوانین کے مطابق جو عمارت ایک بار مسجد قرار پا جائے اس کی حیثیت نہیں بدلی جا سکتی وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی۔ البتہ چند تاریخ دان کہتے ہیں کہ کسی اور عبادت گاہ کو مسجد میں تبدیل کرنا درست نہیں۔ اگر آیا صوفیہ کو میوزیم کے درجے سے ہٹا کے دوبارہ کسی عبادت گاہ میں ہی تبدیل کرنا ہے تو پھر اسے اس کی اصل حیثیت یعنی چرچ کی شکل میں بحال کیا جائے۔ آیا صوفیہ مسیحت کے مشرقی آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز تھی۔ اس چرچ کے سربراہ آرچ بشپ بارتھولمیو آج بھی استنبول میں ہی رہتے ہیں۔ گویا استنبول مشرقی آرتھوڈوکس چرچ کا ویٹیکن ہے۔ بشپ بارتھولمیو کا کہنا ہے کہ تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ تکلیف دہ عمل ہے۔ زخموں کو کریدنے کے بجائے ان پر مرہم لگانے کی کوششں جاری رہنی چاہئیں تاکہ نسلی و مذہبی ہم آہنگی کا عمل پسپا ہونے کے بجائے آگے بڑھتا رہے۔

اسے نمازیوں اور تاریخ و فن تعمیر میں دل چسپی رکھنے والے سیاحوں دونوں کے لیے یکساں طور پر کھلا رکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ دنیا میں ایسی کئی عمارتیں ہیں۔ عبادت کے وقت کے علاوہ جرمنی میں تمام گرجا گھر سیاحوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ فرانس کا نوٹرڈیمس چرچ بھی سیاحوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ مسجد کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے استنبول میں بھی یہ ممکن ہے۔ قرطبہ کی مثال دیکھ لیجیے۔ مسجد قرطبہ آج کل گرجے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ چارلس پنجم کے دور میں کلیسیائی محرابیں تعمیر ہوئیں۔ چارلس پنجم نے اس پُرشکوہ عمارت کی بربادی دیکھ کر کہا تھا ’’ تم نے ایک منفرد عمارت کو برباد کرکے اسے عامیانہ بنا دیا ہے‘‘۔ موجودہ دور میں بھی مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے پر گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اب اسپین کے مسلمانوں نے اس وسیع عمارت میں نماز کی اجازت کے لیے رجوع کیا ہے اور اسلامک کونسل آف اسپین نے ویٹی کن میں باضابطہ درخواست بھی دائر کی ہے۔ اسپین میں چرچ کے منتظمین اور ویٹی کن نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ گرجے کے اس تنازعے سے ہسپانوی تاریخ و شناخت پر متضاد آرا واضح ہوجاتی ہیں۔ اقبال کی شہرہِ آفاق مسجدِ قرطبہ نظم کون بھول سکتا ہے۔ کون سا مسلمان نہیں چاہے گا کہ مسجدِ قرطبہ ساڑھے پانچ سو برس بعد کیتھولک کیتھیڈرل کے بجائے اپنے بطور مسجد پھر سے بحال ہو جائے یا عمارت کے ایک حصے کو ہی نماز کے لیے کھول دیا جائے۔ یورپ کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ کیا مسجدِ قرطبہ کی بطور مسجد کلی یا جزوی بحالی کریں گے؟۔۔۔

“عبادت گاہ کو عبادت کیلئے ہی مختص رہنا چاہئے نہ کہ سیرگاہ بنا دیا جائے یا شرک و بدعات کا گڑھ بنا دیا جائے۔ ہر مذہب کا احترام اسلام کا حکم ہے”

بحیرہ روم کے نزدیک موریرا کی ایک چٹان پر تعمیر خوب صورت ولا میں رہنے والے فرینک نیومن گزشتہ برس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انھوں نے اسپین کے کئی شہروں میں مسلم اور یہودی ورثے کے ساتھ ساتھ مسیحی مذہبی یادگاروں کا بھی کھوج لگایا، جنھیں گرجا گھروں میں تبدیل کردیا گیا۔ غرناطہ کی فصیل سے فرینک یہودیوں اور مسلمانوں کے بنائے ہوئے کئی قلعوں کی نشاندہی بھی کی، جنھیں اسپین کے دفاع کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ باہمی اعتماد کی تحیر خیز علامتیں تھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو