2 امریکی کمپنیاں کورونا ویکسین کی فروخت سے کتنا کمائیں گی؟

مختلف ممالک کی دواساز کمپنیوں نےکورونا ویکسین تیار کرلی ہے جس میں سرفہرست دو امریکی کمپنیاں فائزر اور موڈرنا ہیں، بعض ممالک ان کی ویکسین کے استعمال کی منظوری بھی دے چکے ہیں جب کہ امریکا اور برطانیہ میں تو اس کے استعمال کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق کورونا ویکسین کی فروخت سے دواساز اداروں کو اربوں ڈالر کے منافع کی امید ہے اور فائزر اور موڈرنا کے بارے میں تخمینہ ہےکہ یہ دو کمپنیاں آئندہ سال یعنی 2021ء میں صرف کورونا ویکسین کی فروخت سے 32 ارب امریکی ڈالر تک کما سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فائزر کو آئندہ سال ویکسین کی فروخت سے 19 ارب ڈالر آمدنی متوقع ہے جس میں سے ایک بڑا حصہ اس کو ویکسین کی تیاری کے جرمن شراکت دار بائیو این ٹیک کو بھی دینا ہوگا۔

اس کے علاوہ ان دونوں کمپنیوں کو 2022ء اور 2023ء میں بھی مشترکہ طور پر 9 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا کو ویکسین کی ضرورت آئندہ چند سالوں تک رہنے کا قومی امکان ہے۔

دوسری امریکی کمپنی موڈرنا کو ویکسین کی فروخت سے 2021ء میں 13ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے، اس کے علاوہ 2022ء اور 2023ء میں اسے 10 سے 15 ارب ڈالر کا منافع ہونے کا اندزہ لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کی 2 ڈوز (خوراک) کی قیمت 39 ڈالر یعنی 6 ہزار 254 روپے ہے۔

موڈرنا کی ویکسین کی ایک ڈوز کی قیمت 25 ڈالر یعنی تقریباً 4 ہزار روپے ہے اور ایک مریض پر دو ڈوز کے 50 ڈالر یعنی تقریباً 8 ہزار روپے خرچ ہوں گے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو