کورونا مریض کی وینٹی لیٹر پر موت کیوں ہوتی ہے…؟

امریکی ڈاکٹر نے کورونا کے مریضوں کی وینٹی لیٹر پر بڑھتی اموات کا پتا لگالیا۔

امریکی ڈاکٹر رچرڈلیوی ٹن کا کہنا ہےکہ کورونا مریضوں میں نمونیہ کا ابتدا میں پتہ نہ چلنے سے اموات زیادہ ہورہی ہیں، کووڈ نمونیہ کی فوری تشخیص مریض کو وینٹی لیٹر یا موت سے بچاسکتی ہے، شدیدنمونیہ اورسانس میں کمی کے باوجود مریض بہت زیادہ مضطرب نظر نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمونیہ میں آکسیجن کمی کے باوجود شروع میں سانس میں دشواری کا احساس نہیں ہوتا لیکن آکسیجن کی کمی پوری کرنے کے لیے سانس کھینچنے سے ہوادانی کو نقصان پہنچتا ہے، ہوادانی اور پھیپھڑوں کو مسلسل نقصان سے مریض خطرناک مرحلے میں پہنچ جاتا ہے۔

ڈاکٹر رچرڈلیوی ٹن کا کہنا تھا کہ اس خاموش نمونیہ کا کورونا ٹیسٹ کے بغیر طبی آلے سے پتا چلایا جاسکتا ہے، پلس آکزی میٹر انگلی کی پورپرلگا کرآکیسجن کی مقدار اور دھڑکن کاپتہ چلایاجاسکتاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو بھی ابتدا میں آکسیجن کی کمی کا پتا لگانا کارگر ثابت ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو