مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت ختم کرنے کی سازش

اکتیس مارچ کو جب دنیا کی سبھی حکومتیں کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے میں مصروف تھیں‘ بھارتی حکومت نے قانون واخلاق کا مذاق اڑاتے ہوئے مسلمانان ِ جموں وکشمیر کی آزادی پر ایک اور شب خون مار دیا۔اس دن مودی سرکار نے اپنے قانون’’ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019ء ‘‘میں نئی تبدیلیاں کر دیں۔

مودی جنتا نے اگست 2019ء میں اسی قانون کے ذریعے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصّوں (لداخ اور جموں و کشمیر) میں تقسیم کیا تھا۔31 مارچ کو تنظیم نو ایکٹ 2019ء میں درج ذیل تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں:

٭…بھارت کا جو غیر کشمیری شہری پندرہ برس سے جموں و کشمیر یا لداخ میں مقیم ہے‘ وہ اب دونوں وفاقی علاقوں کا مستقل شہری بن سکے گا۔

٭…جن غیر کشمیری بھارتیوں نے سات برس جموں و کشمیر یا لداخ میں تعلیم پائی ہے، وہ بھی ان وفاقی علاقوں کے مستقل شہری بن جائیں گے۔

٭…جو غیر کشمیری بھارتی جموں و کشمیر یا لداخ میں میٹرک یا انٹر کے امتحانات میں شریک ہوئے، وہ بھی دونوں وفاقی علاقوں کے مستقل شہری بن سکیں گے۔

٭…جن غیر کشمیری بھارتیوں کو جموں و کشمیر یا لداخ کا مستقل شہری بنایاگیا‘ ان کے بچے بھی یہی سہولت پا سکیں گے۔

٭…بھارت کی مسلح افواج ‘ نیم عسکری دستوں‘ افسر شاہی‘ نیم سرکاری اداروں‘ سرکاری تعلیمی اداروں کے جو ارکان دس برس تک جموں و کشمیر یالداخ میں مقیم رہے ہیں‘ وہ چاہیں تو ان وفاقی علاقوں کے مستقل شہری بن سکتے ہیں۔ یہی نہیں‘ ان کے بچے بھی مستقل شہری بن جائیں گے۔

درج بالا تبدیلیوں سے صاف آشکارا ہے کہ مودی سرکار قانون کا سہارا لے کر جموں و کشمیر اور لداخ میں زیادہ سے زیادہ ہندو آباد کر کے ان علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم سے کم کرنا چاہتی ہے۔ مقصد یہ کہ مستقبل میں مسلمان اپنی اکثریت کے بل بوتے پر جموں و کشمیر یا لداخ کو پاکستان میں شامل کرانے یا انہیں آزاد و خود مختار بنانے کا مطالبہ نہ کر سکیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کے قبضے میں رکھنے کی خاطر یہ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کی بنیادی چال ہے۔

اسے اپنانے کے لیے ہی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا گیا جس نے ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ عطا کر رکھا تھا اور غیر کشمیری وہاں آباد نہ ہو پاتے ۔قوانین کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانا نئی ریت نہیں۔

غدار گلاب سنگھ حکمران بن گیا

مسلمانانِ کشمیر پچھلے دو سو برس سے غیر مسلم حکمرانوں کے جبر و زیادتی سے بھرے ادوار برداشت کر رہے ہیں۔ رنجیت سنگھ نے 1820ء میں ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ کیا تھا۔ غیر مسلم حکمرانوں نے پھر ریاست میں مسلم مخالف قوانین متعارف کرائے۔ گائے کے ذبیح پر سزائے موت متعارف کرائی۔ مسلمانوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے اور اسلامی عبادات ادا کرنے پر پابندی لگا دی۔1846ء میں ریاست پر ہندو ڈوگرا راجا گلاب سنگھ نے قبضہ کر لیا۔ گلاب سنگھ اور اس کا باپ‘ کشور سنگھ رنجیت سنگھ کی فوج سے بطور جرنیل وابستہ تھے۔

ان کا جموں کے شاہی خاندان سے تعلق تھا۔ باپ بیٹے کی خدمت سے متاثر ہو کر رنجیت سنگھ نے انہیں جموں کا حاکم بنا دیا۔ گلاب سنگھ نے مگر اس احسان کے بدلے نہ صرف سکھ حکمرانوں سے غداری کی بلکہ ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

1839ء میں رنجیت سنگھ کی موت کے بعد تخت لاہور پر قبضے کی خاطر اس کے ورثا میں خانہ جنگی شروع ہو ئی۔ اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے پنجاب پر حملہ کر دیا۔ سکھ چاہتے تھے کہ گلاب سنگھ اپنی فوج لا کر ان کے ساتھ انگریزوں سے مقابلہ کرے۔ مگر گلاب سنگھ حیلے بہانوں سے کام لیتا رہا اور پنجاب نہ گیا۔ چنانچہ انگریز فوج نے مختلف لڑائیوں میں سکھوں کو شکست دی اور پنجاب پر قبضہ کر لیا۔سکھوں سے غداری کرنے پر انگریزوں نے گلاب سنگھ کو بطور انعام کشمیر کا علاقہ 1846ء میں صرف پچھتر لاکھ روپے کے عوض سونپ دیا ۔ یوں گلاب سنگھ ریاست جموں و کشمیر کا مہاراجا بن بیٹھا۔ مگر اسے یہ مقام اپنی ذہانت یا بہادری کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اپنے محسنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے ملا ۔ اسی لیے آج بھی سکھ گلاب سنگھ کو ناپسند کرتے اور اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

1846ء تک صوفیا کرام کی تبلیغ اور چار سو سالہ مسلم دور اقتدار کے باعث ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی کثرت ہو چکی تھی۔یہ کشمیری اپنی آزادی اور خود مختاری کے سلسلے میں حساس تھے۔ یہی وجہ ہے، جب مغلوں نے کشمیر پر قبضے کی کوششیںکیں، تو ان کا مقابلہ کیا۔ کئی سال بعد اکبر کے دور میں ہی مغل فوج کشمیر پر قبضہ کرسکی۔ تاہم عام کشمیری مغل حکمرانوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ 1748ء میں افغانوں نے کشمیر پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ کشمیری ان سے بھی نبرد آزما رہے۔رفتہ رفتہ باہمی لڑائیوں اور خانہ جنگی نے ہندوستانی مسلمانوںکو کمزور کردیا۔

ان کا اتحاد انتشار میں بدل گیا۔ اس صورت حال سے ہندوستان کی غیر مسلم قوتوں نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے مسلمانوں کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا جن میں کشمیر بھی شامل تھا۔ہندوستان کے دیگر علاقوں میں تو پھر مقامی سطح پر اثر و رسوخ والی مسلم اشرافیہ موجود تھی۔اسی لیے ان علاقوں میں انگریز حکمران مسلمانوں پر زیادہ ظلم نہیں کر سکے۔ جموں و کشمیر میں مگر ہندو ڈوگرا حکمرانوںنے مسلمان رعایا کو اپنا غلام بنا لیا۔ ان کی فوج اور افسر شاہی سو فیصد غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ اسی واسطے ڈوگرا حکومت نے مختلف مسلم دشمن قوانین اور طور طریقوں سے مسلمانان جموں و کشمیر کا جینا عذاب بنا دیا۔

1846ء میں انگریز کے لیے جموں و کشمیر کا علاقہ بنجر، ویران اور دور دراز واقع تھا۔ اسی واسطے وہ وہاں حکومت کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔ انہوں نے اسے گلاب سنگھ کو کوڑیوں کے مول دے دیا۔ حتیٰ کہ معاہدے میں یہ بھی لکھا کہ ریاست پر گلاب سنگھ اور اس کے ورثا تا عمر حکومت کرسکتے ہیں۔

اس شق سے عیاں ہے کہ انگریز خطہ ِکشمیر اپنے قبضے میں لینے کی تمنا نہیں رکھتے تھے۔رفتہ رفتہ مگر انہیں اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت کا احساس ہوا۔ جب روسی ہندوستان کے دروازے پر آپہنچے اور چین میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو انگریز چوکنا ہوئے۔ پڑوسی مہا طاقتوں کا مقابہ کرنے کی خاطر فیصلہ ہوا کہ خطہ ِکشمیر میں اپنا اثرورسوخ بڑھایا جائے۔ انگریز خصوصاً خطے میں سڑکیں تعمیر کرنا چاہتے تھے تاکہ وہاں فوجی چوکیاں قائم کرنے میں آسانی رہے۔ یہی وجہ ہے، انگریز جموں میں پر پھیلانے لگے۔

انگریز اور کشمیر کی اہمیت

ریاست میں 1851ء سے انگریزوں کا نمائندہ، آفیسرآن اسپیشل ڈیوٹی کام کررہا تھا مگر اس کا اثرورسوخ بہت محدود تھا۔ وجہ یہ کہ گلاب سنگھ کا بیٹا، رنبیر سنگھ اپنی ریاست میں بلاشرکت غیرے حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔ وہ ایک طاقتور حکمران تھا، اسی لیے انگریز اس سے خائف رہے۔ تاہم انہوں نے 1877ء میں گلگت میں پولیٹکل ایجنٹ تعینات کرنے میں کامیابی پالی۔اپریل1884ء سے رنبیر سنگھ کی صحت بگڑنے لگی اور یہ آشکار ہو گیا کہ اگلے چند ماہ میں وہ مر جائے گا۔ رنبیر کے تین بیٹے تھے۔ وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے‘ امر سنگھ کو ذہین سمجھتا اور اسے اگلا حکمران بنوانا چاہتا تھا مگر انگریزوں کی خواہش تھی کہ اس کا بڑا بیٹا پرتاب سنگھ نیا مہاراج بن جائے کیونکہ وہ کمزورشخصیت کا مالک تھا۔اس سے اپنی خواہشات پر عمل کرانا آسان ثابت ہوتا۔انگریز پھر دونوں بیٹوں سے سودے بازی کرنے لگے۔

انہوں نے شہزادوں کے سامنے یہ شرط رکھ کر بتایا کہ جس نے انگریز ریزیڈنٹ کو قبول کرلیا‘ اسے نیا مہاراجا بننے میں بھرپور مدد کی جائے گی۔ پرتاب سنگھ نے یہ شرط قبول کر لی۔ چنانچہ جب ستمبر 1885ء میں رنبیر سنگھ مرا تو انگریزوں نے اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر اسے مہاراجا بنا دیا۔ تخت پر بیٹھتے ہی اس نے انگریز آفیسرآن اسپیشل ڈیوٹی کو ریزیڈنٹ کی حیثیت دے دی۔

ریزیڈنٹ پھر ریاست میں برطانوی اثرورسوخ بڑھانے کی خاطر مختلف اقدامات کرنے لگا۔ مثلاً ریاست میں چھاؤنیاں بنائی گئیں۔ انگریزوں تاجروں کو زمین خریدنے کی اجازت مل گئی۔یوں ریاست کے معاملات میں ان کا عمل دخل پہلے سے بڑھ گیا۔ اب مسلمانان کشمیر کو ایک نہیں دو غیر مسلم حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بننا پڑا۔

دھیلے کا کام نہیں ہوا

گلاب سنگھ نے مسلمانان کشمیر پر ٹیکسوں کا انبار لادا تو اس کا بیٹا، رنبیر سنگھ دو ہاتھ آگے نکلا۔ اس نے 1882ء میں یہ قانون بنا دیا کہ اگر ریاست کا کوئی ہندو مسلمان ہوا تو وہ اپنی ساری جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ مسلم دشمنی میں پردیپ سنگھ بھی اپنے باپ دادا سے کم نہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دوپہر سے قبل کسی مسلمان کا چہرہ نہیں دیکھتا تھا۔ ریاست کشمیر میں تعینات چند انگریز افسروں کو چھوڑ کر بقیہ مسلمانان کشمیر کی حالت زار سے بے پروا تھے۔ انہیں بس یہ غرض تھی کہ ریاستی حکومت تاج برطانیہ کے مفادات پوری کرتی رہے۔ چناں چہ جنگ عظیم اول شروع ہوئی تو انگریزوں نے ریاستی خزانے سے ایک کروڑ روپیہ جنگی اخراجات کی خاطر اڑا لیا۔ یہی نہیں، ریاست سے پچاس ہزار فوجی بھی لیے گئے تاکہ وہ تاج برطانیہ کی خاطر جانیں دے سکیں۔

ڈوگرا اور انگریز حکمرانوں پر مشتمل اس حکومت نے سڑکیں اور چھاؤنیاں بنانے کے علاوہ عوام کی فلاح و بہبود کے واسطے دھیلے کا بھی کام نہیں کیا۔ تعلیم، صحت، زراعت، ٹرانسپورٹ وغیرہ پر معمولی رقم خرچ کی جاتی۔ عوام خصوصاً مسلمان ٹیکسوں کے انبار تلے دب کر غربت کی آغوش میں جا پہنچے۔ 1887ء میں ایک رحم دل انگریز افسر، اینڈریو ونگیٹ نے تجویز پیش کی کہ کسانوں کو زمین کی ملکیت کا حق ملنا چاہیے۔ مگر کسی نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ حتیٰ کہ ریاستی انتظامیہ اسے قتل کرنے کی سازش کرنے لگی۔ اینڈریو کو جان بچانے کے لیے ریاست سے فرار ہونا پڑا۔

پرتاپ سنگھ لاولد تھا۔ اس کا ایک بیٹا کم سنی میں چل بسا تھا۔ بیٹے کی خاطر اس نے کئی شادیاں کیں مگر وہ پھر باپ نہیں بن سکا۔ عیاشی نے اسے کھوکھلا کردیا تھا۔ اس نے پھر گلاب سنگھ کے بھائی کی اولاد میں سے ایک لڑکے، دھیان سنگھ کو اپنا لے پالک بیٹا بنالیا۔ وہ دراصل اپنے بھائی، امر سنگھ کے بیٹے، ہری سنگھ کو ہر قیمت پر تخت سے دور رکھنا چاہتا تھا۔ مگر اس کی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔ ستمبر 1925ء میں جب مرا تو انگریزوں نے اس کے بھتیجے ہری سنگھ کو نیا مہاراجا بنا دیا۔

تحریک آزادی کا جنم

ہری سنگھ عیاش اور بگڑا ہوا حکمران تھا۔ وہ اپنی عیاشی کے نشے میں غرق رہتا۔ ریاستی انتظام انگریز اور ہندو افسروں پر چھوڑ رکھا تھا۔ یہ افسر اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر مسلمانان کشمیر کے استحصال کی پالیسی جاری رکھے ہوئے تھے۔

اوائل بیسویں صدی میں کشمیر کے شہروں میں تحریک آزادی نے جنم لیا۔ مسلمان ہندو حکمرانوں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے۔ اب وہ مزید ظلم برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ریاست کی آبادی میں 74 فیصد مسلمان تھے لیکن ان کی ملکیتی زمین کا نام و نشان نہیں تھا۔ اسی طرح وہ جو کچھ اگاتے اور تیار کرتے، اس کا 75 فیصد حصے پر ڈوگرا حکومت قبضہ کرلیتی۔ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس رہتی۔ وہ حلیے سے بھکاری دکھائی دیتے، عام لوگ نہیں جن کے ٹیکسوں سے حکومت کی تجوریاں بھرتی تھیں۔

ڈوگرا حکمرانوں نے طاقت کے بل بوتے پر کشمیری مسلمانوں کی معاشی و سیاسی آزادی تو سلب کرلی مگر وہ ان کی مذہبی آزادی پر پہرے نہیں بٹھاسکے۔ اور جب انہوں نے مسلمانان کشمیر کی مذہبی آزادی کو چیلنج کیا، تو اسی عمل سے تحریک آزادی کی چنگاریاں پھوٹ پڑیں۔ انہوں نے پھر کئی برس سے کشمیری مسلمانوں کی دبی غم و غصے کی آگ کو ہوا دے کر شعلہ جوالہ بنادیا۔

تاہم سب سے پہلے جولائی 1924ء میں گورنمنٹ سلک فیکٹری کے مزدوروں نے ہڑتال کی۔ یہ فیکٹری 1901ء میں قائم ہوئی تھی۔ دنیا میں سب سے زیادہ ریشم اسی کارخانے میں بنتا تھا۔ 1924ء میں فیکٹری میں پانچ ہزار مسلمان کارکن کام کررہے تھے۔ فیکٹری کے مالک ہندو پنڈت تھے جو مسلمان ہنر مندوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک رکھتے۔ تنخواہ واجبی دیتے اور دن میں دس گھنٹے کام لیتے۔ غرض ظلم کی انتہا ہوگئی تھی۔

جب مسلم ہنرمندوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو انہوں نے ہڑتال کردی۔ ہری سنگھ نے اسے بغاوت قرار دیا اور پولیس اور فوج بھیج کے مسلمانوں پر تشدد کرایا تاکہ وہ ہڑتال ختم کردیں۔ اس تشدد سے مسلمانان کشمیر میں اشتعال پھیل گیا۔ تب ریاست میں پہلی بار انہوں نے حکومت کے خلاف جلوس نکالے۔ جلوسوں میں مہاراجا کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ یہ پچھلے سو برس میں پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں نے اپنے حقوق پانے کی خاطر احتجاج کیا۔ تاہم حکومت جبرو طاقت سے کام لے کر اسے دبانے میں کامیاب رہی۔

استبدادی قوانین کا نفاذ

ہری سنگھ کا خیال تھا کہ غیر کشمیری مسلمان ریاست آکر مسلم رعایا کو حکومت کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ اسی لیے ہری سنگھ نے جنوری 1927ء میں یہ قانون بنا دیا کہ ریاست میں ملازمتیں صرف ریاستی شہریوں کو دی جائیں گی۔ مقصد یہ تھا کہ غیر کشمیری مسلمانوں کی آمدورفت روکی جاسکے۔

اسی قانون کے ذریعے غیر کشمیریوں کو ریاست میں کسی قسم کی جائیداد خریدنے سے روک دیا گیا۔ نیز یہ حکم بھی جاری ہوا کہ اگر کسی کشمیری عورت نے غیر کشمیری سے شادی کی تو وہ بھی اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ نیز اس کی اولاد بھی ریاست میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتی۔ ان احکامات سے ہری سنگھ ریاست میں غیر کشمیری مسلمانوں کا عمل دخل کم سے کم کرنا چاہتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ کشمیری مسلمان اپنے حقوق سے بے خبر ہی رہیں اور حکومت کے خلاف آواز احتجاج نہ کرسکیں جو ان پر پچھلے کئی عشروں سے ظلم و ستم کررہی تھی۔

23 اپریل 1931ء کو جموں شہر کی جامع مسجد میں مسلمان نماز عید ادا کررہے تھے۔ نماز کے بعد مسلمانان ہند کے ممتاز خطیب، عطاء اللہ شاہ بخاری نے خطبہ عید دیا۔ (بعض مورخین نے مفتی محمد اسحاق کا نام لکھا ہے)۔ خطبے میں شاہ صاحب مرحوم نے فرعون اور حضرت موسیٰؑ کی کشمکش کو بیان کیا۔عید گاہ میں ایک ہندو سب انسپکٹر، بابو کھیم چند بھی موجود تھا۔

اس نے یہ کہہ کر خطبہ رکوا دیا کہ یہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ عید گاہ میں ایک کشمیری نوجوان، میر حسین بخش موجود تھے۔ انہوں نے اہل وطن کو باور کرایا کہ ڈوگرے انہیں معاشی اور سیاسی طور پر کنگال کرچکے۔ اب وہ ہماری مذہبی آزادی بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بعدازاں مسلمانوں نے بابو کھیم چند کے خلاف عدالت میں کیس کردیا۔ تاہم ہندو مجسٹریٹ نے کیس یہ کہہ کر خارج کر ڈالا کہ خطبہ نماز عید کا حصہ نہیں۔

اس واقعے نے پوری ریاست میں ہندو مسلم تصادم کی فضا پیدا کردی۔ جلد ہی مزید واقعات نے مسلمانان کشمیر کو مزید مشتعل کردیا۔ جموں سینٹرل جیل میں ایک مسلمان سپاہی فضل پنج سورہ پڑھ رہا تھا۔ اس کے ہندو افسر نے پنج سورہ چھین کر زمین پر پھینک دی۔

فضل داد نے اہل علاقہ کو قرآنی سورتوں کی بے حرمتی سے آگاہ کیا اور یہ خبر جموں میں جنگل کی آگ کے مانند پھیل گئی۔ انہی دنوں سری نگر کی ایک لیٹرین سے قرآن پاک کا جلا ہوا نسخہ برآمد ہوا۔ ان تمام گھناؤنے واقعات نے قدرتاً مسلمانان کشمیر کو مشتعل کردیا۔ انہیں احساس ہوا کہ غیر مسلم انتظامیہ دانستہ ان کے مذہبی شعائر کی تضحیک کررہی ہے۔ وہ بھوک پیاس تو برداشت کرسکتے تھے مگر مسلمانان کشمیر کو اپنے مذہب کی توہین کسی طرح گوارا نہیں تھا۔

یادگار تقریر

21 جون 1931ء کو مسلمانان کشمیر کے معززین کا ایک اجلاس خانقاہ معلی (سری نگر) میں منعقد ہوا۔ اس میں ہم وطن مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی تجاویز پر غور و خوص ہوا۔ تبھی جمال الدین افغانیؒ کے ایک پیروکار، عبدالقدیر خان نے ولولہ انگیز تقریر کی۔ انہوں نے مسلمانان کشمیر پر زور دیا کہ وہ ہری سنگھ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ اپنے حقوق حاصل ہوسکیں۔

ریاستی پولیس نے باغیانہ تقریر کرنے پر عبدالقدیر خان کو گرفتار کرلیا اور ان پر مقدمہ چلایا۔ ان کی دلیری و بہادری نے عبدالقدیر خان کو کشمیری مسلمانوں کا ہیرو بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کشمیری اپنے ہیرو کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ دوران مقدمہ 13 جولائی کو مسلمانان کشمیر اور ڈوگرا پولیس کے مابین تصادم ہوگیا۔ ظالموں نے بائیس مسلمان شہید کردیئے۔ آج ’’یوم شہدائے کشمیر‘‘ مناکر ان شہدا کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

جموں و کشمیر میں ڈوگرا شاہی سے نبرد آزمائی کے دوران ہی شیخ عبداللہ لیڈر بن کر ابھرے۔ لیکن مسلمانان ہندوستان کے اجتماعی مفاد کی جگہ وہ اپنے فائدے کو مقدم سمجھتے تھے۔ اسی لیے 1947ء میں ریاست کا بلاشرکت غیرے حکمران بننے کی خاطر نے جموں و کشمیر کو بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔

اگر وہ بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو کے ساتھی نہ بنتے تو آج ریاست جموں و کشمیر انتہا پسند ہندوؤں کے قبضے سے آزاد ہوتی۔اب مودی حکومت مختلف چالوں، سازشوں اور طریقوں سے سرتوڑ کوشش کررہی ہے کہ رفتہ رفتہ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت کم سے کم کردی جائے۔ اگر اگلے دس پندرہ سال تک مودی اور اس کے پیروکار بھارتی حکمران رہے تو وہ اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنا دیں گے۔

ہندو بستیاں بسانے کا منصوبہ

جموں و کشمیر کے بیس اضلاع ہیں جبکہ لداخ دو اضلاع پر مشتمل ہے۔ وادی کشمیر کے تمام دس اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ جموں کے دس اضلاع میں سے پانچ میں مسلمان زیادہ ہیں جبکہ لداخ کے ضلع کارگل میں بھی ان کی اکثریت ہے۔ 1947ء میں ریاستی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ نہ ٹوٹتے تو ان کی اکثریت آج کہیں زیادہ ہوتی۔

انگریزوں نے 1901ء میں ریاست میں مردم شماری کرائی تھی۔ اس کے مطابق وادی کشمیر کی آبادی میں 93.6 فیصد لوگ مسلمان تھے جبکہ جموں کی 51 فیصد آبادی مسلمان تھی۔ ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی میں 74.16 فیصد مسلمان نکلے۔

بقیہ 23.74 فیصد آبادی ہندوؤں، سکھوں اور بدھی افراد پر مشتمل تھی۔1947ء میں خاص طور پر جموں میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا۔ ان کی نسل کشی کرنا خاص ٹارگٹ تھا۔ وادی کشمیر سے بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد ہجرت کرکے پاکستان چلی گئی۔ یہی وجہ ہے، جب 1961ء میں ریاست میں مردم شماری ہوئی تو مسلم آبادی کی شرح کم ہوکر 68.3 فیصد رہ گئی۔ جموں میں ہندو اکثریت میں آگئے جہاں آبادی میں ان کی شرح 65 فیصد پائی گئی۔

جموں و کشمیر کو یونین ٹیرریٹی یا وفاقی علاقہ بنا کر اب مودی حکومت کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ جموں کے اضلاع میں بھارت بھر سے ہندو لاکر زیادہ سے زیادہ بسائے جائیں۔ یوں جموں کے پانچ مسلم اکثریتی اضلاع میں ہندوؤں کی تعداد بڑھانی مقصود ہے۔اس کے بعد وادی کشمیر میں بھی یہی چال چلی جائے گی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ علاقہ جموں کی موجودہ آبادی 70 لاکھ ہے جبکہ وادی کشمیر کے دس اضلاع میںایک کروڑ 36 لاکھ افراد بستے ہیں۔ ان میں 97 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ مگر بھارتی حکومت دونوں علاقوں کی آبادی میں فرق کے باوجود انہیں برابر کی سہولیات و مراعات دے رہی ہے۔ حقیقتاً کئی سرکاری معاملات میں جموں علاقے کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ وہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔

مثال کے طور پر جموں میں سرکاری سکول، کالج، ہسپتال، صحت کے دیہی مراکز اور دیگر سرکاری عمارات وادی کشمیر کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ جموں کے باشندوں کا معیار زندگی بھی بلند ہے۔ انہیںصنعت و تجارت اور کاروبار زندگی کی بہتر سہولیات حاصل ہیں۔ غرض بھارتی حکومت کی بھرپور سعی ہے کہ جموں کو ترقی دی جائے۔

وادی کشمیر پر مگر مودی سرکار کی توجہ بہت کم ہے بلکہ گزشتہ کئی ماہ کے ظالمانہ لاک ڈاؤن نے وہاں رہی سہی معیشت تباہ و برباد کردی۔ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک مسلمانان ِکشمیر کی دامے درمے سخنے مدد کررہے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب وہ خود مودی سرکار کے ظلم و ستم کی مزاحمت کرنے کھڑے ہوں ، تبھی آزادی کی نعمت پا سکیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو خانقاہ معلی میں ہوئی عبدالقدیر خان کی تاریخی تقریر کے درج ذیل الفاظ یاد رکھنے چاہیں:

’’مہاراجا کی حکومت کو اپنی رعایا کی کوئی پروا نہیں۔ وہ عوام سے کوئی رابطہ نہیں رکھتی اور نہ ہی اسے مسلمانوں سے ہمدردی ہے۔ اے مسلمانو! وقت آگیا ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔ درخواست دینے، تقریریں کرنے اور جلوس نکالنے سے ناانصافی اور ظلم ختم نہیں ہوسکتا۔ آپ کو اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر ظالموں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ آپ کے پاس ہتھیار نہیں تو لاٹھیوں اور پتھروں سے ظالم سے جنگ شروع کردیں۔‘‘

بھارت اور چین آمنے سامنے

پچھلے ماہ دنیا کی دو بڑی عسکری طاقتوں، چین اور بھارت کے مابین لداخ اور سّکم میں جھڑپیں ہوئیں۔ چین بھارت سرحد تقریباً ساڑھے تین ہزار کلو میٹر طویل ہے۔ اس سرحد پر کئی علاقے دونوں طاقتوں کے مابین متنازع حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش اور آکسائی چن (لداخ) کا علاقہ نمایاں ہیں۔

چین کا دعوی ہے کہ بھارت اس کے90 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر قابض ہے۔جبکہ بھارتی حکومت واویلا مچاتی ہے کہ چین نے اس کے38 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔سرحد پر دیگر کئی چھوٹے علاقوں کو بھی چین اور بھارت اپنی اپنی مملکت میں شامل سمجھتے ہیں۔ان کے مابین سرحدی تنازعات اسّی سال پرانے ہیں۔ پچھلے چالیس برس سے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان کئی بار ہاتھا پائی اور لپاڈگی ہوچکی تاہم گولی چلنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ مگر مستقبل میں منظرنامہ بدل سکتا ہے۔وجہ یہ کہ ماضی میں سخت سردی کے باعث بھارت چین سرحد کے بیشتر علاقے منجمد رہتے تھے۔

یہ علاقے ہمالیائی پہاڑوں کے قرب و جوار میں واقع ہیں۔ اب عالمی گرماؤ (گلوبل وارمنگ) کی وجہ سے ان علاقوں میں قابل برداشت سردی رہنے لگی ہے۔وہاں قیام کرنا پہلے کی طرح کٹھن اور شدائد زندگی سے پُر نہیں رہا۔ اسی لیے دونوں ممالک کی افواج سرحد کے قریب نت نئی عسکری تنصیبات تعمیر کررہی ہیں۔

بھارت لداخ سے متصل آکسائی چن علاقے کو اپنی مملکت میں شامل سمجھتا ہے۔ یہ فی الحال چین کی ملکیت ہے۔ اسی طرح چین بھارتی ریاست ہماچل کے کثیر رقبے کی ملکیت کا دعویٰ دار ہے۔ دونوں ممالک کے یہ دو بڑے تنازع ہیں جن کے حل ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔پچھلے سال ماہ اگست میں مودی سرکار نے لداخ کو ریاست جموں و کشمیر سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنادیا۔

گویا مودی سرکار نے زبردستی لداخ پر قبضہ کرلیا جو دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ اب مودی حکومت وہاں عسکری تنصیبات تعمیر کرنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں خصوصاً پاکستان پر حملہ آور ہونے کے جنگجویانہ عزائم کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ چین مگر لداخ میں نئی بھارتی عسکری تنصیبات کو جارحیت سمجھتا ہے۔ چینی حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ مودی سرکار لداخ کے راستے تبت اور سنکیانگ میں را کے ایجنٹ بھجوا کر وہاں بدامنی اور شورش پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے چین کو لداخ میں بڑھتی بھارتی سرگرمیوں پر خاصی تشویش ہے۔ اُدھر مودی سرکار بھارت کو سپرپاور ثابت کرنے کی خاطر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی ذہنیت کے باعث ماہ مئی میں آخر دونوں ممالک کی افواج کے مابین جسمانی تصادم ہوگیا۔

لداخ میں بھارتی فوج کی بڑھتی سرگرمیاں ایک اور وجہ سے بھی چین کے واسطے پریشان کن ہیں۔ چینی حکومت گوادر کے راستے ایک تجارتی راہ چاہتی ہے تاکہ وہ خصوصاً زمانہ جنگ میں اس کے خوب کام آئے۔ امریکا اور چین کے مابین تصادم بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا مستقبل میں کوئی ٹکراؤ ہوا، تو طاقتور امریکی بحریہ بحرالکاہل، بحیرہ جنوبی چین اور بحرہند کی ناکہ بندی کرسکتی ہے۔ ایسی حالت میں چین گوادر کے راستے اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھ سکے گا۔ روس کی نسبت پاکستان سے گزرنے والا راستہ آسان اور مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

درج بالا وجوہ کی بنا پر چین گوادر بندرگاہ کے راستے کو ہر قیمت پر محفوظ و مامون بنانا چاہتا ہے۔ مودی سرکار مگر آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا اعلان کرچکی۔ اس لیے بھی لداخ میں بھارتی فوج کی بڑھتی نقل و حرکت چین کی نگاہ میں باعث تشویش ہے۔ حالات سے عیاں ہے، بھارت سے بڑھتے معاشی تعلقات کے باوجود اگر پانی سر سے اونچا ہوا تو مستقبل میں چینی حکومت پاکستان میں اپنے اثاثہ جات کی حفاظت کے لیے بھارتیوں سے بھڑ سکتی ہے۔ طویل المیعاد طور پر یہ نئی تبدیلی پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔ اب وہ ابھرتی سپر پاور کی مدد سے طاقتور اور منفی عزائم رکھنے والے اپنے پڑوسی کی سازشوں کا مقابلہ بہتر انداز میں کرسکے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو