کورونا وائرس کے باعث رمضان المبارک کی پہلی سحری کی رونقیں ماند

سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام ہوٹلز بند تھے، دودھ دہی کی دکانیں بھی بند رہیں۔

کورونا وائرس کو پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث رمضان المبارک میں ہونے والی پہلی سحری کی رونقیں ماند رہیں.

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پہلی سحری پر لاک داؤن کے باعث زیادہ تر ہوٹل بند رہے، چند کھلے ہوٹلز سے صرف پارسل کی اجازت تھی۔

لاہور میں بھی شہر کے تمام ہوٹل بند رہے تاہم تندور کھولنے کی اجازت تھی، وہاں بھی صرف پارسل کا انتظام تھا۔ اس کے علاوہ شہر میں دودھ دہی کی دکانیں بھی کھلی رہیں۔

کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام ہوٹلز بند تھے، دودھ دہی کی دکانیں بھی بند رہیں۔

سندھ کے شہروں حیدرآباد، سکھر اور نوابشاہ میں بھی پہلی سحری پر سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا اور نائٹ کرکٹ میچز بھی نہیں ہوئے۔

حکومتی احکامات کے پیش نظر سخت لاک ڈاؤن کیاگیا کوئی دکان اور ہوٹل نہیں کھولا گیا۔

پشاور میں بیشتر ہوٹلز اور دکانیں بند رہیں، چند ہوٹل کھولے گئے تو پولیس نے بند کروا دیئے لیکن شہرمیں دودھ اور دہی کی دکانیں کی کھلی رہیں۔

کوئٹہ میں بھی بیشتر دکانیں بند رہیں، چند کھلنے والے ہوٹلز پر صرف پارسل کا انتظام دیکھنے میں آیا، دودھ دہی کی دکانیں بھی کھولی گئیں۔

پنجاب کے شہروں گوجرانوالہ اور شکرگڑھ میں کچھ ہوٹل ضرور کھولے گئے لیکن بیٹھ کر کھانے کی ممانعت کے باعث شہریوں کو صرف پارسل پر ہی گزارا کرنا پڑا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو