پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔

جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے سماعت کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا جو بعد ازاں سنایا گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت آئل مارکیٹگ کمپنیوں کے کیس میں بھی ایک فیصلہ دے چکی ہے اور اِس درخواست پر کارروائی عدالت کے اختیار سے تجاوز ہوگا۔

فیصلے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ ایگزیکٹو کا اختیار ہے لہٰذا عدالت سمجھتی ہےکہ منتخب نمائندے عوام کی مشکلات کو نظرانداز نہیں کریں گے اور کوئی بھی حکومت اپنی عوام پر جان بوجھ کر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کرے گی، ہمیں اپنے منتخب کردہ نمائندوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ معاملے میں مداخلت حکومت کی معیشت سدھارنے کی پالیسیوں کیلئے صحیح نہیں ہوگی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایگزیکٹو کا اختیار ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے ہی پالیسیاں بنا سکتے ہیں اور یہ فرض نہیں کیا جاسکتا کہ بنیادی ضروریات کی اشیاء کی مناسب داموں فراہمی کی حکومت کوشش نہیں کرے گی. لہٰذا ان وجوہات کی بنا پرعدالت درخواست مسترد کرتی ہے۔

واضح رہے کہ یکم جون کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے پیٹرول نایاب ہوگیا تھا اور دوبارہ قیمتوں میں اضافے تک پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت رہی۔

پیٹرول بحران کی انکوائری رپورٹ میں 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

تاہم حکومت نے یکم جولائی کا انتظار کیے بغیر ہی 26 جون کو وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا تھا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو