کسی کے اندھے اور جاہل ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے آپﷺ کی ذات کو نہ پہچانا۔ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

آج بھی معاشرے میں خود کو دانشور، عقلمند اور دانا کہلوانے والے بہت سے لوگ موجود ہیں لیکن اگر وہ بعثت عالی ﷺ کے مقصد کو ہی نہ پا سکے اور وہ احکامات جو آپ ﷺ قیامت تک کے لیے لائے ان پر عمل پیرا نہ ہوسکے تو قرآن کریم ایسے لوگوں کو اندھا اور جاہل فرماتا ہے۔

یہ بہت بڑی بد بختی ہے کہ بندہ حق کے ہوتے ہوئے حق کو پہچان نہ سکے۔ ان کا نہ پہچاننا ان کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ پھر اللہ کریم ان کی نگاہوں اور دلوں کو پھیر کر رکھ دیتے ہیں اور ان کے قلوب پر مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ توبہ کی توفیق ہی سلب ہو جاتی ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہر عمل کو دیکھیں کہ اس میں کتنا خشوع و خضوع ہے کیا ہمارے سینے میں بھی وہ کیفیات ہیں جو قلب اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے آ رہی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس کی بصیرت کام کر رہی ہے اور اس کی سمت درست ہے۔کیونکہ یہ روشنی اسے صراط مستقیم پر قائم رکھے گی۔

قلوب کی حیات اور اسے کیفیات قلبی سے منور کرنے کے لیے ذکر اللہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہم محتاج ہیں وہ بے نیاز ہے یہ ضرورت ہماری ہے کہ ہم ان برکات کے حصول کے لیے محنت کریں اور قرب الٰہی کے لیے سعی کریں۔ تاکہ بندگی کے معنوں سے آشنائی حاصل کر سکیں۔ پھر بندہ مومن کو وہ فراست نصیب ہوگی جس کے بارے ارشاد ہے کہ مومن کی فراست سے بچو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
امیر تنظیم الاخوان پاکستان

دارالعرفان، منارہ، ضلع چکوال

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو