کورونا سے صحتیاب مریضوں کو دوسرے انفیکشن سے محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت نے چلی اور دیگر ممالک کی جانب سے کورونا سے محفوظ امنیاتی سند اور پاسپورٹ کی سختی سے مخالفت کردی۔

نیویارک: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والے مرض ’کووڈ 19‘ سے تندرست ہونے والے کسی مردوزن کے بارے میں یہ اس مرض سے محفوظ ہونے یا دوبارہ لاحق نہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

اپنے ایک اہم بیان میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بعض ماہرین کے اس تاثر کو رد کردیا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں کورونا سے صرف ایک ہی بار متاثر ہوسکتا ہے۔ جمعے کے روز سائنسی بریفنگ دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ انفیکشن سے صحتیاب ہونے والے فرد کے جسم میں امنیاتی طور پر مرض سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور اس بنیاد پر اسے ’امنیاتی پاسپورٹ‘ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اگر اس ضمن میں احتیاط نہ برتی گئی تو کورونا وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔

’ بعض حکومتیں کسی صحتیاب فرد کے جسم میں موجود اینٹی باڈیز کی بنا پر انہیں کام پر واپس جانے یا پھر بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کا سوچ رہی ہیں۔ اس بنیاد پر انہیں مجازی طور پر ’امنیاتی پاسپورٹ‘ اور ’خطرے سے محفوظ سرٹفکیٹ‘ دینے کی باتیں ہورہی ہیں۔ اس بات کا اب تک کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ کووڈ 19 سے ٹھیک ہونے والے شخص کی اینٹی باڈیز نے اسے دوسرے انفیکشن سے بچالیا ہو۔‘ عالمی ادارے نے اپنے بیان میں کہا۔

اس سے قبل چلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ان باشندوں کو امنیاتی کارڈ دے گا جو کورونا حملے سے صحتیاب ہوچکے ہیں تاکہ وہ ایئرپورٹ پر سفری دستاویز کے ساتھ کارآمد ہوسکیں اور ثبوت کے طور پر دکھائے جاسکیں کہ مریض اب انفیکشن سے آزاد ہوچکا ہے۔ اسی طرح فرانس اور برطانیہ نے بھی اس طریقے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ امریکا میں لاس اینجلس کے میئر نے بھی اس کی جانب اشارہ کیا تھا۔

ادارہ برائے صحت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ قدم قبل ازوقت ہوگا اور یوں اس کے فوائد کے بجائے الٹے نقصانات ہوسکتےہیں۔ ادارے کے مطابق ایسے صحتیاب افراد پر بھرپور تحقیق کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو