تصوف و سلوک

تصوف کی بنیاد اللہ کے ساتھ تعلق کو لمحہ بہ لمحہ مضبوط کرنے  پہ ہے۔ ہر لمحہ متوجہ الی اللہ رہنے کا نام تصوف ہے۔ کہ کوئی بھی کام کرے تو سوچے کہ اللہ کی رضا اس کام میں کیا ہے۔ اللہ کی یاد سے غفلت نہ آئے، اسی کوشش میں سرگرداں رہنا، تصوف ہے۔ اللہ کے ساتھ تعلق صرف خانہ پری کا نہ ہو بلکہ دل سے اطاعت الہی کرے۔ اللہ کو رب مانے جیسے ماننا چاہئے۔ اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ اللہ کی خوشنودی کے لئے وقف کردے۔

 قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ

  • یتلوا علیھم آیتہ ۔۔۔آیات مبارکہ بیان فرماتے ہیں، یعنی اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔
  • و یزکیھم ۔۔۔ تزکیہ فرماتے ہیں، یعنی ان کے دلوں کو پاک فرماتے ہیں، یقینا یہ علوم باطنی سے تعلق رکھتا ہے۔
  • و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ ۔۔۔ کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔

امت محمدیہ کی تربیت کا انداز اللہ تعالی  نے قرآن مجید میں بیان فرما دیا کہ نبی ﷺ، احکامات الہیہ بیان فرماتے ہیں۔پھر ان کا تزکیہ فرماتے ہیں۔ پھر کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اب یہ سب شعبے مختلف انداز میں امت مسلمہ میں پائے جاتے ہیں۔ کوئی مفسر ہے، کوئی محدث ہے، کوئی فقیہہ ہے۔کوئی شیخ ہے۔ جو بھی نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمایا وہ علوم قیامت تک امت میں موجود رہیں گے۔ان شعبوں میں سے  تزکیہ کا شعبہ مشائخ عظام نے سنبھالا ہوا ہے۔ ہر مسلمان پہ حسب استعدادظاہری و باطنی علوم کا حصول، تبلیغ، جہاد، فرض ہے۔ لیکن ہر شعبے کی ذمہ داری اپنے اپنے ماہرین کے پاس ہے۔ جیسے ظاہری علوم کی تبلیغ کی ذمہ داری مفسرین اور محدیثین اور فقہاء کے پاس ہے۔ باطنی علوم کی ذمہ داری مشائخ عظام کے پاس ہے۔ جہاد کی ذمہ داری ریاست اسلامی کے پاس ہے۔

قرآن مجید میں ذکر اسم ذات جو صوفیاء کے ہاں رائج ہے،  کی  دلیل سورۃ المزمل میں ہے۔

واذکر اسم ربک و تبتل الیہ تبتیلا
“اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیجئے،
اور  سب سے یکسو ہو کر اسی کی طرف،متوجہ ہو جاِئیں”

اس آیت مبارکہ میں واضح ذکر اسم ذات کا حکم ہے۔ اسی طرح اور بھی آیات مبارکہ ذکر اللہ کی تعلیم فرماتی ہیں۔  قرآن مجید میں جوحکم فرمایا جائے، وہ فرض کا درجہ رکھتاہے۔ جیسے نماز، زکوۃ، روزہ، حج، جہادوغیرہ۔ ایسے ہی ذکر اللہ کا حکم احادیث مبارکہ میں بھی متعدد بار آیا ہے۔ اور ذکر اسم ذات کے ذریعے ہی مشائخ تزکیہ فرماتے ہیں۔

حدیث جبرائیل میں، حضرت جبرائیل علیہ السلام، نبی کریم ﷺسے سوال کرتے ہیں ۔

” احسان کیا ہے ؟ ۔۔۔  احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر جیسے اللہ کو دیکھ رہا ہے،
اگر یہ کیفیت نہ  ہو تو یہ یقین ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے”

قرآن مجید میں تزکیہ کے الفاظ آئے۔ اور حدیث مبارک میں حضرت جبرائیل، احسان کے لفظ سے تصوف کے متعلق سوال کرکے امت کو دین سکھانے کا سبب بن  رہے ہیں۔ کچھ احادیث میں فقر کے الفاظ بھی بیان ہوئے ہیں۔

جیسے کسی بھی علم کو سیکھنے کے لئے استاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے ہی ہر دور میں مشائخ موجود ہوتے ہیں جو کہ سالکین کی اصلاح و تربیت فرماتے ہیں اور علوم باطنی سکھاتے ہیں۔مجدد فی الطریقت حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ نے تصوف کے متعلق فرمایا۔

“تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے، نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے، نہ تعویز گنڈوں کا نام تصوف ہے، نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے، نہ مقدمات جیتنے کا نام تصوف ہے، نہ قبروں پر سجدہ کرنے ،ان پہ چادریں چڑھانے، اور چراغ جلانے  کا نام تصوف ہےاور نہ آنے والے واقعات کی خبر دینے کا نام تصوف ہے، نہ اولیاء اللہ کو غیبی ندا کرنا، مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا تصوف ہے،نہ اس میں ٹھیکیداری ہے کہ پیر کی ایک توجہ سے مرید کی پوری اصلاح ہو جائے گی۔ نہ اس میں کشف و الہام کا صحیح اترنا لازمی ہےاور نہ وجدو تواجد اور رقص و سرود کا نام تصوف ہے۔ یہ سب چیزیں تصوف کا لازمہ بلکہ عین تصوف سمجھی جاتی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کسی ایک چیز پر تصوف اسلامی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ سب خرافات، اسلامی تصوف کی عین ضد ہیں”

الشیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ، حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ تصوف کے متعلق فرماتے ہیں۔

“تصوف، آخرت اور دنیا ،میں ازلی اور ابدی رشتہ ہے۔ بندہ دنیا میں جو عقیدہ رکھتا ہےاور جو عمل کرتاہے،اسی پر آخرت کی تعمیر ہوتی ہے۔ تصوف یہ ہے کہ جس طرح ہماری آنکھوں کے سامنے دنیا چل رہی ہے، اسی طرح ہمارے دل کی آنکھوں کے سامنے آخرت چل رہی ہو۔ دنیا کے کام کرتے ہوئے، بندے کو سمجھ آجائے کہ اس کا نتیجہ آخرت میں کیا بن رہا ہےتاکہ وہ اخروی نقصان سے بچ جائے۔ اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی یہ کیفیت قلب کو یعنی دل کو عطا ہوئی ہے۔ اگر دل غافل ہو تو آخرت اس سے اوجھل رہتی ہے۔ اللہ کی عظمت اور نبی کریم ﷺ سے محبت کی چاشنی سے ایسا قلب محروم رہتا ہے۔ قلوب کی غفلت دور کرنے اور دل کو لذت آشنائی دینے کے لئے مشائخ کی خدمت میں جانا ہوتاہے۔ وہاں ذکر قلبی کا اکسیر نسخہ عطا ہوتا ہے۔ دل مانجھے جاتے ہیں اور ان میں برکات انڈیلی جاتی ہیں اور بندہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ حاضر ہے، اللہ ناظر ہے، اللہ میرے ساتھ ہے، اللہ میرے قریب ترین ہے۔ گویا تصوف یہ ہے کہ بندہ رہتا دنیا میں ہے، جیتا آخرت میں ہے”

ایک اور موقع پہ الشیخ حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔

“تصوف صرف یہ بات ہے کہ جو پیروی حضور اکرم  کی کی جائے اس میں انتہائی خلوص ہو، دل کی گہرائی سے کی جائے۔ ان کیفیات کو تصوف کہتے ہیں۔ مفسرین نے اپنی اپنی وسعت نظر کے مطابق تشریحات کی ہیں، توجیہات کی ہیں۔ اللہ ان پر کروڑوں، کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ ہر ایک کا اپنا خیال ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قرآن مجید کے لفظ تزکیہ کا اگر ہم فارسی یا اردو میں ترجمہ کریں تو وہ تصوف بنتا ہے۔ تزکیہ سے مراد دل کی پاکیزگی ہے۔ صفائے قلب ہے۔ صفائے باطن ہے۔ تصوف کا معنی بھی یہی ہے”

انسان جو بھی سوچ رہا ہے، اللہ تعالی سب جانتے ہیں۔ لیکن اس سوچ کو مثبت سمت دینا اور دل کو اللہ کی یاد سے آباد کرنے کا نام تصوف کہیں یا اللہ  سے محبت کا نام تصوف قرار دیں کیونکہ  اللہ کریم قرآن مجید میں فرما رہے ہیں  ۔

“مجھ سےمحبت کرو، میں تم سے محبت کروں گا”

اس سےزیادہ حسین و جمیل عمل کائنات میں  کیا ہوگا کہ خالق کائنات ، اللہ وحدہ لاشریک  سے محبت کا رشتہ قائم ہوجائے۔ اور بدلے میں اللہ بھی محبت کرنے کا وعدہ کررہے ہیں۔ کون ہے جو اللہ کومحبوب نہ رکھنا چاہے اور اللہ کی بات نہیں مانے؟ ۔۔۔ وہ پروردگار جو ہر طرح کی قدرت رکھتے ہیں۔ اب اللہ تعالی کی یاد ایسے دل میں ہی بسے گی جو پاک صاف ہوگا۔ جہاں گندگی نہیں ہوگی۔ ذکر الہی دل کو پاک و صاف کرتا ہے اور یاد الہی کو دل میں بساتا ہے۔ تصوف ،محبت  کرنے کا نام ہے، جو تقوی اختیار کرنے میں مددگار ہے۔ حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ تقوی کے بارے میں فرماتے ہیں۔

“تقوی ایک کیفیت ہے، جو رب العالمین کے ساتھ ایسا رشتہ ہے کہ بندے کو اپنی بندگی کا احساس
ہوجائے اور جرات نہ کرے کہ میں اپنے خالق و مالک کی رضا کے بغیر کوئی کام کروں”

ابوالاحمدین ، بریگیڈئیر علی احمد رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا۔

” تاریخ تصوف بھی یہی ہے کہ جب تک باطل کے مقابلے میں اسلامی حکومتیں، علماء کا طبقہ، اور عوام برسر پیکار رہے،اہل اللہ کی جماعت فرائض نبوت میں سے تزکیہ کا فریضہ سرانجام دیتی رہی لیکن جب یہ تمام حصار ٹوٹ گئے تو اہل اللہ مدرسوں اور خانقاہوں سے نکل کر قوت باطلہ کے سامنے خود سینہ سپر ہوگئے۔ اہل اللہ  آخری حصار ہوتے ہیں، جس کے بعد تباہی و بربادی کسی قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔”

ذکر اسم ذات اللہ  کی برکت سے ایک خاص طاقت اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوئی ہوتی ہے۔ اور یہ باطنی علوم بھی ظاہری علوم کی طرح سینہ بہ سینہ ہی چلتے آئے ہیں ۔ہر دور میں ان علوم کو سیکھانے والے موجود رہتے ہیں۔ ایک حدیث مبارک میں ہے

“جب روئے زمین پہ ایک بھی اللہ اللہ کرنے والا زندہ نہ رہے گا تو قیامت آجائے گی”

مفسرین کرام نے بھی قرآن میں بیان کردہ واقعات کی تفصیلات میں فرمایا کہ ہر دور میں ،روئے زمین پہ اللہ اللہ کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔  لیکن روئے زمین کبھی بھی اللہ اللہ کرنے والوں سے خالی نہ رہی۔ یہ وہی لوگ ہیں، جن کو آج کے دور کی اصطلاح میں”صوفی” کہتے ہیں۔اس تمام کا حاصل یہ ہے کہ اللہ اللہ کرنے والا شخص ، اللہ کے نام کی برکت سے نااہل نہیں رہتا ۔ بلکہ اللہ کے ذکر  کی برکات سے وہ دین کی خدمت کرتا رہتا ہے۔صوفی وہ نہیں ہوتا جو خرقہ پہن کر مسجد میں یا کسی دربار پہ بیٹھا ہو۔ بلکہ صوفی ایک باعمل مسلمان ہوتا ہے اور وہ  دین کے احیاء کے لئے کوشاں ہوتا ہے۔ یہ دربار تو ہم نے بنا لئے ورنہ ان صوفیاء و مشائخ نے دین کی خدمت کا وہ  کام کیا کہ جس سے اللہ کریم نے  ان کا نام زندہ رکھا ہوا ہے۔ اللہ اللہ کرنے سے اللہ تعالی کے عطا کردہ علوم کی حقانیت واضح ہوتی ہے۔ جب یہ علوم ظاہری کمیاب ہو جائیں گے اور علوم باطنی بھی ناپید ہوجائیں گے تو قیامت قائم ہو جائے گی۔

اگر کوئی شخص دنیا میں ہونے والے کسی واقعے کے بارے میں بتا دے یا کسی کی جیب میں کیا ہے کے بارے میں بتا دے تو یہ مہارت  ارتکاز توجہ Concentration of mind سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ وہ دنیا کی حد تک کچھ جان لیتے ہیں جو کہ اللہ تعالیکی عطا کردہ صلاحیتوں کی بدولت ہی ممکن ہوتا ہے۔ لیکن انوارات باری صرف کشف کے ذریعے ہی نظر آتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کا انعام ہوتا ہے، جو کہ ایمان والوں پہ ہی ہوتا ہے۔

تحریر : میاں قاسم صحرائی
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو