‘عمران خان خود مائنس ون کی بات کررہے ہیں، دیکھتے ہیں وہ کتنی دیر وزیراعظم رہتے ہیں’

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم خود مائنس ون کی بات کر رہے ہیں، مائنس ون کی بات میں نے نہیں کی۔

بلاول ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ عمران خان کو کچھ خبر ہوگی، جب ہی انہوں نے مائنس ون والی بات کی ہے، شاید عمران خان کا مائنس والا پیغام اپنے ارد گرد بیٹھے وزیروں کے لیے تھا، ضیاء کے دور میں پیر پگارا نے کہا تھا کہ ‘کِلا’ مضبوط ہے، جمالی نے بھی کہا تھا میں کہیں نہیں جارہا، دیکھتے ہیں کہ عمران خان کتنی دیر وزیراعظم رہتے ہیں ؟

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت آصف زرداری کو قتل کرانا چاہتی ہے، جان بوجھ کر انہیں حاضری سے استثنیٰ نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ این آر او نہیں چاہتے، کیسز ہیں تو سزا دیں۔ بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا عندیہ بھی دے دیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی جیل میں ادویات نہیں دی گئیں، ایک عدالت نے وائرس کی وجہ سے ریلیف دیا، دوسری عدالت نہیں دے رہی، پی ٹی آئی آصف زرداری کو کورونا کروانا چاہتی ہے۔

عمران خان فیس بک اور ٹوئٹر کے وزیراعظم ہیں،

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، کہا کہ وہ پاکستان کے نہیں ٹوئٹر اور فیس بک کے وزیراعظم ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 270 ارب کی کرپشن ہوئی ہے، شوگر کمیشن کا ڈرامہ این آر او تھا، وزیراعظم، وزیراعلٰی پنجاب،اسد عمر اور جہانگیر ترین کو بچایا گیا ہے۔

کورونا کیسز کم ہونے کی بات سفید جھوٹ ہے،

کورونا کیسز کم ہونے کی بات سفید جھوٹ ہے ، وائرس سے متاثرہ افراد اور اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دعوٰی کیا جارہا ہے کہ کورونا کیسز اور ہلاکتیں کم ہورہی ہیں، یہ جھوٹ ہے، حکومت نے شروع د ن سے کورونا سے نمٹنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور خان صاحب کی حکومت آج تک کوئی قدم اٹھانےکو تیار نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کورونا سے جنگ لڑنے والوں کو خصوصی الاؤنس دیا ہے، سندھ کی طرح پنجاب ،باقی صوبوں اور وفاق کو بھی رسک الاؤنس کی پالیسی اپنانی چاہیے اور ہیلتھ ورکرز کےلیے سندھ کی طرح سہولیات ہر جگہ ملنی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے آج تک ڈاکٹرز طبی عملے سے ملاقات نہیں کی، وزیراعظم نے صرف امیروں سے ملاقات کی ہے، بجٹ سے نظر آرہا ہے تعلیم، صحت اور بےروزگاری ان کی ترجیح نہیں، حکومت نے تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ نہیں کیا اور ڈاکٹروں اور طبی عملے کا بھی تحفظ نہیں کیا۔

ٹڈی دل کے حوالے سے بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت تاریخی چیلنجز کا سامنا ہے، ٹڈی دل کو ابتدا ہی میں ختم کیا جاسکتا تھا، لیکن حکومت تیار نہ ہوئی، وفاقی حکومت بحران کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے مزید خراب کررہی ہے ۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے سے متعلق بلاول کا کہنا تھا کہ پولیس نے فوری ایکشن لے کر بڑی تباہی سے بچایا، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، پورا پاکستان سندھ پولیس کے اہلکاروں پر فخر کرتا ہے، پولیس اور رینجرز کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی۔

انہوں نے پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے پر کہا کہ ہمارے پائلٹس دنیا بھر میں اپنی مہارت کے لیے مشہور ہیں، طیارہ حادثے کا بہانہ بنا کر آپ ادارے کی نجکاری کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو