“یادیں”

میرے مرحوم والد بشیر احمد آزاد جو کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں اعلی افسر ہونے کے ساتھ ساتھ کسٹم کے لا آفیسر بھی تھے اور پاکستان بھر میں جہاں بھی کسٹم و ایکسائز کے کیسز ہوتے تھے میرے والد ہی کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نمایندگی کیا کرتے تھے۔

اس زمانے میں سپیشل جج کسٹم عبدالمجید ٹوانہ ہوا کرتے تھے اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی ان سے جان نکلا کرتی تھی۔ ٹوانہ صاحب کی شہرت ایماندار اور سخت گیر جج کی تھی۔ عبدالمجید ٹوانہ بعد میں لاہور ہائیکورٹ کے جج بھی بنے تھے۔

کبھی کبھار جب والد صاحب سرکاری جیپ پر دفتر نہیں جاتے تھے تو میں یا میرے دوسرے دو بھائیوں میں سے کوئی انہیں کسٹم ہاؤس یا پھر کورٹ چھوڑا کرتے تھے۔ایسے ہی ایک دن جب میں انہیں چھوڑنے کورٹ گیا تو میں نے ان سے پوچھ لیا کہ اگر آپ نے کورٹ سےجلدی فارغ ہو جانا ہے تو میں آپ کو کسٹم ڈرائی پورٹ چھوڑ کر گھر چلا جاؤں گا۔۔پہلے تو انہوں نے کہا نہیں آپ جاؤ پھر کہنے لگے چلو ٹھیک ہے آ جاؤ. جب کورٹ روم میں داخل ہو رہے تھے تو مجھے سمجھاتے ہوے کہنے لگے کہ عدالت کا اپنا ڈسپلن اور وقار ہوتا ہے اور جج کی موجودگی میں اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو جاے تو جج صاحب توہین عدالت بھی لگا سکتے ہیں۔خیر جب ہم ٹوانہ صاحب کی عدالت میں داخل ہوے تو اسی وقت جج صاحب بھی اپنی کرسی پر بیٹھ رہے تھے۔ عدالت بھری پڑی تھی. میں بھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا اورعدالت کی کاروائی دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔۔جب ایک کیس سننے کے بعد ٹوانہ صاحب کی نظر میرے والد بشیر احمد آزاد پر پڑی تو انہوں نے بلند آواز میں کہا کہ آپ کا کیس؟… اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ریڈر کو کہا آزاد صاحب کا کیس پہلے سنوں گا انہوں نے اپنے دفتر بھی جانا ہے۔۔۔جس کے بعد میرے والد صاحب نے کیس میں اپنے دلائل دئیے اور اس کے بعد میں اپنے والد صاحب کو چھوڑنے کے لیے ڈرائی پورٹ کی جانب گاڑی چلانے لگ گیا۔ واپسی کے راستے پر جب میں نے پوچھا کہ جج صاحب نے آپ کو پہلے کیوں سنا تو ان کا جواب تھا کہ عدالتوں میں زیادہ تر لوگ تاریخیں لیتے ہیں اور اس طرح مقدمات کو طول دیا جاتا ہے۔ جج صاحب مجھے جانتے ہیں کہ میں جب بھی اپنے محکمے کے کیسز کے لیے آتا ہوں تو پوری تیاری سے آتا ہوں اور کبھی بھی اگلی تاریخ نہیں مانگتا اور کبھی کبھی تو جج صاحب کسٹم و ایکسایز کے قوانین پر مجھ سے اسسٹنس بھی لیتے ہیں۔ پھر مجھے کہنے لگے کہ بیٹا جو بھی کام کرو اس میں پرفیکٹ ہونا چاہیے۔ پڑھائی کے بعد جاب۔سپورٹس یا کاروبار جو کچھ بھی زندگی میں کرو ہمیشہ پرفیکٹ ہونے کی کوشش کرو۔ اس کے بعد میں نے انہیں لاہور ڈرائی پورٹ ڈراپ کیا اور گھر چلا آیا۔

1987ء میں زیمراک فایبر گلاس کے نام سے شیخوپورہ میں ایک بہت بڑا صنعتی یونٹ کام کر رہا تھا جس کے مالکان شاہین عتیق الرحمان اور دوسرے لوگ تھے۔ یہ بہت بڑا فایبر گلاس کا یونٹ تھا اور انٹرنیشنل برانڈ “سیمسونایٹ” کے سوٹ کیس اور دوسرا سامان بناتے تھے۔ ان کا صنعتی یونٹ پاکستان میں سامان تیار کر کے برآمد کرتا تھااور اس تناظر میں ان کو خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیوں کی شرح میں خصوصی چھوٹ ملی ہوئی تھی۔ شاہین عتیق الرحمان چونکہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور جنرل عتیق الرحمان کی صاحبزادی تھی جو جنرل ضیاالحق کے بہت قریب تھیں اس لیے اس بڑے صنعتی یونٹ کو کوئی چیک ہی نہیں کیا کرتا تھا کیونکہ اس وقت کے ڈی۔جی کسٹم انٹیلی جنس ایس۔ٹی۔آر۔زیدی اس کے ڈائریکٹروں میں سے ایک تھے اور وہ شاہین عتیق الرحمان کے بہنوئی تھے۔ میرے والد کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے جب معاملہ کو کھنگالا تو پتہ چلا کہ جب سے زیمراک فایبر گلاس فیکٹری بنائی گئی خال مال پر درآمدی ڈیوٹی نہ ہونے کے برابر دی گئی اور خام مال کو کاغذوں میں ویر ہاؤسز میں موجود دکھایا جا رہا تھا. جبکہ خام مال کو استعمال کر کے نہ صرف برآمد کر دیا گیا تھا، بلکہ برآمد کرنے پر حکومت کی جانب سے ریبیٹ بھی حاصل کر لیا گیا تھا۔ ریبیٹ حاصل کرنے کے لیے خالی کنٹینر بھی بیرون ملک بھجوا کر ملکی خزانے کو اس وقت میں کروڑوں کا چونا لگایا گیا تھا۔ جب یہ معاملہ اس وقت کے کلکٹر کسٹم میاں نذیر اظہر کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے میرے والد بشیر احمد آزاد کو کہا کہ اس فیکٹری پر ریڈ کر کے اسے سیل کردیا جاے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد گھر میں بات کیا کرتے تھے کہ یہ بہت بڑا سیاسی خاندان ہے اور اس کا مالک ہمارے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کا سب سے بڑا آفسر ہے اور وہ کرپٹ بھی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اپنے والد کو کسٹم ہاؤس چھوڑنے گیا تھا تو کسٹم کی یونیفارم میں بہت بڑی نفری ریڈ کے لیے تیار تھی اور یوں میرے والد کی سربراہی میں کسٹم کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسٹم کے بہت بڑے آفیسر کی فیکٹری پر جھاپہ مار کر اس وقت تک کی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس چوری پکڑی گئی تھی. جس کی بازگشت اقتدار کے ایوانوں میں گونجی تھی اور اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے میرے والد اور ٹیم کے لیے نقد انعام اور ترقیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس کے بعد ایس۔ٹی۔آر زیدی نے میرے والد کو محکمانہ طور پر تنگ کرنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن میرے والد ایکس پاکستان لیو لے کر حج پر چلے گیے تھے اور واپسی پر میاں نذیر اظہر نے انہیں پھر سے کسٹم انٹیلی جنس میں بلوا لیا تھا۔ اس کیس کے بعد ایس۔ٹی۔آر زیدی کو ڈی۔جی کی پوسٹ سے ہٹا دیا گیا تھا.

مجھے یاد ہے کہ جب والد اور والدہ حج کی ادائیگی کے بعد کراچی ایر پورٹ واپس آئے تھے تو میں اور میرا چھوٹا بھائی باسط خان انہیں لینے کراچی گیے تھے اور ایر پورٹ پر جب ہاکی کے کھلاڑی اصلاح الدین جو اس پر سپرنٹنڈنٹ ائیرپورٹ تھے نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ بشیر احمد آزاد صاحب میرے کمرے میں آجائیں تو میرے والد اس سے ناراض ہوے تھے کہ ایسا اعلان کیوں کیا میں بھی تمام حاجیوں کی طرح ہی کلیرنس کرواتا۔

کراچی میں موجود حسین عبداللہ ہارون کی بہت بڑی کاروباری کمپنی کی ٹیکس چوری کی تحقیقات بھی میرے والد نے کی تھیں اور جب تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچی تھی تو حسین عبداللہ ہارون وغیرہ نے ہوٹل بک کروایا ہوا تھا. لیکن میرے والد اپنی بہن اور میری پھوپھو کے گھر ٹھہرے تھے۔ چونکہ ہم وہاں گرمیوں کی تعطیلات گزارنے گئے ہوے تھے تو کچھ دن وہ وہاں ہمارے ساتھ ہی گزار کر واپس آ گیے تھے۔ میں اپنے والد کے غصے سے بھرپور وہ چند دن نہیں بھول سکتا، جب میرے والد نے کسٹم ایکٹ پر ایک کتاب لکھی اور ان کے ایک آفیسر نے اس کا مسودہ ان سے پڑھنے کے لیے لیا اور پھر اپنے نام کے ساتھ اسے شائع کروا دیا تھا۔

1986ء کی ایک رات کو تقریبا 11 بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ 80 کی دہائی میں رات 11 بجے کا مطلب نصف شب ہوا کرتا تھا اور ہم بھائیوں کو بھی 10 بجے کے بعد گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب ٹیلی فون کی گھنٹی دوبارہ بجی تو میں جو مدہم آواز میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ مبادا والد نیند سے بیدار نہ ہو جائیں، نے فون اٹھایا. دوسری جانب سے آواز آئی کی”مجھے بشیر احمد آزاد صاحب سے بات کرنی ہے” جب میں نے بتایا کہ وہ سو رہے ہیں اور ان کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرا نام “اسلم شاد” ہے اور میں کلکٹر کسٹم ہوں۔ ان سے بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔” میں نے فون کوہولڈ کروایا اور والد کو نیند سے بیدار کرنے جیسے مشکل ترین کام کو سرانجام کرنے چلا گیا۔ میرے والد کی روٹین تھی کی جب گھر آجاتے تھے تو پھر گھر ہی رہا کرتے تھے اور ان کے ڈیپارٹمنٹ کے لوگ اور دوست انہیں ملنے گھر ہی آیا کرتے تھے۔ خیر جب والد نے نیند سے بیدار ہو کر بات سنی تو میں پاس ہی تھا۔ فون بند کر کے انہوں نے مجھے کہا کہ”بیٹا سرکاری جیپ نہیں منگوانی تم میرے ساتھ چلو”۔ تھوڑی دیر میں والد تیار ہو گئے اور چند فون کالز کیں اور ہم گاڑی میں بیٹھ کر لاہور کے پرانے ائیرپورٹ پہنچ گیے۔ وہاں پر کسٹم کے دوسرے اہلکار بھی پہنچ چکے تھے۔ پھر کچھ اور لوگ بھی وہاں پر آئے اور میرے والد سے ملے. جس کے بعد والد صاحب نے وہاں موجود آفیسران کو ہدایات دیں اور پھر ہم لاہور ڈرائی پورٹ ا گئے اور وہاں بھی انہوں نے کچھ لوگوں کو ہدایات دی اور وہاں موجود “کچھ لوگوں” نے شکریہ ادا کیا اور اس طرح وہاں سے بھی کچھ کنٹینرز کلیئر ہو گئے اور جب وہ ڈرائی پورٹ کی حدود سے نکل رہے تھے تو انہیں فوج کی دو گاڑیوں نے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔

لاہور میں پیکو روڈ پر ایک الیکٹرونکس کی فیکٹری تھی جس کا نام مائیکرو الیکٹرونکس تھا وہ فوج کو وائرلیس سسٹم سپلائی کرنے کے علاؤہ مختلف قسم کے ہائی سٹینڈرڈ ٹیپ ریکارڈرز بنا کر برآمد کیا کرتے تھے۔ وہ ٹیپ ریکارڈرز جاپان کے ٹیپ ریکارڈرز کے ہم پلہ تھے. لیکن Senkei کے نام سے بننے والے ٹیپ ریکارڈرز کو پاکستان میں فروخت کی اجازت نہیں تھی۔ اسے ایک پاکستانی سائنسدان سہیل چلایا کرتا تھا۔ سہیل جب ایک دن میرے والد کو اپنے کسی کام کے سلسلے میں گھر ملنے آیا اور میں گھر کے ڈرائنگ روم میں چائے دینے گیا تو میں نے اس سے ٹیپ ریکارڈرز کی بابت پوچھا تو اس نے مجھے دعوت دے ڈالی کہ آپ کسی روز فیکٹری آؤ میں آپ کو بہت ساری چیزیں دکھاؤں گا اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرواوں گا۔چند دنوں کے بعد میں اپنے والد سے خصوصی اجازت لے کر پیکو روڈ پر مایکرو الیکٹرونکس گیا تو اس سیٹ اپ کو دیکھ کر حیران رہ گیا پاک فوج کو تمام وائرلیس سسٹم کے ساتھ ساتھ جہازوں اور ٹینکوں کو بھی اس وقت میں کمیونیکیشن کے جدید تقاضوں سے آراستہ کرنے کا کام سہیل صاحب اس بہت بڑی فیکٹری میں سر انجام دے رہے تھے ۔کچھ چیزیں اور بھی دکھائی گئی جن کی تفصیلات دل میں رکھنے کی تلقین کی گئی تھی۔اج چونکہ تین دہائیاں گزر چکیں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بہت سی چیزیں سہیل صاحب نے مائیکرو الیکٹرانکس کے بینر تلے دفاعی اداروں کو بنا اور منگوا کر دی تھیں۔ بے نظیر حکومت آنے کے بعد جب کرنل سرور وزیر دفاع بنے تو انہوں نے مائیکرو الیکٹرونکس کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد ملکی سلامتی کی خاطر اپنی انوسٹمنٹ سے حساس دفاعی ساز و سامان منگوانے والے سہیل صاحب کے برے دن شروع ہو گیے اور آنے والی حکومت اور وزیروں نے بیوروکریسی کے ساتھ مل کر منگواے ہوے حساس سامان کو خریدنے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ ان کے واجبات کی ادائیگی بھی روک دی۔ بعد میں میں نے سہیل صاحب کو ان کے اپنے گھر میں گھنٹوں اپنے آپ سے باتیں کرتے بھی سنا اور دیکھا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مددگار ہزاروں تھے اور ان کی رازداری اور وطن سے محبت لازوال تھی۔ آج جب کچھ ریٹایرڈ سرکاری ملازم ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ تصویریں اترواتے ہیں اور اپنے آپ کو ایٹمی پروگرام کا معمار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے اپنے مرحوم والد بشیر احمد آزاد یاد آجاتے ہیں جو اوپر لکھے چند سچے واقعات کی بابت اپنی رحلت تک مجھے تلقین کرتے رہے کہ یہ ملکی حساس معاملات ہیں ان کا ذکر کسی سے نہیں کرنا۔۔۔اب بھی مہابت خان اور دوسرے چند ریٹائرڈ کسٹم آفیسران کی بار بار یاد دہانی پر کچھ یادیں لکھ رہا ہوں ۔۔آج جب سرکاری آفیسران کا کروفر اور ملکی دولت کو بیرون ملک شہریت کے ساتھ منتقل کرتے دیکھتا اور سنتا ہوں تو ماضی کےدرویش صفت بشیر احمد آزاد اور ان جیسے بہت سے سرکاری افسریاد آتے ہیں جو سرکاری جیپ باہر کھڑی ہونے کے باوجود ٹانگے پر بیٹھ کر داتا صاحب چلے جایا کرتے تھے کہ جیپ سرکاری کاموں کے لیے ہے۔

اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں. آمین ۔۔۔ اب ایسے لوگ کہاں؟۔۔۔ کاشف بشیر خان

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو