ن لیگی رہنما حنیف عباسی اور اہلخانہ کے منجمد اثاثے بحال

راولپنڈی کی انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی اور اہل خانہ کے اثاثے منجمد کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی اور اہل خانہ کے اثاثے منجمد کرنے کی درخواست کی تھی. جس پر عدالت نے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

حنیف عباسی کی جانب سے اثاثوں کی بحالی کی درخواست پر انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج سہیل ناصر نے فیصلہ سناتے ہوئے حنیف عباسی، اہل خانہ اور ان کے قریبی رشتہ داروں احمد بلال اور محسن خورشید کے اکاؤنٹس بھی بحال کر دئیے ہیں۔

منجمد کیے گئے اثاثوں میں مجموعی طور پر 10 بینک اکاؤنٹس، 3 گاڑیاں، 3 پلاٹ اور 2 کوٹھیاں شامل تھیں۔

ایفی ڈرین کوٹہ کیس کا پس منظر

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی و دیگر ملزمان پر جولائی 2012ء میں 500 کلو گرام ایفی ڈرین حاصل کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر 9 سی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اس مقدمے میں حنیف عباسی کے علاوہ غضنفر، احمد بلال، عبدالباسط، ناصر خان، سراج عباسی، نزاکت اور محسن خورشید نامی افراد بھی شامل تھے، ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایفی ڈرین کا غلط استعمال کیا۔

واضح رہے کہ 13 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی کو کیمپ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو