کورونامہ

لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کام کیسے انجام دیں؟: سننے میں تو بہت بھلا لگتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھر پر بیٹھ کر آن لائن دفتری اُمور اور کاروباری معاملات کی انجام دہی کی جاسکتی ہے، مگر چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے افراد کس طرح بہتر طور آن لائن کام کرسکتے ہیں؟ عام طور پر اِس سوال کا جواب کوئی بھی نہیں بتاتا اور لوگ خود ہی تصور کرلیتے ہیں کہ بس کمپیوٹر کو کھول کر اپنی آن لائن کاروباری خدمات دوسروں کو فراہم کی جاسکتی ہے۔

حالاںکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کیوںکہ آن لائن کاروباری اُمور کی انجام دہی کے لیے بھی کچھ بنیادی مبادیات کا سیکھنا اور قواعد و ضوابط کا جاننا اُتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی دوسرے عملی کام کرنے کے طریقے سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ چوںکہ ہمارے ہاں آن لائن کام کرنے کی تربیت حاصل کرنے کی طرف زیادہ توجہ اور دھیان نہیں دیا جاتا، لہٰذا ہم کسی کو ای میل بھیج دینے اور اُسے وصول کرلینے کو ہی آن لائن کام کرنا سمجھے ہوئے ہیں، جب کہ آن لائن کام کرنا ایک بہت وسیع مفہوم کی حامل اصطلاح ہے۔

اگر آپ بھی آن لائن کام کرنے سے متعلق بنیادی اُصول اور مبادیات سے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اِس کے لیے گوگل نے پاکستانیوں کی مدد کرنے کا بیڑا اُٹھایا ہے اور نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیے گئے حکومتی لاک ڈاؤن کو مفید اور کارآمد بنانے کی خاطر چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بلامعاوضہ ورچوئل ورکشاپس کا خصوصی اہتمام کیا ہے۔

یہ ورچوئل ورکشاپس جنہیں آپ آن لائن کام سکھانے والی تربیتی کلاسیں بھی کہہ سکتے ہیں۔ اُن چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کی گئی ہیں جنہیں دنیا بھر میں اپنی کاروباری خدمات فراہم کرنے کی شدید خواہش یا ضرورت ہے۔ گوگل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ریموٹ ورکنگ اور ڈیجیٹل میں تبدیلی کی غرض سے مفت ورچوئل ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ہے جو گوگل کی جانب سے پاکستانی کاروباری اداروں کی مدد کے وعدے کا حصہ ہے۔

یہ مفید کورس Grow with Google پروگرام کی ٹیم نے تیار کیا، جسے کووڈ 19 کی وجہ سے آن لائن کروایا جائے گا۔ اِس کورس میں گوگل کی طرف سے ہینڈی ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کرنے سے متعلق بھرپور تربیت فراہم کی جائے گی اور اسی کے ساتھ ایسے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مشورے اور ترکیبیں بتانے کی کوشش بھی کی جائے گی، جن کی مدد سے اس ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کو اپنے کسٹمرز اور ملازمین، دونوں کے ساتھ رابطے میں رہنا مزید آسان ہوجائے گا۔

اِس کورس کے ہر سیشن کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہے جس میں گوگل کے ماہر ٹرینرز تربیت دیں گے۔ ان سیشنز کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکے گا، لہٰذا اِس میں شرکت کے لیے شیڈول کے مطابق گرو وتھ گوگل کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔ ویب سائٹ کا مختصر لنک یہ ہے۔ https://bit.ly/2ROv9Z7 جب کہ ورکشاپ کا شیڈول ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔

پہلا سیشن، بتاریخ: 30 اپریل صبح 11 سے 12 بجے تک،موضوع: آن لائن ہونا کیسا لگتا ہے؟

دوسرا سیشن، بتاریخ: 05 مئی صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک، موضوع: آپ گوگل کے ساتھ آن لائن کیا کرسکتے ہیں؟

تیسرا سیشن، بتاریخ 08 مئی صبح 11بجے سے دوپہر 12 بجے تک، موضوع: گوگل کس طرح چھوٹے، درمیانے کاروباری اداروں کی مدد کرتا ہے؟

چوتھا سیشن، بتاریخ: 12 مئی صبح 11بجے سے دوپہر 12بجے تک، موضوع: کسی کو آن لائن گاہک کیوں بنایا جا ئے اور کیسے؟

کورونا وائرس کے دوران ہونے والے لاک ڈاؤن کے فرصت کے لمحات میں آپ Grow with Google کی ویب سائٹ سے مزید بے شمار فوائد بھی سمیٹ سکتے ہیں، مثلاً اِس ویب سائٹ پر کاروبار، مارکیٹنگ، مینیجمنٹ اور دیگر بہت سے موضوعات پر سیکڑوں اسباق موجود ہیں، جب کہ ذاتی ضرورت کے مطابق، اگلے اقدامات بھی تجویز کرتی ہے تاکہ آپ اپنی اسکلز کو درست انداز میں استعمال کر سکیں۔

اس کے علاوہ، کاروباری ادارے یہاں سے مزید مشورے اور تجاویز بھی بہ آسانی تلاش کر سکتے ہیں جس کی مدد سے ان کو اپنے کاروبار کو ترقی دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ آپ کا کاروبار کیا ہے، بس آپ اپنے کاروبار کی آن لائن ترقی کے لیےGrow with Google کی اِس ویب سائٹ پر اعتماد کرسکے ہیں، اِس اُمید کے ساتھ کہ گوگل آپ کے کاروبار کو آن لائن پیش آنے والی مشکلات میں زبردست معاونت کرے گا۔ مزید بہتری اور فوائد کے لیے Grow with Google کی یہ موبائل اپلی کیشن اپنے اسمارٹ فون کا حصہ بنانا بھی ازحد مفید ہوگا، جس مختصر لنک یہ ہے: https://bit.ly/2yjivdD

٭کورونا وائرس کے خلاف پہلی دوا کیا واقعی آنے کو ہے؟: نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد کے لیے تجرباتی دوا ریمیڈیسیور (Remdesivir) کے استعمال کے نتائج کو بالآخر طبی ماہرین نے کورونا وائرس کے خلاف علاج کے سلسلہ میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دے دیا ہے۔ شکاگو کے ایک اسپتال میں ہونے والے طبی تجربات کے دوران گیلاڈ سائنز نامی کمپنی کی تیار کردہ دوا ’’ریمیڈیسیور‘‘ کے اثرات کا مریضوں پر انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ اس دوا کے استعمال سے کووڈ 19 کے مریضوں کی تمام علامات بہت جلد ختم ہوگئیں اور ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تمام مریض صحت یاب ہوگئے۔

ابتدائی مرحلے میں کووڈ 19 کے 125 مریضوں پر ’’ریمیڈیسیور‘‘ دوا کو بطورِ علاج استعمال کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اِن 125 میں سے 113 افراد میں کووڈ 19 بیماری کی شدت بہت زیادہ تھی اِس کے باوجود ’’ریمیڈیسیور‘‘ کے استعمال سے 123 مریض مکمل طور پر صحت یاب قرار دے کر اسپتال سے روانہ کردیے گئے اور اَب اسپتال میں صرف 2 مریض باقی رہ گئے ہیں، جن کی حالت بھی مستحکم ہے۔ اس تجرباتی دوا کے دیگر مختلف ممالک میں بھی وسیع پیمانے پر طبی تجربات جاری ہیں جن میں کووڈ 19 کے خلاف اس دوا کی افادیت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ خصوصاً چین سے بھی بڑے پیمانے پر اِس دوا کے مثبت نتائج موصول ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

اس کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں 152 مختلف کلینکل ٹرائلز کے دوران کورونا وائرس کے 24 سو مریضوں کا بھی اِس دوا سے علاج کیا جارہا ہے، جن کے نتائج مئی کے پہلے ہفتہ تک موصول ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ اگر سب نتائج ویسے ہی حوصلہ افزا حاصل ہوئے جیسا کہ شگاکو کے ہسپتال میں پائے گئے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ ’’ریمیڈیسیور‘‘ نامی اِس دوا کو طبی ماہرین کی طرف سے کورونا وائرس کے خلاف عام استعمال کے لیے باقاعدہ طور پر منظور کر لیا جائے۔ اِس خبر کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ مئی کے پہلے ہفتے میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے سائنس دانوں کی طرف سے پہلی منظور شدہ دوا ’’ریمیڈیسیور‘‘ کے منظرِعام پر آنے کے کافی روشن امکانات ہیں۔

٭سیکنڈوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا منفرد آلہ :کورونا وائرس کا ٹیسٹ کورونا وائرس کا ٹیسٹ ایک مہنگا سودا ہی نہیں ہے بلکہ وقت طلب کام بھی ہے۔ عموماً کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج آنے کئی گھنٹوں یا ایک سے دو دن بھی لگ سکتے ہیں ۔

شاید اِسی لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین کورونا وائرس کے ٹیسٹ کو ارزاں اور جلدازجلد نتائج دینے والا بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اِس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے کہ ایران کے طبی ماہرین نے فقط پانچ سیکنڈ میں کورونا وائرس کی درست تشخیص کرنے والے منفرد آلہ ایجاد کرلیا ہے۔ مذکورہ آلہ متاثرہ شخص کو 100 میٹر کی دوری سے پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو کہ ایئرپورٹ یا ٹریفک حکام کے پاس گاڑیوں کو چیک کرنے والے انٹینا کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ ایرانی پاس داران انقلاب نے مذکورہ آلے کو 15 اپریل کو ایک چھوٹی سی تقریب میں متعارف کرایا۔ آلے کو متعارف کرانے والی تقریب میں ایرانی پاس داران انقلاب کے کمانڈر جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ مذکورہ آلہ اپنی نوعیت کا منفرد اور اسٹیٹ آف دی آرٹ آلہ ہے جو کہ دنیا میں کسی اور ملک کے پاس نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ آلہ کورونا سے متاثرہ شخص کی نشان دہی 100 میٹر کی دوری سے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ساتھ ہی آلہ کسی بھی ایسے علاقے کی نشان دہی بھی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے جہاں پر کورونا کی نمی موجود ہو، جب کہ یہ آلہ محض 5 سیکنڈ میں نتائج دیتا ہے اور اس کے نتائج کورونا ٹیسٹ سے 80 فی صد ملتے جلتے ہیں۔ یعنی آلہ 80 فی صد درست نشان دہی کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جس شخص میں بھی تشخیص کے لیے یہ منفرد آلہ استعمال ہوگا پھر اُسے بلڈٹیسٹ سمیت دیگر کسی بھی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ آلہ کیس طرح سے اور کیسے کام کرتا ہے ملاحظہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں: https://youtu.be/GjiutzasHTY

٭ایئرکنڈیشنر بھی کورونا وائر س پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے:حال ہی میں چین میں ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ جنوبی چین کے ایک ریستوراں میں جانے والے 3 خاندانوں کے 10 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے پر اس حوالے سے کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا کہ اِن تمام افراد میں کورونا وائرس کے وائرل ذرات کی منتقلی کا بنیادی سبب ایئرکنڈیشنر تھا۔ گوانگزو سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے ہونے والی اس تحقیق کے نتائج جریدے ایمرجنگ انفیکشنز ڈیزیز میں شائع کیے گئے جو کہ امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کا اوپن ایسز جریدہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنوری کے آخر میں گوانگزو شہر کے ایک ریستوراں میں ایئرکنڈیشنر سے ہوا کا مضبوط بہاؤ وائرل ذرات کو 3 میزوں تک پہنچایا۔ محققین نے مشورہ دیا ہے کہ میزوں کے درمیان فاصلے کو بڑھانے اور ہوا کے اخراج کے نظام کو بہتر کرکے اس طرح کے وائرس انفیکشن کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ان 10 مریضوں میں سے ایک 23 جنوری کو ووہان سے واپس آیا تھا، یعنی وہ شہر جہاں سب سے پہلے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا، اس مریض نے اگلے دن ریستوراں میں اپنے خاندان کے 3 افراد کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔

ریستوراں میں کھڑکی نہیں تھی بلکہ ہر منزل پر ایک ایئرکنڈیشنر لگا ہوا تھا، جب کہ2 دیگر خاندان بھی اردگرد کی میزوں پر موجود تھے اور اِن کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ تھا جب کہ اوسطاً ایک گھنٹے تک وہ لوگ وہاں موجود رہے۔ پہلے مریض میں اسی دن بخار اور کھانسی کی علامات سامنے آگئیں اور وہ اسپتال میں داخل ہوگیا۔ اگلے 2 ہفتے میں اس کے خاندان کے مزید 4 افراد، دوسرے خاندان کے 4 اور تیسرے خاندان کے 3 افراد نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ہوگئے۔ تفصیلی تحقیقات کے بعد سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ دوسرے اور تیسرے خاندان میں اس وائرس کے پہنچنے کی وجہ ریستوراں میں موجود پہلا مریض تھا۔

تحقیق کے مطابق وائرس کی ترسیل کے ممکنہ ذرائع کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس کی ممکنہ وجہ ایئرکنڈیشنر کے ذریعے وائرل ہونے والے کورونا وائرس کے ذرات ہی تھے۔

مزید تحقیقی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ وائرل ذرات ایئرکنڈیشنر کے وینٹی لیشن سے پھیلے تھے۔ واضح رہے کہ ہوٹل کی اسی منزل پر پہلے مریض کے ساتھ 73 مزید افراد بھی کھانا کھا رہے تھے مگر ان میں بیماری کی علامات 14 دن کے قرنطینہ میں ظاہر نہیں ہوئیں اور ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہے۔ اسی طرح ریستوراں کے عملے میں سے بھی کوئی متاثر نہیں ہوا۔ محققین کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق ابھی محدود پیمانے پر ہوئی ہے، مگر اِس سے اتنا ضرور معلوم ہوگیا ہے کہ ایئرکینڈیشنر بھی کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو