دو تصویریں کافی ہیں

مسلمان حکمرانوں کے ڈوب مرنے کے لئے بس دو تصویریں کافی ہیں. ایک تصویر مقبوضہ کشمیر کی ہے اور دوسری تصویر فلسطین کی ہے.

جہاں ساٹھ سالہ بشیر احمد خان کو بھارتی درندوں نے گولیاں مار دیں، دیکھ نہیں رہے ہو کہ بشیر احمد خون میں لت پت زمین پہ پڑا ہے، زمین پہ پڑی ہوئی بشیر احمد کی لاش پر اس کا تین سالہ نواسہ بیٹھا ہے، سینے پر بیٹھا یہ بچہ مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کی بزدلی کا ماتم کر رہا ہے۔

دس بارہ سال کا ایک فلسطینی بچہ زمین پر گرا پڑا ہے، اس کی گردن پر ایک یہودی کتے نے گھٹنا رکھا ہوا ہے، ویسے ہی جیسے جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھا گیا تھا مگر وہاں امریکی شہریوں نے مظاہروں میں پوسٹر لہرا دیے تھے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں جو موت پر چپ رہیں۔

فلسطینی بچہ بھی مر گیا، اس کی آخری سانسیں بھی پکار رہی تھیں میرے مولا! میرا جرم صرف یہی ہے کہ میں مسلمان ہوں مگر میری آخری سانسیں سوال کرتی ہیں، کہاں گئے بڑے بڑے حکمران، کہاں گئے جبے پہنے ہوئے بادشاہ، کہاں گئی مسلمانوں کی غیرت؟ میرے مالک! میں تو ایک فلسطینی بچہ ہوں، میرے اردگرد مسلمانوں کے اتنے بڑے بڑے ملک ہیں، مجھے بچانے والا، ان ملکوں میں کوئی نہیں، اتنا بڑا اردن، مصر کتنا وسیع ہے، شام والے بھی چپ ہیں، کوئی لبنان ہی سے آ جاتا۔

شھید اس دین کا پیروکار ہے، جس کے ماننے والے ڈیڑھ ارب سے زائد ہیں مگر سب بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں، جن کے منہ پر قفل لگا ہوا ہے، جن کے ہاتھوں میں غلامانہ سوچوں کی زنجیریں ہیں، جو بزدل ہیں، ڈرتے ہیں، خوابِ غفلت کے شکار مسلمان حکمرانوں کو شاید دوسری تصویر بھی نظر نہیں آئی ہے۔

دولت کے انبوہ کثیر پہ بیٹھے ہوئے عرب حکمران ہی بول پڑتے مگر انہیں میں کہاں یاد آئوں گا، وہ تو آج کل اس دکھ میں مبتلا ہیں کہ کورونا کے باعث ان کے اربوں ڈالر مر گئے، کورونا کے باعث سینما گھر بھی ویران، جوئے خانے بھی اجڑ گئے حالانکہ سینما گھر اور جوئے خانے تو ماڈرن ولی عہد نے اس لئے بنائے تھے کہ نفع ہو گا، آمدن ہو گی مگر ہر طرف گھاٹا ہی گھاٹا۔

اسی طرح شاید باقی عرب ملکوں کے حکمران بھی کہیں نہ کہیں مصروف ہوں لیکن میں موت کی وادی میں اترتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں کہ اسلامی ملکوں کی اتنی بڑی بڑی افواج کیا کر رہی ہیں، کیا وہ ڈیڑھ پونے دو لاکھ اسرائیلی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتیں؟ یہ سوالات سن کر سوچتا ہوں، وہ جذبہ کہاں گیا؟ وہ تو تین سو تیرہ، ہزاروں کے لشکر پر بھاری تھے۔

یہودی ابھی تک حیدر کرارؓ کے وہ وار نہیں بھولے، کس طرح یہودیوں کے تین سردار بھائیوں مرحب، حارث اور اسیر کو چیر کے رکھ دیا تھا، جذبہ لڑتا ہے، ایمان لڑتا ہے، ایمان 72 کو بھی نہیں جھکنے دیتا۔ شروع اسلام کی باتیں چھوڑ کر ہزار سال بعد کی باتیں کر لو، کیا ان مسلمان حکمرانوں میں کوئی تیمور، کوئی بابر نہیں، کوئی بیبرس بھی نہیں؟

او آئی سی، تو یہ غلام مسلمان حکمرانوں کا ایک قبرستان ہے، لڑو، کیا تمہیں جہاد کا حکم نہیں‘‘. اقوام متحدہ تو ایک دھوکے کا نام ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو