جمہوریت، مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

اپنی تفسیر معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ موجودہ طرز کی جمہوریت چونکہ بادشاہی ظلم و ستم کے ردعمل کے طور پر وجود میں آئیں تو وہ بھی اس بداعتدالی کےساتھ آئیں کہ عوام کو مطلق العنان بنا کر پورے آئین حکومت اور قانون مملکت کا ایسا آزاد مالک بنایا کہ ان کے قلب ودماغ زمین و آسمان اور تمام انسانوں کے پیدا کرنے والے خدا اور اس کی اصل ملکیت و حکومت کے تصور سے بھی بیگانہ ہو گئے، اب ان کی جمہوریت اللہ تعالیٰ ہی کے بخشے ہوئے عوامی اختیار پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیوں کو بھی بار خاطر خلاف انصاف تصور کرنے لگیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو