ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے…

زیرِ نظر تحریر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف لاء کے سابقہ چئیرمین اور حالیہ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف لاء انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر محمد مُشتاق صاحب کی ہے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کا شمار وطنِ عزیز کے ان ماہرینِ قانون میں ہوتا ہے۔ جو اسلامک لاء اور انٹرنیشنل لاء کے صرف ماہر ہی نہیں بلکہ انہیں قریب سے جاننے والے ان کی قابلیت و علمیت کی بناء پہ انہیں سرخسئ وقت کا لقب بھی دیتے ہیں۔ (امام سرخسی جن کی تیس ضخیم جلدوں پہ مشتمل کتاب “ المبسوط “ کو فقہ حنفی کے مستند ماخذ میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ مکمل کتاب قید کی حالت میں امام سرخسی رح نے لکھی تھی)۔

بیوی کی جائیداد کی رسیدیں اور قربانی کے بکرے


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے خلاف بے بنیاد، ناجائز اور قطعاً غیر قانونی ریفرنس کا جنازہ عنقریب پڑھا جانے والا ہے اور اس کے بعد ریفرنس بنانے والوں کو اس کے نتائج بھی بھگتنے ہوں گے۔ چنانچہ ڈوپتے کو تنکے کے سہارے کے مصداق اب یہ پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی جائیداد کی رسیدیں کیوں نہیں دکھا دیتے؟

یہ سوال اٹھانے والے دو طرح کے لوگ ہیں: انتہائی احمق یا انتہائی چالاک۔

پہلے انتہائی چالاک لوگوں کا ذکر کیا جائے تو ان میں سرفہرست وہ صاحب آتے ہیں جن کی کابینہ میں آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں۔ کابینہ میں آتے ہیں، پھر کیس کےلیے کابینہ چھوڑ دیتے ہیں، پھر واپس کابینہ میں آجاتے ہیں، لیکن اب ان کا کھیل ختم ہوچکا ہے۔ جتنی چالاکیاں انھوں نے پچھلے دو ہفتوں میں دکھانی تھیں، وہ دکھا لی ہیں اور ہاتھ کچھ نہیں آیا۔

انتہائی احمق لوگ وہ ہیں جنھوں نے نہ تو سپریم جیوڈیشل کونسل میں دائر کیا گیا حکومتی ریفرنس پڑھا، نہ اس پر جسٹس صاحب کا موقف، نہ ہی سپریم کورٹ کے سامنے مقدمے اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس کا فرق انھیں معلوم ہے، نہ ہی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس وقت سوال ہے کیا، وہ بس پروپیگنڈے کا شکار ہوکر سر میں سر میں ملا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ جسٹس صاحب رسیدیں کیوں نہیں دکھا دیتے۔

ان انتہائی احمق لوگوں میں وہ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی کا فوج کے ساتھ رومانس تا ابد جاری رہے گا اور اس لیے وہ فوج کےلیے جسٹس صاحب پر حملہ آور ہو کر دراصل پرائے شگون میں اپنی ناک کٹوارہے ہیں۔

باقی باتیں ایک طرف۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ حکومت نے جسٹس صاحب کے خلاف ریفرنس اس بنیاد پر دائر کیا کہ فلاں جائیداد کاغذات میں نہ دکھا کر انھوں نے مس کنڈکٹ کیا اور اس لیے وہ جج کے عہدے کےلیے نااہل ہوئے۔ اس پر حکومت سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا یہ جائیداد جج صاحب کی ہے؟۔۔۔ حکومت نے مان لیا ہے کہ جائیداد ان کی بیوی کے نام پر ہے۔ تو اگلا سوال یہ بنا کہ بیوی کی جائیداد کا اپنے کاغذات میں ظاہر نہ کرنا مس کنڈکٹ کیسے ہوا؟۔۔۔ اگر ٹیکس چوری کا الزام ہے تو ان کی بیوی کے خلاف کارروائی کریں لیکن جج صاحب کے خلاف کیس کیسے بنتا ہے اور وہ بھی مس کنڈکٹ کا؟۔۔۔ یہاں تک بات پہنچی تو اس کے بعد حکومتی موقف پیش کرنے والوں کی قلابازیاں شروع ہوئیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

یاد رکھیے جب تک حکومت دو میں سے کوئی ایک بات ثابت نہ کرے، بات آگے نہیں بڑھ سکتی:
یا تو یہ ثابت کرے کہ جائیداد جج صاحب کی ہے؛
یا یہ ثابت کرے کہ جج صاحب نے منی لانڈرنگ کی ہے اور جائیداد بظاہر ان کی بیوی کے نام ہے لیکن اصل میں ان کے مال سے خریدی گئی ہے۔
دونوں صورتوں میں بارِ ثبوت حکومت پر ہے، نہ کہ جج صاحب پر۔

انتہائی احمقوں کے اس گروہ میں وہ بھی شامل ہیں جو جج صاحب کے مقدمے کو میاں صاحب کے مقدمے کی طرح سمجھ رہے ہیں۔ چنانچہ چند نکات وہ بھی نوٹ کرلیں۔

اگر معاملہ اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ کے اثاثوں کا ہوتا اور نیب کے قانون کے تحت جج صاحب کے خلاف مقدمہ ہوتا، تو اس صورت میں معاملہ مختلف ہوتا، لیکن اس صورت میں بھی یہ ثابت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی کہ جج صاحب کے ذرائع یہ ہیں اور اثاثے یہ۔ یا کم از کم جج صاحب کی جانب سے اعتراف پیش کیا جاتا کہ یہ میرے اثاثے ہیں۔ یا کم سے کم یہ ثابت کیا جاتا کہ جائیداد جن کے نام ہے وہ جج صاحب کے زیرکفالت ہیں، یا جس وقت جائیداد خریدی گئی وہ اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ یہ ثابت کرنا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری تھی۔

مکرر سن لیجیے۔ جج صاحب کے خلاف ریفرنس احتساب کے قانون کے تحت نہیں، بلکہ ٹیکس کے قانون کے تحت ہے اور ٹیکس بھی اس جائیداد کا جو ان کی بیوی کی ہے۔

آخری بات۔ جس نے سپریم کورٹ میں کیس کو فالو کیا ہے وہ جانتا ہے کہ حکومت یہ کیس ہار چکی ہے اور جلد ہی اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ قربانی کے بکرا (یا بکروں) کےلیے ناموں پر غور شروع کرلیں تو بہتر ہوگا۔

اور ہاں۔ آج پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار سیٹھ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں کو اس بنا پر منسوخ کردیا ہے کہ ملزموں کے خلاف سواے ان کے اقرار کے کوئی ثبوت نہیں تھا اور اقرار کےلیے قانونی شرائط کسی صورت پوری نہیں ہورہی تھیں۔

جو سمجھنا چاہتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ تبدیلی آ نہیں آرہی بلکہ آچکی ہے!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو