مہذب دنیا کا چہرہ

امریکا اور یورپ کے گورے اور کالے کے واقعات دیکھ کر ابولہب اور حضرت بلالؓ بےاختیار یاد آتے۔ پھر ایک سوچ غالب آتی کہ آج چودہ سو برس بعد بھی گورے رنگ والا ظالم اور کالے رنگ والا مظلوم ہے.

امریکیوں کے دنیا میں پھیلے ہوئے مظالم دیکھیں تو پھر نام نہاد جدید دنیا کے غیرمہذب ہونے کا یقین ہو جاتا۔

تاریخ فلم کی صورت لمحوں میں مناظر یاد کروا دیتی۔ کیا ہیرو شیما پر بم برسانا مہذب کام تھا…؟

بوسنیا میں مذہب کے نام پر قتل کا نام مہذب دنیا تھا…؟

مذہب ہی کے نام پر کشمیر، چیچنیا، افغانستان، برما (میانمار)، یمن، فلسطین، شام اور عراق میں بیدردی سے کی جانے والی قتل و غارت، کیا یہ سب مہذب دنیا ہے…؟

کیا مصر، لیبیا اور عراق کو اُجاڑنا سب مہذب ہونے کی علامت ہے…؟

دنیا بھر میں مظاہرے کرانا، حکومتیں گرانا، بم برسانا، کیا یہ سب مہذب دنیا کا کھیل تھا…؟

دنیا کو غلام بنانے کا کھیل پہلے برطانیہ کھیلتا تھا پھر اس کھیل میں امریکا کود پڑا۔

پچھلے 75برسوں سے امریکیوں نے دنیا میں مرضی کا کھیل کھیلا، امریکا منہ زور گھوڑے کی طرح جدھر جی چاہتا، اُدھر ہی کا رخ کر لیتا۔ حواری اس کے ساتھ ہوتے۔ دوسرے ملکوں کے اندر بےسکونی کا کھیل کھیلنے والے امریکہ اور اُس کے یورپی حواریوں کے اپنے ہاں حالات پُرسکون تھے، ان کے اپنے ملکوں میں انسانیت کا درس دیا جاتا مگر اس دوران تفریق، تکبر اور فوقیت کا وائرس کہیں نہ کہیں پلتا رہا۔ یہ وائرس کورونا کے موسم میں باہر آ گیا ہے۔

امریکا میں ایک گورے افسر نے انتہائی بھیانک انداز میں کالے جارج کی جان لے لی۔ جارج تو چلا گیا مگر امریکہ کو جگا گیا۔ اب پورا امریکا جارج کے آخری جملے کو دہرا رہا ہے۔ پورے امریکا میں ہنگامے ہو رہے ہیں، ہر طرف توڑ پھوڑ کے مناظر ہیں، امریکی دنیا کے کئی ملکوں میں فوج کو اقتدار میں لاتے تھے، آج پورے امریکا میں جگہ جگہ فوج نظر آ رہی ہے، کل تک جو امریکا پوری دنیا میں مظاہروں کا کھیل سجاتا تھا، آج وہ خود تماشا بنا ہوا ہے۔

پہلے امریکی تماشا دیکھتے تھے، اب دنیا ان کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ یہ مکافاتِ عمل ہے، چند دنوں سے شکاگو، ڈین ور، نیویارک، میامی، سیٹل، ورجینیا، لاس اینجلس، فیلا ڈیلفیا، بوسٹن، سن انٹونیا، اٹلانٹا، ڈیٹرویٹ، لاس ویگاس، سالٹ، لیک سٹی اور ہیوسٹن سمیت کئی علاقوں میں مظاہرے ہو رہے، صرف مظاہرے نہیں ہنگامے بھی۔ بہت توڑ پھوڑ ہو رہی ہے، صرف گاڑیاں نہیں جلائی جا رہیں، امریکی پرچم بھی جلائے جا رہے ہیں، امریکا تنزلی کا سفر کر رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی علامت امریکہ کو پہلے قرضوں نے کمزور کیا، جنگی اخراجات اسے لے ڈوبے، پھر بپھرے ہوئے کورونا نے اسے گھیر لیا اور اب مظاہروں کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ چین سے وہ لڑنے کے قابل نہیں۔ سمندروں پر قبضہ کر کے دنیا پر حکومت کرنے والا امریکا اب پانیوں میں بھی اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ حال ہی میں ایران نے وینزویلا کو سمندری راستوں کے ذریعے تیل پہنچا دیا ہے، امریکہ ایرانی جہازوں کو نہیں روک سکے۔

آج وینزویلا میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اب سرمایہ دارانہ نظام مر رہا ہے، مہذب دنیا کا بھیانک چہرہ بےنقاب ہو رہا ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو