اسلام، غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر اور اسلام آباد میں مندر

پاکستانی اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر پر اتنے سیخ پا کیوں ہو رہے ہیں؟… کیونکہ حکومت مساجد کی تعمیر کے لئے نہ تو رقم فراہم کرتی ہے اور نہ دلچسپی لیتی ہے، مگر مندر کی تعمیر کے لئے رقم فراہم کررہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شدید مخالفت کے بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا کام روک دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے اپنے بیان میں ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اپنی آبادی والے علاقے میں عبادت گاہ برقرار رکھنے کا حق ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جو صلح سے بنا ہے وہاں ضرورت کے مطابق نئی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں۔ “لیکن حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے خاص طور پر ایسی جگہ جہاں ہندو برادری کی آبادی بہت کم ہو”۔

سرکاری جگہ اور سرکاری ٹیکس کی رقم سے مندر تعمیر نہیں ہوسکتا تو یہ رقم انہیں اقلیتی امور کے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اکاؤنٹ سے دینی چاہئیے تھی، جہاں اقلیتوں کی مذہبی عمارات کےلئے مخصوص فنڈ موجود ہے. لیکن وہ فنڈ کہاں سے آتا یے۔ غیرمسلم اس فنڈ کا بندوبست کرتے ہیں یا حکومتی ٹیکس میں سے وہ پیسہ مخصوص کیا جاتا ہے؟… وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہندوؤں کی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے فنڈز سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت کا فیصلہ بھی کیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ نظریاتی کونسل کے اہل دانش و بینش کیا فرماتے ہیں۔

اسلامی احکامات کے مطابق اسلامی ریاستوں میں غیرمسلموں کو عبادات و رسومات کی ادائیگی اور عبادت گاہیں بنانے کی کوئی پابندی نہیں. فتح مکہ کے وقت بھی حضورﷺ نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تھا۔ لوگوں نے جو اپنے اپنے بت خانے بنائے ہوئے تھے انہیں کچھ نہیں کہا گیا تھا.

صحابہ کرام بھی دوسروں کی عبادت گاہوں کا اتنا خیال کرتے تھے کہ جب جناب ِعمر فاروقؓ کو یروشلم میں نماز کے وقت پادریوں نے مشورہ دیا کہ وہ چرچ میں نماز پڑھ لیں تو انہوں نے صرف اس لیے اجتناب کیا کہ میرے بعد مسلمان کہیں اسے مسجد میں نہ بدل دیں اور چرچ سے کچھ فاصلے پر جاکر نماز ادا کی۔

مسلمانوں نے برصغیر، ہندوستان پر ایک طویل عرصہ تک حکومت کی اور یہاں مندر بنتے رہے۔ حتیٰ کہ اورنگ زیب عالمگیر جیسے مذہبی بادشاہ نے بھی مندروں کی تعمیر پر کوئی پابندی نہ لگائی.

صوفی بزرگ میاں میرؒ نے سکھوں کی دعوت پر لاہور سے امرتسر جا کر گولڈن ٹیمپل کا سنگِ بنیاد رکھا۔

محمود غزنوی جنہیں بت شکن کے نام سے یاد کرتے ہیں انہوں نے صرف سومنات کا مندر گرایا تھا، باقی کسی مندر کو کچھ نہیں کہا تھا۔ اس کے گرانے کی وجہ بھی یہ تھی کہ وہ مندر سادہ لوح ہندوؤں کے ساتھ فریب کاری تھا۔ وہاں دیواروں پر بڑے بڑے مقناطیس لگا کر درمیان میں سونے کے بت ہوا میں معلق کر دئیے گئے تھے اور اسے بتوں کا کرشمہ قرار دیا گیا تھا۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں کلیسا کی تعمیر کی بات پر مسلم حکمرانوں یا مسلمانوں نے مخالفت نہیں کی۔ متحدہ عرب امارات میں خطے کے سب سے بڑے مندر کاسنگ بنیاد رکھا گیا تو کسی کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔ باقی مسلم ممالک میں بھی مندر تعمیر ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جگہ اور فنڈز کی فراہمی پہ کوئی احتجاج کیوں نہیں سامنے آیا…؟

ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں تقریباً آٹھ لاکھ ہندو آباد ہیں۔ اکثریت صوبہ سندھ میں ہے۔ وہاں زیادہ تر ہندو عمر کوٹ، تھرپارکر اور میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ اسلام آباد میں رہنے والے ہندوؤں کی تعداد تقریباً 3000 ہے۔ یہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، جو رفتہ رفتہ اسلام آباد آئے اور آباد ہوتے گئے۔

اسلام آباد کی اس ہندو کمیونٹی کے مطابق اسلام آباد کے گاؤں سید پور میں ایک چھوٹا سا بہت قدیم مندر تھا، جسے اسلام آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بہتر بنا کر قومی ورثہ کا درجہ دے دیا۔ یہ ایک علامتی مندر ہے جو ہندوؤں کےلیے ناکافی ہے۔ ان کے پاس کوئی کمیونٹی سینٹر نہیں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ دیوالی یا ہولی منا سکیں۔

2017ء میں حکومت کی طرف سے مقامی ہندو کونسل کو مندر کےلیے چار کنال زمین الاٹ کر دی گئی. مگر وسائل کی کمی کے سبب تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکا۔ اب وزیراعظم نے تعمیر کے پہلے مرحلے کے لیے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا تو بنیادیں کھودی جانے لگیں۔

مسلم لیگ ن کے صوبائی رکن اسمبلی کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں اس مندر کی تعمیر کے خلاف قرارداد بھی جمع کروا دی گئی ہے۔ جب کہ یہ زمین نون لیگ کے دورِ حکومت میں ہی ہندو کمیونٹی کو دی گئی۔ اس مندر کی مخالفت پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے بھی کھل کر کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو