سزا

ثریا ایک اچھی لڑکی تھی، اچھی ہی نہیں بلکہ بہت ہی اچھی لڑکی۔۔۔ دراصل اچھی تو اس کے آس پاس کی سب ہی لڑکیاں تھیں۔ لیکن ثریا کی بات ہی اور تھی ،یعنی یہ کہ وہ بہت سی اچھی لڑکیوں میں سب سے اچھی لڑکی تھی. صورت شکل میں اچھی، مزاج میں اچھی، گن ڈھنگ میں اچھی، پڑھائی میں بھی بہت اچھی، خاندان تو سب کا ایک ہی تھا. اعلی خاندان.

کسی محفل میں جب تمام لوگ جمع ہوتے تو لڑکوں کی مائیں ہر لڑکی میں اپنی ہونے والی اچھی بہو کا عکس ڈھونڈا کرتی تھیں اور گھوم پھر کر سب کی نظریں ثریا ہی پر آکر ٹھہر جاتی تھیں. اس کی سہیلیاں مذاق کرتیں کہ اب کی ہونے والی کسی تقریب میں وہ ثریا کو برقعہ اڑھا کر رکھیں گی یا پردے میں چھپا دیں گی۔ اور مذاق مذاق میں دعایئں کرتیں کہ ‘اے اللہ، ہم معصوموں پر رحم فرما اور لڑکوں کی اماؤں کی گھور گھور کر دیکھتی آنکھیں، ہماری طرف بھی موڑ دے۔ یا اپنے رحم و کرم سے ثریا کو جلد از جلد کسی کی دلہن بنا دے تاکہ ہمارا سب کا راستہ صاف ہو اور ہم، جو ساری لڑکیاں، تیری بارگاہ میں لایئن بناۓ، سر جھکاۓ منتظر کھڑی ہیں، ہم بھی کسی نہ کسی کی بہو بن جایئں۔

‘لڑکیوں کی زندگی ایسے ہی ہنسی مذاق میں بسر ہوتی رہی اور وقت اپنی خوبصورت رنگین، چمکیلی چندری پھیلاۓ ان پیاری پیاری لڑکیوں پر چاند ستارے اور خوش رنگ پھول نچھاور کرتا آگے بڑھتا رہا اور ایک ایک کرکے تمام کی تمام لڑکیاں اپنی قسمت ساتھ لئے دلہن بنی اپنے میکے سے رخصت ہوتی رہیں۔ ثریا کی بھی شادی ہوگئی۔

ایک تو ثریا کے ابا کی طویل علالت اور اوپر سے تابڑ توڑ کئ رشتوں کا تانتا، ثریا کی امی نے عجلت میں ایک بھرے پرے خاندان میں ثریا کی شادی کردی، یہ سوچ کر کہ لڑکے کا خاندان جانا بوجھا اور پاس ہی کے محلے میں رہتا ہے، سو ثریا آتی جاتی رہے گی اور ان کے دل کو سکون بھی رہے گا۔ خاندان اچھا تھا۔ لیکن اتنی بھی قربت نہیں تھی کہ ہر فرد کے مزاج سے واقفیت ہوتی۔ ادھر نہ معلوم لڑکے والے کیا کیا سوچ کر رشتہ لاتے ہیں۔ دلہن کیا آۓ گی، ان کے گھر کو لاکھوں کے جہیز سے بھر دے گی، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس سفید پوش خاندان نے اپنی ہیرے جیسی بیٹی انکے حوالے کی، وہ تو ویسے ہی اپنی خالی جھولی لئے رہ گیا، بعض وقت یہی سفید پوشی زندگی کا عذاب بن جاتی ہے۔ آنکھیں بند کئے، گھونگھٹ میں خود کو چھپاۓ۔ بڑی چاہتوں سے لائی گئ بہو میں اس کے ساتھ آۓ مختصر سے جہیز پر نظر پڑتے ہی خرابیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ کوئی سسرال والوں سے یہ نہیں پوچھتا کہ کیا چھان پھٹک کر کے شریف گھرانے میں رشتہ لیکر جانا ہوا تھا؟۔۔۔ اگر اچھی لڑکی چاہئے تھی تو موجود ہے، لیکن اگر ٹرک بھر جہیز کی چاہ تھی تو حرام کمائی کرنے والوں یا رشوت خوروں کے گھر جاتیں، کیوں شریف گھر کی بیٹی لا کر اس کو ہر ہر لمحہ دکھ دے رہے ہو؟۔۔۔ کوئی پوچھتا کیوں نہیں، خدارا کوئ تو ہمت کرے، کوئی تو سر سے داؤنی باندھے، تسبیح ہاتھ میں کھٹکھٹاتی، اللہ رسول کا نام لیتی ساس سے پوچھے کہ کیا امہات المومنین اور بی بی فاطمہ کا جہیز بھول گیئں؟۔۔۔ اور جہیز تو ماں باپ اپنی بیٹی کو دیتے ہیں، دنیا کون ہوتی ہے جہیز کی نمایٔش لگانے اور تبصرہ کرنے والی؟۔۔۔ کاش، بہو کے جہیز سے اپنی ناک اونچی کرنے کا ارادہ دنیا چھوڑ دے اور بہو کو بیٹی کا درجہ دے۔

در اصل نکاح بیاہ تو خاندان کا سلسلہ قائم رکھنے کا ایک پاکیزہ طریقہ ہے اور ہر بہو ، اپنی جان پر کھیل کر یہ فریضہ ادا کرتی ہے۔ سسرال والوں کو تو اس کا احسان مند ہونا چاہئے۔ نہ کہ اپنے پیارے دلارے بیٹے کے کان بھر بھر کر بہو کی ازدواجی زندگی اجیرن کرنا چاہئۓ۔ ہر بہو بہت سی خوبصورت آرزوؤں اور تمناؤں کے ساتھ نئے گھر میں آتی ہے۔ وہ اب اسی گھر اور اسی گھر والوں کو اپنا سمجھتی ہے۔ لیکن جہیز دیکھ کر سسرال والوں کے ناک بھوں چڑھائے چہرے کیا پیغام دے رہے ہوتے ہیں؟۔۔۔

ثریا تو بہت پیار اور محبت سے رکھی گئ تھی، زمانے کی گرم ہوا تو اسے چھو کر بھی نہ گزری تھی۔ وہ تو یہی سمجھتی تھی کہ اس کے گھر کے باہر بھی دنیا ایسی ہی میٹھی میٹھی اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہے۔ اس کے گھر کے رواج کے مطابق گھر کی ایک معتبر نوکرانی اور اس کی ایک چچی اس کے ساتھ گئی تھیں۔ دبے دبے لفظوں میں ان ہی سے دبی دبی خبر ملی کہ ’رخصتی کے بعد ہی سسرال والوں کے چہرے کرخت ہو گۓ تھے ، ‘رونمائی کے بعد دھیرے دھیرے سب گھر والے الگ تھلگ ہو گئے اور دور دور سے اشاروں اشاروں میں باتیں کرنے لگے، ایک شادی شدہ نند نے آکر کہا، ‘وہ سامنے بھائی کا کمرہ ہے، آپ لوگ انہیں وہاں پہنچا دیجیۓ اور یہ کہ اب آپ لوگ واپس چلی جایۓ،‘یہ سنتے ہی دلہن سمیت تینوں خواتین پریشان ہو گیئں۔ ثریا کے والد بیمار تھے اور ثریا کی والدہ اسکی اچانک شادی سے ویسے ہی پریشان تھیں۔ اس لۓ یہ بات ان سے چھپائی گئ اور دونوں خواتین کسی اور عزیز کے گھر چلی گئیں۔

دونوں خواتین صبح ثریا کے پاس پہنچیں تو عمر رسیدہ دلہا صاحب اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ سب کا منہ سوجا ہوا تھا اور دلہن کمرے میں اکیلی تھی۔ رواج کے مطابق، وہ لوگ دلہن کو میکے لے آئیں۔ ثریا خود حراساں تھی ۔۔۔ اس نے ساتھ آنے والی خواتین سے گزارش کی کہ اس کے والدین کو کچھ نہ بتایا جاۓ۔ دعوت ولیمہ میں اسکے مائکے سے صرف اس کے والدین مدعو تھے، جو بوجۂ علالت جا ہی نہیں سکتے تھے۔

مائیکے میں تمام عزیزوں نے دوڑ دوڑ کر اسکا خیر مقدم کیا اور اسے بہترین دعاؤں سے نوازا۔ بیمار باپ کے سینے سے لگی ثریا تھر تھر کانپتی رہی، وہ پڑھی لکھی لڑکی تھی اور جانتی تھی کہ اسکی ذرا سی افسردگی، اس کے باپ کی جان لے سکتی ہے۔ لیکن اس کی والدہ جو اپنی بیٹی کا کھلا کھلا چہرہ دیکھنا چاہتی تھیں، بغیر کچھ پوچھے گچھے ہی سب کچھ سمجھ گیئں، وہ ماں تھیں، ماں ۔۔۔ جس کے شکم میں اسکا بچہ نو ماہ تک دنیا کی ستمگری سے محفوظ رہتا ہے۔ بیشک پیدا ہوتے ہی ماں اور بچے کا رابطہ کٹ جاتا ہے۔ لیکن ایک ان دیکھی ڈور بچوں کو ماں سے جوڑے رکھتی ہے ، اولاد اپنی پریشانی ماں سے کتنا بھی چھپاۓ، ماں کو ’خبر‘ ہو ہی جاتی ہے۔ سو اس کی والدہ بھی افسردہ ہو گیئں۔ حالانکہ ثریا دلہن بنی بہت حسین لگ رہی تھی اور کمال ضبط سے دل کے درد کو چھپاۓ بھی تھی۔ بس تب سے جو ’ چھپانے کا سلسلہ چلا ‘ تو برس پر برس بیتتے گۓ۔

اس کے خاندان کے مطابق آج چوتھی کی دعوت تھی، جو دراصل دونوں نئے خاندانوں کو متعارف کرنے کا ایک خوبصورت سلسلہ تھی۔ ثریا کے یہاں خوب اہتمام تھا۔ دیر ہوتی جارہی تھی۔ لیکن دلہا اس کے گھر والے ندارد تھے۔ آئے بھی تو دلہا اور انکی ایک بھابھی، مردانے میں فرشی نشست کا انتظام تھا۔ لیکن دلہا نے فرش پر بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ دلہا ایک کرسی پر اور ثریا کے تمام بزرگ فرش پر بیٹھے، بھابھی بھی خواتین کے ساتھ خاموش بیٹھی رہیں، تمام خاندان حیران تھا کہ کس قسم کے لوگ ہیں؟۔۔۔ شادی سے پہلے تو دوڑ دوڑ کر اور خوشامد کر کے دیوانے ہو رہے تھے اور اب ؟۔۔۔
وہ دن تھا اور تمام عمر ’دلہا صاحب‘ اپنی سسرال نہیں آۓ، کسی غمی پر بھی نہیں۔ ثریا کی سسرال ایک بھرا پرا گھر تھا، شادی شدہ نندیں اپنے بچوں کے ساتھ اکثر اپنی ماں یا کسی نہ کسی بھائی کے پاس بیٹھی آنسو بھری آواز میں اپنے سسرالیوں کی شکایتیں کیا کرتیں۔ ثریا دور دور سے سب کچھ دیکھا کرتی اور افسردہ ہوتی رہتی۔ اس کا تمام وقت گھر داری میں یا کچن میں گزرتا۔ اب اس کے کئ بچے بھی ہوچکے تھے۔ میکے والوں سے اس کی بہت کم ملاقات ہوتی تھی۔

دلہا صاحب بہت پڑھے لکھے اور دنیا دیکھے انسان تھے۔ لیکن، یہ نہیں جانتے تھے کہ ’ماں کا مرتبہ بہت بلند ہے تو بیوی کا بھی بہت اہم مقام ہے، ‘اللہ اور اس کے رسول نے بھی یہی تعلیم دی ہے،

دن پر دن گزرتے رہے ، ثریا کی جامہ زیبی، اسکی خوبصورت مسکراہٹ اور اسکی سلیقہ مندی اسکی ہر خصوصیت، جیسے ’ کڑہن کے دبیز چادر ‘ میں چھپتی چلی گئی۔ اس کے والد کا بھی انتقال ہوگیا اور اب امی بھی اللہ کے بلاوے پر چلی گیئں۔ زندگی کو ہر حال میں گزرنا تھا، سو وہ گزرتی رہی اور چوتھائی صدی بیت گئ۔ اس کے مائیکے سے آنے والی کسی بھی چیز یا کسی بھی شخص کے ساتھ حد درجہ ہتک آمیز برتاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ بیٹی والے بھی کتنے مجبور ہوتے ہیں کہ ٹیڑھی نظریں اور تکلیف دہ روئیوں کو مجبوی میں جھیلتے ہیں۔

ثریا کے سیاہ گھٹاؤں جیسے بال وقت سے پہلے سفید ہو گئے اور کام کرتے کرتے ہاتھ کے ناخن ٹیڑھے میڑھے ہو گئے۔ وہ مسکرانا بھی جیسے بھول گئی۔ بس، جب کبھی وہ اپنے کمرے میں اپنے بچوں کے ساتھ ہوتی تو ذرا کی ذرا مطمئن نظر آتی۔ اسکا بیٹا، اس کے آنسو جب اپنی ہتھیلوں سے پونچھتا تو اسکے دل کو قرار آجاتا۔ وہ معصوم بچہ اب سمجھدار ہو رہا تھا اور گھر والوں کا بےتکا انداز محسوس کرتا تھا۔ وہ دیکھتا کہ اس کی کوئی نہ کوئ پھوپھی روز اپنے سسرالیوں سے لڑ جھگڑ کر بچوں سمیت آجاتی، دادی انکی ’مفروضہ اور افسردہ کہانی سنتیں اور ان کے آنسو پونچھا کرتیں ساتھ ہی اسکی امی کچن میں ڈھیروں ڈھیر روٹیاں پکایا کرتیں اور بےساختہ بہہ آنے والے آنسو پونچھا کرتیں۔ ایک روز اس نے دادی سے معصومیت سے پوچھا کہ ’کیا اسکی امی اس گھر کی نوکرانی ہیں؟۔۔۔ ایک وقت تو اسے ایسا لگا کہ اسکے بچوں کو بھی ننیہال والوں سے بددل اور اس سے دور کیا جا رہا ہے، اور یہی وہ وقت تھا جب اسکا ذہن جیسے تھک گیا۔ وہ ساری پرانی باتیں بھول گئ اور اچانک مل جانے والی اپنی عزیز ترین سہیلی کو بھی اجنبی نظروں سے دیکھنے لگی۔ اس کی سہیلی برسوں بعد بڑے جوش سے اس سے مل رہی تھی۔ یہ حالت دیکھ کر سہیلی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
ایک روز اس کی بیٹی کو ثریا اور اسکی کئ سہیلوں کی ایک پرانی تصویر ملی اس نے ثریا سے پوچھا کہ ’خالاؤں کے ساتھ، یہ پیاری سی لڑکی کون ہے ؟‘ اور جب ثریا نے بتایا کہ وہ خود ہے‘ تو حیرانی سے اسکی بیٹی اسے دیکھنے لگی، زمانے کے سامنے تو اس کا شوہر ایسا شو کرتا جیسے وہ ثریا سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کے بغیر سانس تک نہیں لے سکتا، لیکن اپنے گھر، اپنی سلطنت اور اپنے گھر والوں کے سامنے وہ ثریا کو ذرا بھی اہمیت نہیں دیتا تھا، تف ہے ایسے شوہر پر اور لعنت ہے ایسی سسرال پر جو بہو کو زندہ درگور کر دے اور وہ مرد ’مرد ‘ ہی نہیں جو اپنی پناہ میں آئی کمزور سی ایک لڑکی کو دنیا سے بچا بھی نہ سکے۔

ثریا کو اب ایک عجیب خوف نے گھیرنا شروع کر دیا کہ کہیں اسکی بیٹیوں کی زندگی پر اس کی زندگی کا سایہ نہ پڑ جاۓ۔ وہ گھبرا کر سجدے میں گر جاتی اور بس یہی ایک دعا مانگا کرتی کہ اس کی بیٹیوں کو دنیا کا ہر وہ سکھ ملے جو اس کی اپنی قسمت میں نہیں تھا۔ اب اس کے بچے بڑے ہو گۓ تھے اور کبھی کبھی ماں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر لوگوں سے الجھ جاتے تھے۔ اس کا بیٹا اب برسرروزگار تھا اور ثریا کی بیٹیاں بھی ماں کی طرح خوش شکل اور خوش مزاج، پڑھی لکھی تھیں۔اسکی بڑی بیٹی کا رشتہ آیا اور چونکہ دور دراز کے جاننے والا خاندان تھا اور اسی شہر میں رہتا تھا، سو بیٹی کی شادی ہوگئ۔ لیکن ،بیٹی کی رخصتی کے بعد ہی اس کی سب خوش فہمیاں دور ہو گیئں، بیٹی کی سسرال بھی ثریا کی سسرال کے ٹکر کی نکلی۔ مہینوں ہو جاتے، وہ لوگ بیٹی کی شکل دیکھنے کو ترس جاتے، غنیمت تھا کہ کبھی کبھی فون پر بات ہو جایا کرتی تھی۔ دراصل وہ لوگ ثریا کی ایک نند کو جانتے تھے اور سسرال میں روز روز جھگڑوں سے بھی واقف تھے، کتنی عجیب بات ہے کہ بیٹی جو ماں کی پرچھایئں کہی جاتی ہے، ماں کی خوبیوں کو نظر انداز کر کے پھوپھی کی خامیاں لوگوں کو نظر جمی ہوئی تھیں۔

ایسے ہی ایک روز دل کے ہاتھوں سے مجبور ہو کر ثریا کا شوہر، اپنی بیٹی سے ملنے خود اس کی سسرال گیا۔ داماد نے دروازہ کھولا اور سسر کی شکل دیکھتے ہی سوال کیا کہ ’ کیسے آنا ہوا؟۔۔۔ جواب سنے بغیر ہی داماد نے کہا ۔’آپکی بیٹی اب میری بیوی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ آپ لوگوں سے ملے، اگر وہ ملے گی یا آپ زبردستی اس سے ملنے کی کوشش کریں گے تو میری جانب سے آپ ہمیشہ کیلئے اسے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ واپسی کی ضرورت بھی نہیں ،ویسے آپکو بتا دوں کہ وہ میرے ساتھ بہت خوش ہے۔۔۔

ثریا کا شوہر بہت دکھے دل سے واپس چلا آیا اور ایک نا معلوم بوجھ اس کے دل و دماغ پر ہمیشہ کے لۓ مسلط ہوگیا۔ وہ خاموش دل گرفتہ سا صبح سے شام تک بغیر کچھ کھاۓ پئیے ایسے ہی لیٹا رہا۔ ثریا بھی اس کی خاموشی سے الگ پریشان تھی۔ اس کا بیٹا شام کو آفس سے تھکا ہارا آیا تو اپنے والد کی غیر متوقع خاموشی دیکھی اور حالات پوچھے۔ انہوں نے ڈبڈبائی آنکھوں اور بوجھل آواز میں تمام واقعہ من و عن سنا دیا۔ بیٹا خاموش بیٹھا رہا اور پھر باپ سے کہنے لگا ۔۔۔ ’ابو۔۔۔۔ اب تو آپکو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ آپ لوگوں نے ہماری امی پر جس جس طرح کی زیادتی کی اور جس جس طرح ان کے گھر والوں کو برا بھلا کہہ کر انہیں ذہنی اذیت دی، امی پاگل ہوتے ہوتے بچیں۔ اب یہ سب جو آپ دیکھ اور جھیل رہے ہیں ،یہ سب اسی جرم کی سزا تو نہیں؟‘

محمد ارسل – [email protected]

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

کوئی نتائج نہیں ملے۔

مینو