پاکستان کا نظام حکومت، جنرل حمید گل مرحوم

ملکوں کے آئین بدلتے رہتے ہیں اور اس کا باقاعدہ طور پرطریق کار موجود ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ متفقہ طور پر منظورشدہ آئین میں بھی بیسیوں ترامیم ہوچکی ہیں۔ یہ کہنا کہ آئین کے بارے میں کوئی تنقید نہیں کی جاسکتی ازخود جہالت ہے۔ ہر شخص باعزت ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ حضرت علیؓ ؓ کے قول کے مطابق کہ”یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھوکہ کیا کہہ رہا ہے“۔ موجودہ آئین کے دیباچے یعنی قرارداد مقاصد کو سامنے رکھ کر اپنا آئین تشکیل دیا جائے۔ آئین میں اتنی ترامیم کی جا چکی ہیں کہ اس کا نقشہ ہی بگڑ چکا ہے۔ موجودہ آئین سے وفاداری اتنی اہم نہیں جتنی ملک و قوم سے وفاداری اہم ہے۔ ہر پاکستانی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کیلئے جس قسم کے نظام کوبہتر سمجھتا ہے اس کیلئے کوشش کرے۔ یہ گناہ نہیں فرض ہے اور میں یہ فرض نبھاتا رہوں گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام کی جگہ براہراست ووٹوں سے صدر منتخب کیا جائے اور ملک کو چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرکےاسمبلیوں میں سے نہیں بلکہ امریکہ کی طرح باصلاحیت اور پروفیشنل ماہرین کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔ پارلیمانی نظام کا بستر لپیٹا جائے۔ چین پاکستان کے بعد آزاد ہوا تھا اور آج برطانوی جمہوریت کی بجائے اپنے انداز کے سیاسی نظام کے سبب دنیا کی سب سے بڑی قوت بن چکا ہے۔ کیا وہاں پارلیمانی جمہوریت ہے؟۔۔۔ میری تجویز ہے کہ ضیاءالحق کے زمانے میں انصاری کمیشن نے شورائی نظام حکومت کے بارے میں جورپورٹ/تجویز دی تھی اس کی روشنی میں نیا نظام وضع کیا جائے کیونکہ جمہوریت جمہوریت کےشور میں ہمیں سوائے بدحالی اور کرپشن کے کچھ نہیں مل رہا۔

میثاق جمہوریت باریاں لینے اور لوٹ مار کرنے کا مشترکہ پروگرام ہے۔ ہم یہاں قتل و خون سے تنگ آچکے ہیں اور ملک میں صاف ستھری حکومت، کرپشن سے پاک نظام، میرٹ کی حکمرانی اور سیاسی جوڑ توڑ سے نجات چاہتے ہیں۔ کسی صوبے میں کرپشن کی انتہا ہو جائے تو بھی دونوں بڑی پارٹیوں نے ملی بھگت کرکے آئین ہی کی اس گنجائش کو جو صوبے میں گورنرراج لگایا جا سکتا عملاً اس عمل کو ناممکن بنا دیا گیا ہے کہ اب کرپشن سے بھرپور حکومت کا صوبائی سربراہ ہی یہ سفارش کر سکتا ہے کہ میری حکومت ختم کر دی جائے جو ناممکن ہے۔

 لوگ پیاس سے مر رہے ہیں، رشوت سے تنگ ہیں اور لیڈروں کے محلات دبئی اور یورپ میں بن رہے ہیں۔

عدالتیں بھی غور کریں کہ عتیقہ اوڈھو کے سامان سے دو بوتل شراب تو پکڑی جاتی ہے اور سوموٹو لیا جاتا ہے۔ لیکن لاہور میں پولیس کے ہاتھوں 14بیگناہوں کے قتل کے ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے۔

 میرا تعلق پاک فوج سے رہا ہے، ایک طرف تو وہ آپریشن ضرب عضب کر رہی ہے اور دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے اور دوسری طرف اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر سندھ کی کرپٹ انتظامیہ اور مشکوک کردار کی حامل سیاسی جماعتوں کے سامنے ڈال دیا گیا ہے۔ ڈی جی رینجرز کی پریس ریلیز اس صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے جس سے ہم آج دوچار ہیں۔ اگر کرپٹ نظام ہی رکھنا ہے تو پاک فوج بالخصوص رینجرز کے جوانوں اور افسروں کو اس آگ میں کیوں جھونکا جا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو