عوام آٹا چینی بحران کی فرانزک رپورٹ کی طرح حکومتی امداد کے منتظر ہیں، سراج الحق

میر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ عوام آٹا چینی بحران کی فرانزک رپورٹ کی طرح حکومتی امداد کے بھی منتظر ہیں۔

اپنے ایک بیان میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ آٹا چینی کے بحران کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں نہ لایا گيا تو ایسے بحرانوں پر قابو نہیں پایا جاسکے گا۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ لوگ دیکھ رہےہیں کہ حکومت آٹاچینی مافیاکو پکڑے گی یا پھر ایک نیا یوٹرن لے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے روزے سے ہی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور دکاندار من مانی قیمتیں وصول کررہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ حکومت صرف میڈيا پر پروپیگینڈا کررہی ہے اور دیہاڑی دارمزدوروں کے لیے سرکارکے دروازے، آنکھیں اورکان بند ہیں، محض پروپیگنڈے سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔

خیال رہے کہ چینی اسکینڈل پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے انکوائری کمیشن کو آج فرانزک آڈٹ رپورٹ وزیراعظم کو جمع کرانی تھی۔

انکوائری کمیشن کو مزید 2 ہفتوں کی مہلت مل گئی

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن کو مزید 2 ہفتوں کی مہلت مل گئی ہے اور فرانزک رپورٹ اب 9 مئی کو وزیراعظم کو پیش کی جائے گی البتہ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ معاملہ کابینہ میں جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں چینی بحران پر ایف آئی اےکی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی شوگر مل شامل ہے۔

اس رپورٹ پر وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں کسی بھی کارروائی سے پہلے اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کے نتائج کا منتظر ہوں جو 25 اپریل تک مرتب کر لیے جائیں گے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ عوامی مفادات کا خون کر کے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو